غلام حسین “گل تارڑ”
سُخن دا درویش، شہنشاہِ جذبات، پنجابی شاعر
نام: غلام حسین (ادبی نام: گل تارڑ)
پیدائش: 1986ء
جائے پیدائش: لوک بھواء حسن، تحصیل پھالیہ، ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
والد: شان محمد تارڑ
شہرت: پنجابی شاعر، صوفی و معرفتی شاعر، غزل گو، استادِ سخن
مجموعہ غزل: اتھرو اتھرو اکھر
ابتدائی زندگی
غلام حسین المعروف گل تارڑ 1986ء میں ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں لوک بھواء حسن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی اور 2003ء میں میٹرک مکمل کیا۔ ادبی ذوق انہیں خاندانی ماحول سے ورثے میں ملا، کیونکہ ان کے والدین پنجابی ادب کے شوقین اور مطالعہ پسند تھے۔
بچپن ہی سے انہیں کلاسیکی پنجابی ادب کی شاہکار کتب مثلاً “سیف الملوک”، “شاہنامہ کربلا”، “ہیر وارث شاہ” اور “وسدیاں اکھیاں” جیسی تخلیقات پڑھنے کا موقع ملا، جنہوں نے ان کے فکری اور ادبی شعور کی بنیاد رکھی۔
ادبی سفر
گل تارڑ نے 2001ء میں معرفت اور تصوف پر مبنی شاعری کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے مرشد و استاد پیر کلیم صابر صابری سے اصلاح حاصل کی۔ بعد ازاں 2006ء میں غزل گوئی کی طرف متوجہ ہوئے اور سائیں یوسف حسین یوسف سے رہنمائی حاصل کی۔
بعد میں اپنے اساتذہ کی ہدایت پر معروف شاعر ارشد مخلص سے اصلاح لیتے رہے، جس سے ان کی شاعری مزید نکھر کر سامنے آئی۔
شہنشاہِ جذبات
2013ء میں ان کے منفرد اسلوب، جذباتی اظہار اور اثر انگیز شاعری کے باعث انہیں “شہنشاہِ جذبات” کا خطاب دیا گیا۔ ان کی شاعری میں جذبے، احساس، درد، عشق، ہجر، تصوف، معرفت اور انسان دوستی نمایاں موضوعات کے طور پر موجود ہیں۔
علمی استعداد
گل تارڑ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ مختلف علوم سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ انہیں:
- علمِ صرف و نحو ،علمِ عروض
- فقہ
- علمِ بیان
- جغرافیہ
- گردان
جیسے علوم پر اچھی دسترس حاصل ہے، جو ان کی شاعری میں فنی پختگی اور فکری گہرائی کا باعث بنتی ہے۔
شعری اصناف
اگرچہ غزل ان کی پسندیدہ صنفِ سخن ہے، تاہم انہوں نے بیس کے قریب شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے، جن میں:
- غزل
- نظم
- دوہڑا
- چومصرع
- بند
- رباعی
- معرفتی کلام
اور دیگر اصناف شامل ہیں۔
نمایاں تخلیقات
گل تارڑ کی مشہور نظموں میں شامل ہیں:
- ماں دے دکھ
- اقبال نامہ
- فرقہ واریت
- وکھرے دُکھ
- مدینے دی مٹی
- میں کون آں
- حضرت صغریٰؑ دا خط
ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہارؑ اور رسولِ اکرم ﷺ سے عقیدت و محبت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔
ادبی خصوصیات
گل تارڑ کے کلام کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- تصوف اور معرفت
- انسان دوستی
- ہجر و وصال کے جذبات
- معاشرتی شعور
- روحانی واردات
- سادگی اور تاثیر
- اہلِ بیتؑ سے والہانہ عقیدت
ان کی شاعری کردار اور شخصیت کی آئینہ دار محسوس ہوتی ہے، اسی وجہ سے انہیں ادبی حلقوں میں “سُخن دا درویش” کہا جاتا ہے۔
تدریسی و ادبی خدمات
گل تارڑ نے متعدد نوجوان شعرا کی رہنمائی کی اور ان کے کئی شاگرد آج پنجابی ادب اور سوشل میڈیا پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ان کے معروف شاگردوں میں:
- سلیم ابر رانجھا
- علی حسن ساندل
- قمر فاروق امر
- عمر دراز رقمی
- افتخار احمد منصب
- افضال رضا
- کامران خیالی
- محرم ملنگ
- تیمور گھلو
- عرفان صیام
- سرفراز گوندل
- ایم ڈی گوندل
- اصغر سرگانہ
- عمران عاجز کھرل
- عثمان غازل گوندل
- قاسم حافظ لونگ
- تنویر آزاد
- راول گوندل
اور دیگر کئی شعرا شامل ہیں۔
شخصیت
گل تارڑ اپنی عاجزی، انکساری، سادگی اور محبت بھرے رویے کے باعث اپنے دوستوں اور شاگردوں میں بے حد مقبول ہیں۔ وہ شہرت اور نمود و نمائش سے دور رہتے ہیں اور ادب کو خدمت اور روحانی تربیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ان کی زندگی اور شاعری اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل عظمت کردار، اخلاص اور انسان دوستی میں پوشیدہ ہے۔
معاصر پنجابی شاعری میں گل تارڑ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کے چاہنے والے انہیں “غزل دا بے تاج بادشاہ” اور “سُخن دا درویش” قرار دیتے ہیں۔ ان کا کلام پنجابی ادب میں تصوف، جذبے اور انسانی احساسات کا خوبصورت امتزاج سمجھا جاتا ہے۔
مطبوعات و تخلیقات
گل تارڑ کی شاعری مختلف ادبی اصناف پر مشتمل ہے۔ ان کا شعری سرمایہ تصوف، معرفت، عشق، انسانی احساسات اور سماجی شعور کا خوبصورت امتزاج پیش کرتا ہے۔
نمایاں نظموں میں
- ماں دے دکھ
- اقبال نامہ
- فرقہ واریت
- وکھرے دُکھ
- مدینے دی مٹی
- میں کون آں
- حضرت صغریٰؑ دا خط
شامل ہیں، جنہیں پنجابی ادبی حلقوں میں خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
مجموعۂ غزل
“اتھرو اتھرو اکھر” گل تارڑ کا پہلا باقاعدہ مجموعۂ غزل ہے، جو تکمیل کے مراحل سے گزر چکا ہے اور ان شاء اللہ عنقریب اشاعت کے بعد اہلِ ذوق اور سخن شناس قارئین کے ہاتھوں میں ہوگا۔
اس مجموعے میں شامل غزلیں شاعر کے فکری سفر، روحانی وارداتوں، عشقِ حقیقی و مجازی، انسانی جذبات، ہجر و وصال کے احساسات اور زندگی کے مختلف تجربات کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ یہ مجموعہ معاصر پنجابی غزل میں ایک اہم اضافہ تصور کیا جا رہا ہے اور اس سے گل تارڑ کی شعری شخصیت کے مزید پہلو نمایاں ہونے کی توقع ہے۔
ادبی مقام
معاصر پنجابی شاعری میں گل تارڑ کو ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ ان کے چاہنے والے انہیں “سُخن دا درویش”، “شہنشاہِ جذبات” اور “غزل دا بے تاج بادشاہ” کے القابات سے یاد کرتے ہیں۔
ان کا شعری مجموعہ “اتھرو اتھرو اکھر” ان کی طویل ادبی ریاضت، فنی پختگی اور فکری بلوغت کا مظہر سمجھا جاتا ہے، جس کے ذریعے ان کی شاعری مزید وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچنے کی امید کی جا رہی ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






