انصر اقبال تارڑ
سابق کبڈی کھلاڑی | ساہی | گیم بیس پولیس کھلاڑی
انصر اقبال تارڑ ولد سعی محمد کا تعلق گاؤں کلاشادیاں، تحصیل پھالیہ، ضلع منڈی بہاؤالدین سے ہے۔ وہ اپنے دور کے نمایاں کبڈی کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے 1985ء میں کبڈی کے میدان میں قدم رکھا اور تعلیمی اداروں سے لے کر ضلعی، ریجنل اور آل پاکستان سطح کے مقابلوں تک اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
کبڈی کا آغاز
انصر اقبال تارڑ نے 1985ء میں کبڈی کھیلنا شروع کی۔ انہوں نے گورنمنٹ پائلٹ اسکول پھالیہ سے اپنے کھیل کا باقاعدہ سفر شروع کیا اور 1987ء اور 1988ء میں مسلسل دو سال اسکول کی کبڈی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی رہے۔
بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاؤالدین میں داخلہ لیا اور 1989ء اور 1990ء میں کالج کی کبڈی ٹیم کی نمائندگی کی۔ اس دوران ان کی پھرتی، کھیل کی سمجھ اور میدان میں جارحانہ انداز نے انہیں دوسرے کھلاڑیوں سے ممتاز کیا۔
ساہی کے طور پر شناخت
کبڈی میں بنیادی طور پر ساہی اور جافی کے کردار نمایاں ہوتے ہیں۔ ساہی مخالف ٹیم کے کورٹ میں جا کر ریڈ کرتا اور پوائنٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ جافی دفاع کرتے ہوئے مخالف کھلاڑی کو پکڑنے اور روکنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
انصر اقبال تارڑ بنیادی طور پر ایک ماہر ساہی تھے۔ ان کی تیزی، پھرتی، جرات اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ان کے کھیل کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ضرورت کے وقت وہ جافی کے طور پر بھی کھیلتے اور مضبوط حریفوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
گیم بیس پولیس میں انتخاب
ان کے کبڈی کیریئر کا ایک اہم موڑ وہ یادگار میچ تھا جس میں ان کی غیر معمولی کارکردگی نے انہیں نمایاں کیا۔ اسی شاندار کھیل کی بنیاد پر 1991ء میں انہیں گیم بیس پر پولیس میں منتخب کیا گیا۔
پولیس میں شمولیت کے بعد انہوں نے ضلع گجرات اور رینج گجرات کی جانب سے تقریباً چار سے چھ سال تک کبڈی کھیلی اور مختلف مقابلوں میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کی۔
یادگار مقابلے
انصر اقبال تارڑ کے کبڈی کیریئر میں کئی مقابلے خاص اہمیت رکھتے ہیں، جن میں:
- جشنِ گجرات 1991ء کا یادگار میچ، جس میں انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی اور اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
- گاؤں سوہاوہ، ضلع منڈی بہاؤالدین میں پاکستان نیوی کے خلاف کھیلا گیا مقابلہ۔
- بنوں میں منعقدہ آل پاکستان کبڈی ٹورنامنٹ، جس میں انہوں نے اپنی ٹیم کی نمائندگی کی۔
یہ مقابلے ان کے کھیل کے سفر کے اہم اور یادگار مراحل میں شمار ہوتے ہیں۔
اساتذہ اور ساتھی کھلاڑی
انصر اقبال تارڑ کی کھیلوں کی تربیت اور رہنمائی میں ارشاد اللہ پی ٹی اور جہان خان کا اہم کردار رہا۔
ان کے ساتھ میدان میں کھیلنے والے ساتھیوں میں اشرف، طارق، آصف، اختر، ریاض، افتخار عرف اِفتی (کوٹ قطب دین)، اعظم ایرانی، امجد دھریکاں اور دیگر متعدد کھلاڑی شامل رہے۔
ان کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلے گئے مقابلے ان کے کھیلوں کے سفر کی یادگار یادوں کا حصہ ہیں۔
کبڈی سے علیحدگی
انصر اقبال تارڑ نے کبڈی کو چھوڑنے کا فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا۔ ان کی مسلسل محنت اور کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کے کھیل میں مزید ترقی کے واضح امکانات موجود تھے۔
ان کے مطابق اگر انہیں مزید ایک دو سال مسلسل کھیلنے کا موقع ملتا تو ان کے لیے قومی سطح تک پہنچنے کے امکانات موجود تھے۔ تاہم بازو کے ایک مسئلے کے باعث انہیں بالآخر کبڈی کے میدان سے کنارہ کش ہونا پڑا۔
یوں ایک ایسا کھلاڑی، جس نے اپنے دور میں مقامی اور ضلعی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، قومی سطح پر پہنچنے سے پہلے ہی کھیل کے میدان سے دور ہو گیا۔
کھیلوں کا ورثہ
انصر اقبال تارڑ کی کہانی منڈی بہاؤالدین کے ان مقامی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، جسمانی صلاحیت اور کھیل سے وابستگی کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔
1985ء سے شروع ہونے والا ان کا کبڈی سفر، اسکول اور کالج کی نمائندگی، گجرات پولیس اور رینج کی جانب سے کھیلنا، یادگار آل پاکستان مقابلوں میں شرکت اور بطور ساہی ان کی شہرت ان کے کھیلوں کے کیریئر کے اہم پہلو ہیں۔
انصر اقبال تارڑ ضلع منڈی بہاؤالدین کے ان سابق کبڈی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے 1980ء کی دہائی میں کبڈی کے روایتی میدانوں سے اپنے کھیل کا آغاز کیا اور اپنی محنت و صلاحیت کے ذریعے اسکول، کالج، ضلعی اور ریجنل سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ بطور ماہر ساہی ان کی پھرتی اور جرات ان کی کھیلوں کی شناخت رہی، جبکہ 1991ء میں گیم بیس پولیس میں انتخاب ان کے کھیل کے سفر کا اہم سنگِ میل تھا۔




