Profile
ڈھوک شاہانی (Dhok Shahanni)
ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
تعارف
ڈھوک شاہانی (Dhok Shahanni) ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قدیم اور تاریخی گاؤں ہے جو اپنی زرعی معیشت، مذہبی ہم آہنگی، قدیم روایات اور پُرامن ماحول کی وجہ سے علاقے میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ گاؤں تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور برطانوی دورِ حکومت میں موجودہ شکل میں آباد کیا گیا۔ آج یہ گاؤں ترقی، تعلیم، زراعت اور بیرون ملک مقیم افراد کی وجہ سے مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
محلِ وقوع
ڈھوک شاہانی ضلع منڈی بہاؤالدین کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔
فاصلہ
- منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 13 کلومیٹر مشرق
- تحصیل پھالیہ سے نسبتاً قریب
حدود
- مشرق: مرالہ
- مغرب: چک بساوا
- شمال: ڈھوک داؤد
- جنوب: چروند
یہ گاؤں چاروں اطراف سے زرعی زمینوں اور نہری نظام سے گھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے۔
تاریخ
ڈھوک شاہانی تقریباً 150 سال پرانا گاؤں ہے۔
برطانوی دور حکومت میں ضلع منڈی بہاؤالدین کے مختلف علاقوں کو انتظامی لحاظ سے “چک” اور “ڈھوک” کی شکل میں تقسیم کیا گیا۔ اسی دور میں اس بستی کو بھی “ڈھوک” کی حیثیت دی گئی۔
ابتدائی دور میں یہاں مسلمان، ہندو اور سکھ آباد تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہندو اور سکھ برادری بھارت منتقل ہوگئی جبکہ مسلمان یہاں مستقل آباد رہے۔
چونکہ اس وقت سید خاندان یہاں نمایاں تعداد میں آباد تھا، اس لیے اس گاؤں کو ڈھوک شاہانی (یعنی سیدوں کا ڈھوک) کہا جانے لگا، اور یہی نام آج تک رائج ہے۔
گاؤں میں آج بھی دو قدیم تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو اس کی تاریخی حیثیت کی یادگار ہیں۔
آبادی
گاؤں کی مجموعی آبادی تقریباً 3,000 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ تقریباً 160 رہائشی مکانات موجود ہیں۔
مذہبی صورتحال
گاؤں کی تمام آبادی مسلمان ہے۔
تقریباً:
- 70 فیصد اہلِ سنت (بریلوی)
- 1 فیصد اہلِ سنت (دیوبندی)
- 29 فیصد اہلِ تشیع
یہاں مختلف مکاتب فکر کے لوگ باہمی احترام اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
رقبہ
گاؤں کا کل زرعی رقبہ تقریباً 40 مربعے ہے۔
زمین کی تقسیم تقریباً درج ذیل ہے:
- ورک خاندان — 22 مربعے
- سید خاندان — 12 مربعے
- وڑائچ خاندان — 5.5 مربعے
- چیمہ خاندان — 0.5 مربعہ
رہن سہن
ڈھوک شاہانی کے لوگ سادہ، مہمان نواز، محنتی اور پُرامن طبیعت کے حامل ہیں۔
گاؤں میں امن و امان کی صورتحال عمومی طور پر بہتر ہے اور لوگ باہمی تعاون اور اخوت کی روایات کو برقرار رکھتے ہیں۔
ذرائع آمدن
گاؤں کی معیشت کا بنیادی انحصار زراعت پر ہے، تاہم مختلف شعبوں میں بھی لوگ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اہم ذرائع آمدن
- زراعت
- نجی کاروبار
- سرکاری ملازمت
- پولیس
- تدریس
- حکمت
- بیرون ملک روزگار
تقریباً 250 افراد یورپ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک میں ملازمت یا کاروبار کر رہے ہیں اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔
نمایاں شخصیات
گاؤں کی اہم سماجی شخصیات میں شامل ہیں:
- محمد اشرف ورک
- سکندر حیات ورک
- اختر حیات ورک
- فاروق حیات ورک
- محمد عباس شاہ
- سید عابد شاہ
- مہدی ورک
- اختر چیمہ
- میاں رشید
- محمد عنایت ورک
تعلیم
گاؤں میں بنیادی تعلیمی سہولیات موجود ہیں۔
سرکاری ادارے
- گورنمنٹ پرائمری سکول برائے طلبہ
- گورنمنٹ پرائمری سکول برائے طالبات
اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبہ قریبی شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
