خواب اور عشق کے اثر سے نکل - فائنڈورا ادب

خواب اور عشق کے اثر سے نکل

نعیم رضا بھٹی

تخلیق کار

خواب اور عشق کے اثر سے نکل
کر نہ تاخیر چشمِ تر سے نکل

پیڑ کو چھوڑ اپنی چھاؤں بنا
کام مشکل نہیں تو ڈر سے نکل

دیکھتا کیا ہے؟ یہ پھٹا کرتا؟
بھاگ یوسف تو اس شہر سے نکل

جس کو ماں باپ کا خیال نہیں
پھینک کر تھوک اس کے گھر سے نکل

تیرے آنسو ہی تیرا زیور ہیں
قدر کر لے رضاؔ مفر سے نکل

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top