Profile
مرالہ (Murala)
مرالہ ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان کا ایک بڑا اور تاریخی گاؤں ہے۔ یہ ضلع منڈی بہاؤالدین سے تقریباً 25 کلومیٹر مشرق، تحصیل پھالیہ سے تقریباً 12 کلومیٹر جنوب مشرق اور تاریخی قصبہ چلیانوالہ سے تقریباً 10 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ گاؤں کے قریب رسول۔قادرآباد لنک کینال گزرتی ہے، جبکہ چاروں جانب زرعی رقبہ اور سرسبز کھیت اس کے قدرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔
تاریخ
مقامی روایات کے مطابق مرالہ کی بنیاد مغلیہ دور میں رکھی گئی۔ بعض روایات کے مطابق شہنشاہ اکبر کے دور میں شاہی خاندان کے دو بچوں کی پرورش اس مقام پر ہوئی، جس کی وجہ سے اس علاقے کو “تخت مرالہ” بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان روایات کے مستند تاریخی شواہد محدود ہیں، تاہم یہ مقامی تاریخ اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ روایت کے مطابق گاؤں کے ابتدائی آبادکار وڑائچ (Warraich) برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
محل وقوع
مرالہ کے شمال میں ڈھوک کاسب، ڈھوک جوڑی، ڈھوک مراد اور سہاران سمیت متعدد دیہات واقع ہیں، جبکہ مشرق میں رسول پور اور ہیلان، جنوب میں بگنوالہ اور ڈبرجی، اور مغرب میں چورنڈ، جیسک اور ڈھوک شاہانی واقع ہیں۔
آبادی اور سماجی ڈھانچہ
مرالہ کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ گاؤں میں وڑائچ، گوندل، سپرا، گجر، جنجوعہ، مغل، قریشی، بھٹی، میرزا، ملک، آرائیں، مسلم شیخ اور دیگر برادریاں آباد ہیں۔ مقامی آبادی باہمی رواداری، مہمان نوازی اور پرامن طرزِ زندگی کے لیے معروف ہے، جس کے باعث مرالہ کو ضلع میں امن پسند آبادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
معیشت
گاؤں کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر مشتمل ہے، تاہم سرکاری ملازمتیں، تدریس، آبپاشی، ماہی پروری، مزدوری اور بیرون ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر بھی اہم معاشی ذرائع ہیں۔ بڑی تعداد میں مقامی افراد سعودی عرب، یورپ، امریکہ، افریقہ اور دیگر ممالک میں ملازمت یا کاروبار سے وابستہ ہیں۔
تعلیم
مرالہ میں تعلیمی سہولیات نسبتاً بہتر ہیں۔ یہاں دو سرکاری ہائی سکول برائے طلبہ، ایک گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول برائے طالبات، ایک انٹرمیڈیٹ ادارہ، متعدد نجی تعلیمی ادارے، ایک مدرسہ اور کئی مساجد موجود ہیں۔ نجی شعبے میں غزالی ماڈل سکول، فاروقی ماڈل سکول اور وژن ماڈل سکول نمایاں تعلیمی ادارے ہیں۔
صحت
گاؤں میں ایک رورل ہیلتھ سینٹر موجود ہے، تاہم مقامی آبادی کے مطابق طبی عملے کی تعداد آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد میڈیکل سٹور اور بنیادی طبی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔
زراعت
مرالہ کی زمین زرخیز ہے اور یہاں گندم، دھان، گنا، مکئی، باجرہ، جوار، برسیم، تمباکو، آلو اور دیگر موسمی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔
مواصلات
گاؤں میں بجلی، موبائل فون، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات سمیت جدید مواصلاتی سہولیات دستیاب ہیں۔
ثقافت
مرالہ کی ثقافت دیہی روایات اور جدید سماجی رجحانات کا امتزاج ہے۔ گاؤں میں اجتماعی بیٹھکیں (چوپال) سماجی روابط کا اہم مرکز ہیں جبکہ نوجوان کھیلوں اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔
تاریخی و مذہبی مقامات
گاؤں کے وسط میں ہندو دور کی تین قدیم عمارتیں موجود ہیں جنہیں تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ حضرت بابا عبدالسلامؒ اور شیر شاہ سے منسوب مزارات بھی مقامی مذہبی و ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔
نمایاں شخصیات
- چوہدری محمد اقبال شفاقت (سابق ناظم یونین کونسل)
- چوہدری مظہر حسین وڑائچ
- چوہدری مہدی سپرا
- چوہدری محمد بوٹا (نمبر دار)
- چوہدری ولایت حسین وڑائچ (سابق رکن ضلع کونسل)
- ڈاکٹر ناصر اقبال وڑائچ (ماہر باغبانی، ڈائریکٹر بائیولوجیکل سائنس ریسرچ)
- ڈاکٹر اعجاز احمد (سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ)
- ڈاکٹر بشیر احمد بھٹی
- ڈاکٹر نواز احمد وڑائچ
- محمد اعظم وڑائچ (انجینئر)
- زبیر احمد وڑائچ (ٹیکسٹائل انجینئر)
- محمد افضل بھٹی (پاکستان ٹیلی وژن)
- محمد اکرم بھٹی
- محمد افضل (ونگ کمانڈر، پاک فضائیہ)
- مظہر اقبال وڑائچ
- ارشد منیر (ایس ڈی او واپڈا)
- راشد منیر (ایس ڈی او)
- مرحوم بشیر احمد (سابق ہیڈ ماسٹر)
- ذوالکفل وڑائچ (مرالہ کے پہلے سی ایس ایس افسر)
- منیر احمد اقبال
- محمد زمان وڑائچ (الیکٹریکل انجینئر)
کھیل
کرکٹ، والی بال اور دیگر روایتی دیہی کھیل نوجوانوں میں مقبول ہیں، جبکہ رسول۔قادرآباد لنک کینال بھی اس علاقے کی جغرافیائی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






