پروفیسر ظفر اقبال رانجھا
تعارف
پروفیسر ظفر اقبال رانجھا کا شمار وفاقی محکمۂ تعلیم کی ان ممتاز علمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے تدریس، تحقیق، تاریخ، قانون اور صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اس وقت فیڈرل گورنمنٹ انٹر کالج جہلم کینٹ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر (گریڈ 19) خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی علمی، تحقیقی اور تدریسی صلاحیتوں نے انہیں اپنے شعبے میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔
خاندانی پس منظر
پروفیسر ظفر اقبال رانجھا کا تعلق ضلع منڈی بہاؤالدین کے معروف گاؤں پانڈوال (ڈیرہ چگتے) کے ایک تعلیم یافتہ اور معزز رانجھا خاندان سے ہے۔
ان کے والد چوہدری مختار احمد رانجھا پاک فوج سے جونیئر کمیشنڈ آفیسر (JCO) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
ان کے خاندان کے دیگر نمایاں افراد میں:
- پروفیسر محمد ریاض رانجھا (سابق پرنسپل و پروفیسر، کامرس کالج منڈی بہاؤالدین)
- جناب فیض احمد رانجھا (جج)
- غلام عباس رانجھا (سابق ماہرِ تعلیم، موجودہ مقیم اسکاٹ لینڈ)
- میجر شیراز حیدر رانجھا (پاک فوج)
شامل ہیں۔
ان کی اہلیہ بھی وفاقی حکومت میں گریڈ 19 کی افسر اور ماہرِ تعلیم ہیں۔
تعلیمی سفر
پروفیسر ظفر اقبال رانجھا نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں پانڈوال سے حاصل کی۔ بعد ازاں والد کی تعیناتی کے باعث کھاریاں منتقل ہوئے جہاں ایف جی سکول اور کالج کھاریاں کینٹ سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔
انہوں نے انٹرمیڈیٹ میں کالج کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا جس کے نتیجے میں انہیں لاہور کے تاریخی ادارے فورمین کرسچن کالج (FC College) میں اسکالرشپ پر داخلہ ملا۔
اعلیٰ تعلیم کے مراحل:
- گریجویشن: فورمین کرسچن کالج لاہور
- ماسٹرز (تاریخ): قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد
- ایل ایل بی: پنجاب یونیورسٹی لاہور
- ایم فل (تاریخ): علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
انہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے پہلے ایم فل گریجویٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع تھا:
“1937ء تا 1939ء کانگریسی وزارتوں کا کردار اور قیامِ پاکستان پر اس کے اثرات”
تحقیق اور علمی خدمات
تاریخ اور نسب ناموں (Genealogy) سے خصوصی دلچسپی کے باعث انہوں نے رانجھا قبیلے کی تاریخ، ثقافت، ہجرت اور ارتقائی سفر پر جامع تحقیقی کام کیا۔ ان کی یہ تحقیق خطے کی سماجی اور تاریخی شناخت کو سمجھنے کے لیے اہم حوالہ تصور کی جاتی ہے۔
پیشہ ورانہ کیریئر
پروفیسر ظفر اقبال رانجھا کا عملی سفر مختلف کامیابیوں سے عبارت ہے۔
انہوں نے:
- پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کا امتحان پاس کرکے بطور انسپکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خدمات کا آغاز کیا۔
- بعد ازاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانات کامیابی سے پاس کیے۔
- گریڈ 17 اور گریڈ 18 میں براہِ راست تقرری حاصل کی۔
- شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ترقی پاتے ہوئے گریڈ 19 میں اسسٹنٹ پروفیسر کے منصب تک پہنچے۔
صحافتی اور ادبی خدمات
پروفیسر ظفر اقبال رانجھا ایک سنجیدہ کالم نگار بھی ہیں۔ وہ “ایجوکیشن نیوز اسلام آباد” کے لیے مستقل لکھتے ہیں۔
ان کے کالموں کے موضوعات میں شامل ہیں:
- قومی سیاست
- بین الاقوامی تعلقات
- جیو پولیٹکس
- تاریخ
- تعلیمی اصلاحات
- سماجی و فکری مسائل
ان کی تحریروں کو علمی حلقوں میں تحقیقی گہرائی، متوازن تجزیے اور مدلل اندازِ بیان کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
شخصیت اور خدمات
پروفیسر ظفر اقبال رانجھا ایک ہمہ جہت علمی شخصیت ہیں۔ وہ بیک وقت معلم، محقق، مورخ، قانون دان اور کالم نگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا تعلیمی سفر دیہی پس منظر سے شروع ہو کر قومی سطح کے علمی مقام تک پہنچا، جو نوجوان نسل کے لیے محنت، لگن اور علمی جستجو کی ایک روشن مثال ہے۔
انٹرمیڈیٹ میں تاریخی ریکارڈ قائم کرنے، اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے، قانون کی ڈگری مکمل کرنے، اوپن یونیورسٹی کے پہلے ایم فل اسکالر بننے اور تدریس و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے تک پروفیسر ظفر اقبال رانجھا کا سفر پاکستان کے علمی منظرنامے میں ایک قابلِ قدر اور قابلِ تقلید مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






