سویہ (ضلع منڈی بہاؤالدین)
سویہ (انگریزی: Sivia) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قدیم، تاریخی اور زرعی لحاظ سے اہم گاؤں ہے۔ یہ گاؤں اپنی قدیم روایات، زرخیز زمین، نہری نظام، مہمان نوازی، کبڈی اور کشتی کے نامور کھلاڑیوں، مذہبی مراکز اور سماجی ہم آہنگی کی وجہ سے ضلع بھر میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔
بنیادی معلومات
| معلومات | تفصیل |
|---|---|
| ملک | پاکستان |
| صوبہ | پنجاب |
| ضلع | منڈی بہاؤالدین |
| تحصیل | منڈی بہاؤالدین |
| زبانیں | پنجابی، اردو |
| آبادی | تقریباً 10,000 افراد |
| بنیادی پیشہ | زراعت، مویشی بانی، بیرون ملک روزگار |
| ٹائم زون | PST (UTC+5) |
جغرافیہ اور محلِ وقوع
سویہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے اہم دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ گاؤں کی موجودہ حدود درج ذیل ہیں:
- شمال: شاہ کُلی
- مشرق: شیخو چک
- مغرب: چک شیر محمد
- جنوب مشرق: سندھانوالہ
- جنوب مغرب: ڈھوک مراد
گاؤں زرخیز زرعی علاقے میں واقع ہے اور یہاں سے ایک اہم نہری ہیڈ ریگولیٹر موجود ہے جہاں سے ایک بڑی اور تین ذیلی نہریں نکلتی ہیں۔ انہی نہروں کے ذریعے نہ صرف سویہ بلکہ گردونواح کے متعدد دیہات کی زمینیں سیراب ہوتی ہیں۔ پھالیہ کی جانب جانے والی نہر بھی اسی ہیڈ سے نکلتی ہے۔
تاریخ
مقامی روایات کے مطابق موجودہ گاؤں سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر شمال میں ایک قدیم ٹیلے پر ابتدائی آبادی قائم تھی۔ اس علاقے کی زمین حاصلاں کے میانوں کی ملکیت تھی جبکہ باگڑی خاندان ان کے مرید اور معاون تھے۔
روایت کے مطابق مغل شہنشاہ اکبر اور دُلا بھٹی (رائے عبداللہ خان بھٹی راجپوت) کے درمیان ہونے والے تنازعات اور جنگوں کے دوران دُلا بھٹی کی نسل سے تعلق رکھنے والے سوی سنگھ مارے گئے۔ بعد ازاں ان کی بیوہ اپنے تین بیٹوں:
- محمدا
- نورا
- گودھا
کے ساتھ اس علاقے میں آ کر آباد ہوئی۔ بعد میں وہ اسلام قبول کر گئی اور اس کی اولاد نے موجودہ گاؤں کی بنیاد رکھی۔
گاؤں کی زمین کو بعد ازاں چار حصوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے تین حصے تین بھائیوں اور ایک حصہ باگڑی خاندانوں کو دیا گیا تاکہ وہ گاؤں کے دفاع اور نگرانی کا فریضہ انجام دے سکیں۔
تقسیم ہند سے قبل یہاں مسلمان، ہندو اور سکھ آباد تھے۔ 1947ء کے بعد ہندو اور سکھ بھارت منتقل ہو گئے جبکہ ان کی جگہ گجر خاندان آ کر آباد ہوئے۔ بعد میں گوندل، وڑائچ اور تارڑ برادریوں کے افراد بھی یہاں سکونت پذیر ہوئے۔
آبادی اور برادریاں
گاؤں کی آبادی تقریباً دس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
نمایاں برادریاں:
- بھٹی ،گجر ،گوندل ،وڑائچ ،تارڑ اور باگڑی
یہ تمام برادریاں باہمی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ رہتی ہیں۔
معیشت
سویہ کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر مشتمل ہے۔
اہم فصلیں
- گندم ، چاول ،گنا ،مکئی ،چارہ اور سبزیاں
بیرونِ ملک مقیم افراد خصوصاً یورپ، برطانیہ، اٹلی، اسپین اور خلیجی ممالک میں مقیم باشندے بھی ترسیلاتِ زر کے ذریعے مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کھیل اور ثقافت
