صائمہ آفتاب
ممتاز شاعرہ، بیوروکریٹ اور کسٹمز افسر
صائمہ آفتاب، پاکستان کی اُن نمایاں شخصیات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے بیک وقت سرکاری خدمات اور ادب کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ ایک باصلاحیت شاعرہ، نعت گو، دانشور اور پاکستان کسٹمز سروس کی سینئر افسر ہیں۔ ان کی شاعری میں نسائی احساسات، فکری پختگی، روحانی لطافت اور عصری شعور کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
صائمہ آفتاب 6 مارچ 1976ء کو ضلع چکوال کے تاریخی شہر تلہ گنگ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا آبائی تعلق ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال کے گاؤں بادشاہ پور سے ہے، جہاں ان کے خاندان کی جڑیں پیوست ہیں۔ ابتدائی عمر کا ایک حصہ انہوں نے اسی خطے میں گزارا، جس کے سماجی اور ثقافتی اثرات ان کی شخصیت اور فکر میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تعلیم
انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ 1992ء میں کیتھیڈرل اسکول لاہور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا جبکہ 1996ء میں معروف تعلیمی ادارے کنیئرڈ کالج لاہور سے گریجویشن مکمل کی۔ تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کے باعث انہوں نے بعد ازاں پاکستان کے اعلیٰ ترین مقابلے کے امتحان CSS میں کامیابی حاصل کی اور سول سروس کا حصہ بن گئیں۔
پیشہ ورانہ خدمات
سی ایس ایس میں کامیابی کے بعد صائمہ آفتاب نے پاکستان کسٹمز سروس میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے مختلف اہم انتظامی اور مالیاتی ذمہ داریوں پر خدمات انجام دیں اور اپنی پیشہ ورانہ دیانت داری، انتظامی صلاحیت اور مؤثر کارکردگی کے باعث نمایاں شناخت حاصل کی۔
انہوں نے بطور:
- ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز
- ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن
- مغلپورہ ڈرائی پورٹ لاہور
سمیت متعدد اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دیے۔
ادبی سفر
صائمہ آفتاب نے زمانۂ طالب علمی ہی میں شعر گوئی کا آغاز کر دیا تھا۔ اگرچہ سرکاری مصروفیات، خاندانی ذمہ داریوں اور عملی زندگی کی مصروفیات نے انہیں طویل عرصے تک ادبی محفلوں سے دور رکھا، تاہم ان کا تخلیقی سفر کبھی منقطع نہیں ہوا۔
بعد ازاں سوشل میڈیا اور ادبی حلقوں میں ان کے کلام کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور ان کا شمار جدید اردو شاعری کی اہم نسائی آوازوں میں ہونے لگا۔
شعری اسلوب
صائمہ آفتاب کی شاعری میں عورت کے باطن کی گہرائی، محبت، ہجرت، تنہائی، امید، خود شناسی اور سماجی شعور کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کی غزلیں نرم لہجے، شائستہ اظہار اور فکری وقار کی حامل ہیں۔
ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات:
- نسائی احساسات کی مؤثر ترجمانی
- جدید زندگی کے مسائل کا شعوری ادراک
- روحانی اور مذہبی رجحانات
- سادہ مگر پراثر زبان
- داخلی کیفیات کا خوبصورت اظہار
غزل کے ساتھ ساتھ صائمہ آفتاب نعت گوئی میں بھی منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کے کلام میں عشقِ رسول ﷺ، عقیدت اور روحانی وابستگی کا گہرا رنگ موجود ہے، جو ان کی شخصیت کے مذہبی اور فکری پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔
تصنیف
ان کا پہلا شعری مجموعہ:
“عمر بھر کی بات”
ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ اس کتاب کی تقریبِ رونمائی اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں اردو ادب کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
صائمہ آفتاب (فردا) کا شمار اُن تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے عملی زندگی کی مصروفیات کے باوجود ادب سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ وہ جدید اردو شاعری میں نسائی شعور، فکری وقار اور تخلیقی سنجیدگی کی ایک معتبر آواز کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی شاعری نئی نسل کے لیے احساس، فکر اور اظہار کا ایک خوبصورت حوالہ ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






