سلیماں
سلیماں پنجاب کے ضلع منڈی بہاءالدین کی تحصیل پھالیہ کا ایک معروف، قدیم اور نسبتاً بڑا گاؤں ہے، جو منڈی بہاءالدین سے تقریباً 28 کلومیٹر مشرق اور پھالیہ سے 8 کلومیٹر جنوب مشرق کی سمت واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ بستی اپنے قرب و جوار میں ایک مرکزی دیہی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے ملحقہ دیہات کے لیے سماجی، معاشی اور جزوی تعلیمی سرگرمیوں کی رہنمائی ہوتی ہے۔ گاؤں کی کل آبادی تقریباً 4,000 نفوس پر مشتمل ہے، جو مختلف برادریوں اور پیشہ ور طبقات پر مبنی ایک متوازن سماجی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہے۔
جغرافیہ و محلِ وقوع:
سلیماں ایک زرعی خطے میں واقع ہے، جہاں زمین زرخیز اور کاشت کے لیے موزوں ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت اس وجہ سے بھی نمایاں ہے کہ یہ کئی دیہات کے درمیان ایک رابطہ نقطہ (nodal settlement) کے طور پر کام کرتا ہے۔
قریبی دیہات:
- شمال: گجّن
- جنوب: چک کمال
- شمال مشرق: گھنیاں
- شمال مغرب: کوٹ نبی شاہ
- مغرب: کوٹ حامد شاہ
آبادی و سماجی ساخت
گاؤں کی آبادی متنوع برادریوں پر مشتمل ہے، جن میں چند نمایاں ذاتیں درج ذیل ہیں:
- تارڑ: 60%
- سید: 15%
- راجپوت: 7%
- ساہی: 3%
- وڑائچ: 3%
- دیگر: 5%
یہ تناسب گاؤں کی سماجی حرکیات، قیادت کے ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں پر واضح اثر ڈالتا ہے۔
تعلیم:
سلیماں میں شرحِ خواندگی اوسط درجے کی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں تعلیمی رجحان میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ گاؤں میں بنیادی و ثانوی سطح کی تعلیم کے لیے درج ذیل ادارے موجود ہیں:
- گورنمنٹ ہائی اسکول برائے طلبہ (سلیماں)
- گورنمنٹ ایلمنٹری اسکول برائے طالبات
- متعدد نجی تعلیمی ادارے، جو جدید تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
یہ ادارے گاؤں میں تعلیمی شعور بیدار کرنے اور نئی نسل کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
معاش و معیشت :
سلیماں کی معیشت بنیادی طور پر زرعی بنیادوں پر استوار ہے، جہاں اکثریت کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ:
- ایک حصہ سرکاری ملازمتوں میں خدمات انجام دے رہا ہے
- قابلِ ذکر تعداد میں افراد بیرونِ ملک (خصوصاً مشرق وسطیٰ و یورپ) میں روزگار سے منسلک ہیں، جو ترسیلاتِ زر کے ذریعے مقامی معیشت کو تقویت دیتے ہیں
کھیل و زراعت:
گاؤں میں گندم، چاول اور کماد اہم فصلیں ہیں جبکہ مقامی نوجوان کرکٹ، فٹبال، والی بال، کبڈی اور گلی ڈنڈا جیسے کھیلوں میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں۔
مذہبی و سماجی ڈھانچہ :
سلیماں میں 3 مساجد موجود ہیں، جو نہ صرف عبادت بلکہ سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہیں۔ مذہبی تہوار اور سماجی تقریبات گاؤں کی ثقافتی شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔
نمایاں شخصیات:
اعلیٰ تعلیم یافتہ و پیشہ ور افراد
| محمد عارف تارڑ (M.Sc فزکس) | مدثر حسن تارڑ (M.Sc کمپیوٹر سائنس) | محمد رضوان خالد (M.Sc فزکس) |
| شہباز حسین تارڑ (سول جج) | پرویز حسین تارڑ (ایڈووکیٹ) | صفدر حسین تارڑ (ایڈووکیٹ) |
| اشفاق تارڑ (ایڈووکیٹ، برطانیہ) | اسفند یار تارڑ (ایڈووکیٹ) | ارسلان شان تارڑ (ایڈووکیٹ) |
| تیمور پرویز تارڑ (ایڈووکیٹ) | بابر ریاض ساہی (ایڈووکیٹ) | خان ملک تارڑ (ایڈووکیٹ) |
| اختر اقبال سیال (MBA) | چوہدری کاشف تارڑ (نمبردار) | پروفیسر راشد عباس |
| محمد صالحون (نمبردار) | چوہدری نذر محمد | سید تصور عباس (ایم اے ، بی ایڈ ، ایس ایس ٹی) |
| شاہد عباس (پی ایچ ڈی سکالر، فوڈ انسپکٹر، ایل ایل بی، ایل ایل ایم) | مجاہد عباس (ایم اے انگلش، ایل ایل بی ) | سید طاہر عباس (ایل ایل ایم ، یوکے) |
| ثاقب نواز (ایم اے ) |
سماجی و سیاسی شخصیات
| چوہدری شان علی تارڑ (مرحوم) | چوہدری نواب خان تارڑ (سابق ایم پی اے) | چوہدری فتح محمد تارڑ |
| چوہدری صفدر تارڑ | چوہدری پرویز تارڑ | چوہدری محمد عارف تارڑ |
| چوہدری شہباز تارڑ |
سلیماں( ایک روایتی مگر ترقی کی جانب گامزن دیہی بستی ہے، جہاں زراعت، تعلیم اور بیرونِ ملک روزگار معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔ گاؤں کی سماجی ہم آہنگی، تعلیمی پیش رفت اور نمایاں شخصیات کی موجودگی اسے علاقے میں ایک اہم اور باوقار مقام عطا کرتی ہے۔ مستقبل میں اگر تعلیمی و بنیادی ڈھانچے میں مزید بہتری لائی جائے تو سلیماں ایک مثالی دیہی ماڈل کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