مساجد
گاؤں میں مجموعی طور پر پانچ مساجد موجود ہیں جو مختلف محلوں کی مذہبی ضروریات پوری کرتی ہیں۔
قبرستان
گاؤں میں دو مرکزی قبرستان موجود ہیں۔
صحت کی سہولیات
گاؤں میں کوئی سرکاری ہسپتال موجود نہیں۔
قریب ترین سرکاری ہسپتال تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
کاروباری مراکز
گاؤں میں تقریباً 10 دکانیں موجود ہیں جو روزمرہ ضروریات پوری کرتی ہیں۔
علاوہ ازیں ایک اینٹوں کا بھٹہ بھی موجود ہے جو مقامی افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے۔
مواصلاتی سہولیات
تقریباً تمام گھروں میں بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔
- بجلی
- ٹیلی فون
- موبائل نیٹ ورک
- انٹرنیٹ
اہم برادریاں
ڈھوک شاہانی میں درج ذیل برادریاں آباد ہیں:
- ورک
- سید
- گوندل
- وڑائچ
- چیمہ
- بٹ
- مسلم شیخ
- لوہار
- ترکھان
- کمہار
- دیگر خدمت پیشہ خاندان
زرعی پیداوار
یہ علاقہ زرخیز زمینوں پر مشتمل ہے۔
اہم فصلیں اور پیداوار:
- گندم
- چاول
- آلو
- سبزیاں
مشہور پیداوار
ڈھوک شاہانی کے آلو اور تربوز پورے علاقے میں اپنی عمدہ کوالٹی کی وجہ سے مشہور ہیں۔
مزارات اور تاریخی مقامات
گوجھا پیر
گاؤں کا سب سے مشہور مزار گوجھا پیر ہے۔
مقامی روایت کے مطابق ایک نو یا دس سالہ پراسرار بچہ یا بچی اس مقام پر ظاہر ہوئی اور کچھ عرصے بعد غائب ہوگئی۔ بعد میں اس مقام کو مقدس سمجھتے ہوئے یہاں مزار تعمیر کیا گیا۔
ہر سال ہزاروں زائرین یہاں آتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور منتیں پوری ہونے کی امید سے نذرانے پیش کرتے ہیں۔
دیگر مقامات
- پکی مسجد
- کالاں گھراں
قدرتی ماحول
گاؤں چاروں اطراف نہروں سے گھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا ماحول سرسبز اور خوشگوار رہتا ہے۔
یہاں ایک خوبصورت مالٹے کا باغ بھی موجود ہے جبکہ چاروں جانب سرسبز کھیت اس گاؤں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
کھیل اور مشاغل
نوجوانوں کے پسندیدہ کھیل:
- کرکٹ
- شوٹنگ بال
- گھڑ سواری
اہم خاندانوں کی مختصر تاریخ
سید خاندان
یہ گاؤں میں آباد ہونے والا پہلا خاندان سمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں گاؤں کی تمام زمین سید خاندان کی ملکیت تھی، لیکن بعد میں مالی مشکلات کے باعث انہوں نے اپنی زمین کا کچھ حصہ دیگر خاندانوں کو فروخت یا منتقل کر دیا۔
مرحوم حیدر شاہ اس خاندان کی سب سے نمایاں شخصیت تھے، جو اپنی مہمان نوازی، شرافت اور خدمت خلق کی وجہ سے پورے علاقے میں معروف تھے۔ ان کے جنازے میں علاقے کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔
ورک خاندان
ورک خاندان کا تعلق اصل میں نوشہرہ ورکاں سے تھا۔
ابتدائی دور میں یہ سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے، بعد ازاں اسلام قبول کیا اور اپنے مویشیوں اور سرمایہ کے ساتھ ڈھوک شاہانی منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے سید خاندان سے زمین حاصل کرکے مستقل سکونت اختیار کی۔
وڑائچ خاندان
وڑائچ خاندان بھی بعد میں اس گاؤں میں آباد ہوا۔
ابتدائی زمانے میں ان کا ذریعہ معاش بندروں کے کھیل دکھانا اور مختلف دیہات میں جا کر عوام کی تفریح کرنا تھا، جس سے وہ اپنی روزی کماتے تھے۔
ڈھوک شاہانی ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قدیم، تاریخی، زرعی اور پُرامن گاؤں ہے۔ اس کی شناخت قدیم تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، زرخیز زمین، نہری نظام، مہمان نواز عوام، بیرون ملک مقیم افراد، معیاری زرعی پیداوار اور مضبوط سماجی روایات سے وابستہ ہے۔ ترقی پذیر انفراسٹرکچر، تعلیم کے فروغ اور بیرون ملک مقیم افراد کی معاشی معاونت کی بدولت یہ گاؤں مستقبل میں مزید ترقی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






