Profile
واسو (انگلش: Wasu) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک گاؤں اور یونین کونسل ہے۔ یہ منڈی بہاؤالدین شہر کے جنوب میں واقع ہے۔ سطحِ سمندر سے اس کی اوسط بلندی 221 میٹر (728 فٹ) ہے۔
واسو کی تاریخ
واسو ضلع منڈی بہاؤالدین کے قدیم ترین اور تاریخی دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ گاؤں اپنی قدامت، زرعی اہمیت، گوندل برادری کی اکثریت اور علاقائی تاریخ میں نمایاں کردار کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ منڈی بہاؤالدین شہر کے پھیلاؤ اور شہری آبادی کے بڑھنے کے ساتھ واسو آج ایک بڑے اور ترقی یافتہ قصبے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایات اور شجرہ ہائے نسب کے مطابق واسو، گوندل قبیلے کے بزرگ کلاس (کلاس خان) کے بیٹے واسو خان گوندل کے نام پر آباد ہوا۔ واسو خان نے اس علاقے میں مستقل سکونت اختیار کی اور بعد ازاں اس کی نسل یہاں پھیلتی گئی، جس کے نتیجے میں یہ بستی “واسو“ کے نام سے مشہور ہوئی۔
روایت کے مطابق واسو خان ابتدائی طور پر موجودہ ڈیرہ ٹبہ کے قریب آ کر آباد ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی اولاد نے اردگرد کی زمینوں کو آباد کیا اور ایک مستقل دیہی معاشرہ وجود میں آیا۔ واسو کی اولاد بعد میں مختلف شاخوں میں تقسیم ہوئی جن میں نمایاں طور پر:
- جلانہ
- دریانہ
- کلسانہ
شامل ہیں، جو آج بھی واسو اور اس کے گردونواح میں آباد ہیں۔
آبادی اور برادریاں
ابتدائی دور میں واسو بنیادی طور پر گوندل برادری کی بستی تھی، تاہم وقت کے ساتھ مختلف برادریاں یہاں آباد ہوتی گئیں۔ بعد کے ادوار میں:
- للہ
- رانجھا
- چامی
- کلیار
اور دیگر خاندان بھی یہاں آ کر آباد ہوئے۔
برطانوی دور اور اس سے قبل واسو میں ہندو اور سکھ برادریوں کی بھی بڑی تعداد آباد تھی۔ ان میں سے اکثر تجارت، مالیات اور کاروبار سے وابستہ تھے۔ مقامی روایات کے مطابق بہت سی زرعی اراضی رہن اور مالی لین دین کے ذریعے ان کے قبضے میں چلی گئی تھی۔
تقسیمِ ہند 1947ء کے بعد ہندو اور سکھ آبادی ہندوستان منتقل ہوگئی اور ان کی چھوڑی ہوئی زمینوں اور جائیدادوں پر مختلف مسلم مہاجر خاندان آباد ہوئے جن میں:
- گجر
- ارائیں
- جٹ
برادریاں نمایاں ہیں۔
قلعہ بدر سنگھ (موجودہ قلعہ گجراں)
واسو کی تاریخ میں قلعہ بدر سنگھ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تقسیم سے قبل یہ سکھ آبادی اور ان کی معاشی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کا نام تبدیل ہو کر قلعہ گجراں پڑ گیا، جو آج بھی ماضی کی یادگار کے طور پر موجود ہے۔
رقبہ اور زرعی اہمیت
حد بست نمبر 39 کے مطابق واسو کا کل رقبہ 3348 ایکڑ ہے۔
اس میں تقریباً تین پانچواں (3/5) حصہ واسو کی اولاد کے پاس ہے جبکہ باقی زمین مختلف مہاجر خاندانوں اور دیگر برادریوں کے زیرِ ملکیت ہے۔
واسو کی زمین انتہائی زرخیز سمجھی جاتی ہے اور یہاں صدیوں سے زراعت بنیادی ذریعہ معاش رہی ہے۔
اہم فصلوں میں:
- گندم
- چاول
- کماد
- چارہ
- سبزیاں
شامل ہیں۔
آبادی اور شرح خواندگی
1935ء کے پنجاب گزیٹئر کے مطابق:
- کل آبادی: 4,952 افراد
- کل مکانات: 904
- خواندہ افراد: 735
اس دور میں یہ شرح خواندگی علاقے کے دیگر دیہات کے مقابلے میں نسبتاً بہتر سمجھی جاتی تھی۔
وقت کے ساتھ منڈی بہاؤالدین شہر کی توسیع، بہتر مواصلاتی نظام اور معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
موجودہ اندازوں کے مطابق واسو اور اس کے ملحقہ علاقوں کی مجموعی آبادی تقریباً 69,000 افراد تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے یہ ضلع کی بڑی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔
برطانوی دور اور تعمیرات
برطانوی دور حکومت میں واسو انتظامی اور زرعی لحاظ سے اہم مقام حاصل کر گیا تھا۔ اس زمانے میں متعدد سرکاری اور رہائشی عمارتیں تعمیر ہوئیں۔
ان میں واسو بنگلہ ایک تاریخی عمارت کے طور پر معروف ہے، جو اس دور کی طرزِ تعمیر اور انتظامی اہمیت کی یادگار سمجھی جاتی ہے۔
جغرافیہ
واسو زرخیز زرعی زمین پر واقع ہے۔ یہاں آبپاشی کا ایک مربوط نظام موجود ہے جس میں تین اہم نہریں شامل ہیں۔ گاؤں کا محلِ وقوع اس اعتبار سے اہم ہے کہ منڈی بہاؤالدین کا نیا ضلعی کمپلیکس جزوی طور پر واسو اور ملحقہ علاقوں کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔
انتظامی تقسیم
واسو یونین کونسل میں درج ذیل علاقے شامل ہیں:
• چک نمبر 2 (شمال)
• چک نمبر 2 (جنوب)
• قلعہ گجران
• محلہ رحمان پورہ
• احسان آباد
• للہ ٹاؤن
• تاج پورہ
• نور پور گجران
• ملحقہ ڈیرے اور نئی آبادیاں
آبادی اور معاشرہ
واسو کی آبادی مختلف ذاتوں پر مشتمل ہے، جن میں نمایاں طور پر گوندل، آرائیں، گجر، رانجھا اور ترار شامل ہیں۔ مقامی آبادی پرامن، مذہبی اور باہمی تعاون کے جذبے سے سرشار سمجھی جاتی ہے۔
معیشت
گاؤں کی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر زراعت، مقامی کاروبار اور بیرونِ ملک روزگار پر ہے۔ اہم زرعی اجناس میں درج ذیل شامل ہیں:
• گندم
• گنا
• چاول
• آلو
• سبزیاں
تعلیم
واسو میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ نمایاں تعلیمی اداروں میں گورنمنٹ پبلک ہائی اسکول اور گورنمنٹ گرلز اسکول شامل ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں تعلیم کے رجحان میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
مذہبی مقامات
گاؤں میں متعدد مساجد اور مزارات واقع ہیں، جن میں درج ذیل دربار قابلِ ذکر ہیں:
• دربار پیر عالم شاہ
• دربار میاں واڈا
• دربار دائم اقبال دائم
• دربار پیر بہار شاہ
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






