عقیل عباس
نام: عقیل عباس
تاریخِ پیدائش: یکم مئی 1994ء
جائے پیدائش: دھنی کلاں، ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
والد: ظفر اقبال
تعلیم: ایم اے اردو، ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر (سِول)
پیشہ: کوانٹٹی سرویئر (سب انجینئر)
نمایاں تخلیقات:
- دلہن اور دوسرے مائیکروفکشن (2016ء)
- برقاب (شعری مجموعہ، 2025ء)
تعارف
عقیل عباس پاکستان کے معروف نوجوان ادیب، شاعر اور اردو مائیکروفکشن کے نمایاں تخلیق کار ہیں۔ انہیں اردو ادب میں مائیکروفکشن کی پہلی باقاعدہ کتاب کے خالق کے طور پر خصوصی شناخت حاصل ہے۔ انہوں نے پیشہ ورانہ زندگی میں انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے ادب و ثقافت سے اپنا تعلق مسلسل برقرار رکھا اور مختصر افسانوی ادب کو ایک نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
عقیل عباس یکم مئی 1994ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں دھنی کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول دھنی کلاں سے حاصل کی اور 2009ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول (منڈی بہاؤالدین) میں داخلہ لیا اور سِول انجینئرنگ میں تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر مکمل کیا۔ دورانِ تعلیم وہ کالج ہاسٹل میں مقیم رہے اور 2012ء میں ڈپلومہ مکمل کیا۔
ملازمت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھیں اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے:
- بی اے (2019ء)
- ایم اے اردو (2023ء)
کی ڈگریاں حاصل کیں۔
ادبی ذوق اور ابتدائی تربیت
بچپن سے ہی انہیں قصے کہانیاں سننے اور سنانے کا شوق تھا جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ زمانۂ طالب علمی میں مختصر کہانیاں لکھنے اور شعر کہنے کا آغاز کیا۔
گورنمنٹ ہائی سکول دھنی کلاں کی بزمِ ادب سوسائٹی اور لائبریری سے وابستگی نے ان کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران انہیں عظیم اللہ جندران اور خصوصاً استاد عامر حیات کی سرپرستی حاصل رہی۔
عامر حیات نہ صرف ان کی تحریروں کی اصلاح کرتے رہے بلکہ انہیں مطالعے کی عادت فروغ دینے کے لیے ذاتی طور پر کتابیں خریدنے کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کرتے تھے۔ عقیل عباس اپنی ادبی تربیت میں ان اساتذہ کے کردار کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
صحافتی اور ادبی سرگرمیاں
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول میں زیرِ تعلیم رہتے ہوئے انہوں نے مقامی اخبار “روزنامہ علاقہ منڈی بہاؤالدین” میں انشائیہ طرز کے مضامین لکھنا شروع کیے۔
ملازمت کے دوران وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم رہے اور ہر جگہ مقامی ادبی حلقوں سے وابستہ رہے، جن میں:
- نظمینہ، بورے والا
- قلم قبیلہ، پاکپتن شریف
- حلقہ اربابِ ذوق منڈی بہاؤالدین
نمایاں ہیں۔
وہ گزشتہ ایک دہائی سے حلقہ اربابِ ذوق منڈی بہاؤالدین سے وابستہ ہیں جہاں ان کی غزلیں اور مائیکروفکشن باقاعدگی سے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔
بورے والا میں قیام کے دوران وہ ادبی تنظیم “نظمینہ” کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔
پیشہ ورانہ زندگی
عقیل عباس نے عملی ملازمت کا آغاز 2014ء میں خانیوال سے کیا، جہاں وہ نہری ترقیاتی منصوبوں میں بطور کوانٹٹی سرویئر شامل ہوئے۔
انہوں نے:
- لوئر باری دوآب کینال کی بحالی
- برانچ کینالز اور ڈسٹری بیوٹریز کی تعمیر و مرمت
- خانیوال، بورے والا، وہاڑی اور پاکپتن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں
پر خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں وہ پاکستان کے اہم ترین قومی منصوبوں میں شامل دیامر بھاشا ڈیم (چلاس) سے وابستہ ہوئے، جہاں وہ بطور کوانٹٹی سرویئر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
اردو مائیکروفکشن اور ادبی خدمات
عقیل عباس کا نام اردو مائیکروفکشن کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
بورے والا میں قیام کے دوران ان کا رابطہ ادیب زعیم رشید کے ذریعے معروف محقق سید تحسین گیلانی سے ہوا، جو پاکستان میں مائیکروفکشن کی صنفی شناخت پر کام کر رہے تھے۔
اس ملاقات کے بعد عقیل عباس نے مائیکروفکشن میں سنجیدہ دلچسپی لینا شروع کی اور اپنا پہلا مائیکروفکشن “ڈر” تحریر کیا جسے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
اس کے بعد ان کا مشہور مائیکروفکشن “دلہن” منظرِ عام پر آیا جسے ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔
ان کے مائیکروفکشن:
- ماہنامہ ندائے گل
- انہماک فورم
- مختلف ادبی جرائد
میں شائع ہوتے رہے۔
بالآخر ادبی دوستوں کے اصرار پر ان کا پہلا مجموعہ:
“دلہن اور دوسرے مائیکروفکشن” (2016ء)
شائع ہوا، جسے اردو ادب میں مائیکروفکشن کی پہلی باقاعدہ کتاب قرار دیا جاتا ہے۔
شاعری
عقیل عباس بطور شاعر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جدید انسان کے داخلی تجربات، سماجی مشاہدات اور زندگی کے مختلف رنگ نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔
ان کا شعری مجموعہ:
“برقاب” (2025ء)
ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔
عقیل عباس ان نوجوان ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے محدود وسائل اور مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے باوجود ادب کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھا۔ مائیکروفکشن کو اردو ادب میں متعارف کروانے اور اسے ایک قابلِ قبول ادبی صنف کے طور پر فروغ دینے میں ان کا کردار اہم اور قابلِ ذکر ہے۔
ان کی ادبی خدمات اردو مختصر افسانوی ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






