Profile
حضرت مولانا محمد یوسفؒ
ممتاز عالمِ دین، مدرس، مصلحِ معاشرہ اور روحانی شخصیت
حضرت مولانا محمد یوسفؒ کا شمار ضلع منڈی بہاؤالدین کے اُن جلیل القدر علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیمِ قرآن، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی فلاح کے لیے وقف کر دی۔ آپ 1940ء میں گاؤں ریڑکا زیریں میں پیدا ہوئے اور علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور خدمتِ خلق کے اعلیٰ اوصاف کے باعث اپنے علاقے میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
مولانا محمد یوسفؒ کے والد محترم حافظ محمد صدیقؒ ایک دیندار اور علمی شخصیت تھے۔ آپ نے بچپن ہی میں اپنے والد گرامی سے قرآنِ مجید حفظ کیا اور کم عمری میں حافظِ قرآن بن گئے۔
بعد ازاں آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ میں داخلہ لیا، جہاں سے درسِ نظامی کی تکمیل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔ دینی علوم میں گہری بصیرت، علمی شغف اور مسلسل مطالعہ آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔
تدریسی اور دینی خدمات
مولانا محمد یوسفؒ نے تقریباً ساٹھ سال سے زائد عرصہ درس و تدریس، وعظ و نصیحت اور دعوت و اصلاح کے میدان میں گزارا۔ اس طویل علمی سفر کے دوران انہوں نے ہزاروں طلبہ کی تربیت کی جبکہ سینکڑوں شاگرد آج بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دینی، تعلیمی اور تبلیغی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
آپ کے دروس علمی گہرائی، سادگی اور اخلاص کا حسین امتزاج ہوتے تھے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے آپ کے علمی حلقوں اور اصلاحی بیانات سے استفادہ کرنے آتے تھے۔
عبادت اور روحانی زندگی
مولانا محمد یوسفؒ کی زندگی عبادتِ الٰہی سے بھرپور تھی۔ روایت کے مطابق آپ نے بارہ سال کی عمر میں تہجد کی نماز کا معمول شروع کیا اور 2016ء میں اپنی وفات تک اسے کبھی ترک نہیں کیا۔
آپ تہجد میں طویل قیام فرماتے اور نماز میں روزانہ تقریباً ایک بارہ منزل قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ ذکر، تلاوت اور نوافل آپ کی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ تھے۔
علمی ذوق اور مطالعہ
مولانا محمد یوسفؒ غیر معمولی علمی ذوق رکھتے تھے۔ آپ روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے عربی کتب کے مطالعے میں صرف کرتے تھے۔ آپ کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں نایاب اور مستند عربی و دینی کتابیں موجود تھیں، جو ان کے علم دوستی اور تحقیق پسندی کی روشن مثال ہے۔
مطالعے کے ساتھ ساتھ آپ روزانہ تین سے چار گھنٹے تدریس بھی فرماتے تھے اور طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم دیتے تھے۔
سماجی اور فلاحی خدمات
مولانا محمد یوسفؒ صرف ایک عالمِ دین ہی نہیں بلکہ ایک فعال سماجی رہنما بھی تھے۔ آپ نے اپنے گاؤں ریڑکا زیریں کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کی مسلسل کوششوں اور عوامی جدوجہد کے نتیجے میں گاؤں میں:
- بجلی کی سہولت فراہم ہوئی
- تعلیمی اداروں کے قیام میں پیش رفت ہوئی
- نکاسیٔ آب کے مسائل حل ہوئے
- پختہ سڑکوں کی تعمیر ممکن ہوئی
آپ نے ہمیشہ دینی خدمت کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا اور عملی طور پر اس کا ثبوت دیا۔
شخصیت اور کردار
مولانا محمد یوسفؒ نہایت سادہ مزاج، متقی، خوش اخلاق اور علم دوست شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی گفتگو میں اخلاص، کردار میں عاجزی اور زندگی میں نظم و ضبط نمایاں تھا۔ دین اور دنیا دونوں کے معاملات میں آپ کی رہنمائی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
وفات اور علمی ورثہ
2016ء میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، تاہم آپ کے شاگرد، علمی خدمات، دینی ادارے اور سماجی کام آج بھی آپ کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
ریڑکا زیریں اور گرد و نواح کے لوگ آج بھی حضرت مولانا محمد یوسفؒ کو ایک ایسے عالمِ دین، مصلحِ معاشرہ اور محسنِ علاقہ کے طور پر یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی خدمت اور عوام کی فلاح کے لیے وقف کر دی۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد یوسفؒ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی دینی و سماجی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