سویہ پنجاب بھر میں کبڈی، کشتی اور روایتی کھیلوں کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔
نامور پہلوان اور کھلاڑی
- محمد کشمیری (محندا)
- حیدر سویہ
- محمد حسین محندا
- اصغر
- نادر
- منظور
- اکرم
- نواز باگڑی
- مہندی خان بھٹی
- اختر ولد لال باگڑی
- غلام رسول موچی (کاشو)
- عنایت پھیلے دا
- جواد افضل باگڑی (انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی، جرمن کبڈی ٹیم)
- شفقت
- قیصر محمود گجر
باکسنگ
گاؤں کے معروف نوجوان کھلاڑی شجاعت منظور گوندل بین الاقوامی سطح پر باکسنگ کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اٹلی کی قومی باکسنگ ٹیم سے وابستہ رہے ہیں۔
کرکٹ، والی بال اور گھڑ سواری بھی مقبول کھیلوں میں شامل ہیں۔
تاریخی شخصیات
قیامِ پاکستان سے قبل گاؤں کے معروف نمبردار بشیر احمد بھٹی اپنی غیر معمولی جسمانی قوت، لمبی چھلانگوں اور کبڈی کے کھیل کی وجہ سے پورے خطے میں مشہور تھے۔
مقامی روایات کے مطابق وہ بیلوں کی جوڑی کے اوپر سے چھلانگ لگا لیتے تھے۔ ان کی کھیلوں میں خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے انہیں “برڈ آف انڈیا” کا اعزاز اور نئی دہلی سے طلائی تمغہ عطا کیا تھا۔
تعلیم
گاؤں میں تعلیمی سہولیات نسبتاً بہتر ہیں۔
سرکاری ادارے
- گورنمنٹ ہائی اسکول (لڑکے)
- گورنمنٹ ہائی اسکول (لڑکیاں)
نجی ادارے
- تین نجی اسکول
نمایاں تعلیمی شخصیت
ہیڈ ماسٹر بشیر صاحب کو گاؤں میں تعلیمی خدمات کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے متعدد نوجوانوں کی تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔
صحت
گاؤں میں:
- ایک قدیم سرکاری ہسپتال
- جانوروں کے علاج کے لیے ویٹرنری ہسپتال
موجود ہیں، جو طویل عرصے سے مقامی آبادی کی خدمت کر رہے ہیں۔
مذہبی مراکز
گاؤں میں کل آٹھ مساجد موجود ہیں جن میں:
- تین جامع مساجد
شامل ہیں جہاں دینی تعلیم کا بھی انتظام ہے۔
علاوہ ازیں:
- جامعۃ البنات
- دربار سید رسول
علاقے کے معروف مذہبی مراکز شمار ہوتے ہیں۔
سماجی زندگی اور مہمان نوازی
سویہ اپنی چوپالوں (داروں) اور روایتی مہمان نوازی کے لیے پورے پنجاب میں شہرت رکھتا ہے۔ گاؤں کا مرکزی تاریخی دارا کئی دہائیوں سے مسافروں اور مہمانوں کی میزبانی کا مرکز رہا ہے جہاں مستقل طور پر مہمانوں کے لیے چارپائیاں اور دیگر سہولیات موجود رہتی تھیں۔
گاؤں کے باشندے امن پسند، ملنسار، روادار اور باہمی احترام کے جذبے سے سرشار سمجھے جاتے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق گاؤں میں خاندانی دشمنی یا بڑے سماجی تنازعات نہ ہونے کے برابر ہیں، جسے اس کی نمایاں سماجی خصوصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
سویہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے ان تاریخی دیہات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے زرعی ترقی، سماجی ہم آہنگی، مہمان نوازی، مذہبی خدمات اور کھیلوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ خصوصاً کبڈی، کشتی اور فلاحی روایات نے اس گاؤں کو علاقائی سطح پر ایک منفرد شناخت عطا کی ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






