تحصیل پھالیہ(موجودہ ضلع منڈی بہاءالدین) کے قدیم سکے اور تاریخی دریافتیں
گزٹیئر آف گجرات 1921 کے مطابق تحصیل پھالیہ صرف زرعی اور قبائلی تاریخ ہی نہیں رکھتی بلکہ یہ علاقہ آثارِ قدیمہ اور تاریخی سکوں کی دریافت کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس خطے کے مختلف قدیم مقامات، خصوصاً مونگ، ہیلن اور رکھ باہووال سے مختلف ادوار کے سکے دریافت ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علاقہ قدیم زمانے میں سیاسی، تجارتی اور تہذیبی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔
تحصیل پھالیہ کے قدیم مقامات میں مونگ سب سے زیادہ مشہور اور تاریخی حیثیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقام قدیم سکوں کی دریافت کے اعتبار سے پورے ضلع گجرات میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق مونگ سے ملنے والے سکے مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں کے ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں ہند یونانی، انڈو سیتھین اور دیگر قدیم حکمران شامل ہیں۔
مونگ سے دریافت ہونے والے ہند یونانی سکے خاص طور پر اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں بادشاہ ازاس (Azas) کے دور کے سکے شامل ہیں، جبکہ ایک عظیم “گمنام نجات دہندہ” یعنی “Saviour King of Kings” کے سکے بھی یہاں سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ سکے زیادہ تر چھوٹے تانبے کے تھے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ روزمرہ لین دین میں استعمال ہوتے رہے ہوں گے۔ ان سکوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یونانی اثرات اس خطے تک پہنچ چکے تھے اور یہاں باقاعدہ تجارتی و انتظامی سرگرمیاں جاری تھیں۔
مونگ میں انڈو سیتھین دور کے سکے بھی بڑی تعداد میں ملے ہیں۔ انڈو سیتھین حکمران دراصل وسط ایشیائی قبائل سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے شمالی ہندوستان اور پنجاب کے مختلف حصوں پر حکومت قائم کی تھی۔ گزٹیئر کے مطابق تقریباً تمام انڈو سیتھین شہزادوں کے سکے مونگ سے دریافت ہوئے، جو اس علاقے کی غیر معمولی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان سکوں میں ایک خاص قسم کے سکے بھی شامل تھے، جنہیں مقامی طور پر “مونگا صابیس” کہا جاتا تھا۔ یہ دراصل ایک گمنام انڈو سیتھین بادشاہ کے تانبے کے سکے تھے، جو اس علاقے میں اتنی کثرت سے پائے جاتے تھے کہ مقامی آبادی نے انہیں اسی نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ اس قسم کے مقامی نام اس بات کی علامت ہیں کہ یہ سکے صرف آثارِ قدیمہ کی چیزیں نہیں تھے بلکہ صدیوں تک مقامی روایت اور لوک تاریخ کا حصہ بھی بنے رہے۔
مونگ سے ملنے والے سکوں پر اکثر یونانی حروف “Nik” بھی پائے گئے ہیں، جنہیں ماہرین قدیم شہر “نیکیا” (Nikaea) سے منسوب کرتے ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق سکندر اعظم نے اس علاقے میں نیکیا نامی ایک شہر آباد کیا تھا، اور انہی آثار کی بنیاد پر مونگ کو بعض اوقات اس قدیم شہر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نظریے پر تاریخی بحث موجود ہے، لیکن سکوں پر یونانی مونوگرام کی موجودگی اس خطے پر یونانی اثرات کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
اسی مقام سے موآ (Moa) یا ماناس (Manas) کے سکے بھی دریافت ہوئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مونگ مختلف ادوار میں مسلسل آباد اور فعال رہا۔ یہ تمام دریافتیں اس علاقے کو پنجاب کے اہم آثارِ قدیمہ کے مراکز میں شامل کرتی ہیں۔
ہیلن بھی تحصیل پھالیہ کا ایک اہم تاریخی مقام ہے، جہاں سے سکوں کی دریافت ہوئی، تاہم یہاں کی صورتحال مونگ سے مختلف ہے۔ گزٹیئر کے مطابق ہیلن کے کھنڈرات سے جو سکے برآمد ہوئے وہ زیادہ قدیم نہیں تھے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہاں سے ملنے والے سکے آٹھویں صدی ہجری یعنی اسلامی دور سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے کے ادوار کا کوئی سکہ دریافت نہیں ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلن اگرچہ ایک قدیم بستی تھی، لیکن اس کی اہمیت زیادہ تر اسلامی دور میں نمایاں ہوئی۔
تحصیل پھالیہ میں سکوں کی ایک اور اہم دریافت رکھ باہووال میں ہوئی، جو مغل دور سے تعلق رکھتی ہے۔ 18 اگست 1917 کو ملٹری ڈیری فارم “رکھ باہووال” میں ایک ہندوستانی اوورسیئر ہل چلا رہا تھا کہ اسے زمین سے 92 چاندی کے مغل روپے ملے۔ یہ دریافت اس قدر اہم تھی کہ بعد میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ان سکوں کا باقاعدہ معائنہ کیا اور ان میں سے 14 نمونے لاہور میوزیم کے لیے محفوظ کر لیے گئے۔
ان سکوں کا تعلق مختلف مغل بادشاہوں کے ادوار سے تھا۔ ان میں شاہ جہاں کے سکے شامل تھے، جو اکبر آباد، اکبر نگر، الہ آباد، دہلی اور کابل کی ٹکسالوں میں تیار کیے گئے تھے۔ اسی طرح اورنگزیب عالمگیر کے دور کے سکے بھی برآمد ہوئے، جن پر اکبر نگر، برہان پور، شولاپور، کابل اور مرشد آباد کی ٹکسالوں کے نام درج تھے۔ ان کے علاوہ عالم بہادر کے دور کا ایک سکہ بھی ملا، جو شاہ جہاں آباد کی ٹکسال سے جاری ہوا تھا۔
یہ سکوں کی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحصیل پھالیہ کا علاقہ مغل دور میں بھی تجارتی اور انتظامی لحاظ سے اہمیت رکھتا تھا۔ مختلف شہروں کی ٹکسالوں سے جاری ہونے والے سکوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اس خطے کے روابط ہندوستان کے مختلف علاقوں کے ساتھ قائم تھے اور یہاں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔
تحصیل پھالیہ کے ان قدیم سکوں اور تاریخی دریافتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ خطہ صرف دیہی یا زرعی علاقہ نہیں تھا بلکہ مختلف تہذیبوں، سلطنتوں اور تجارتی راستوں کا ایک اہم مرکز بھی رہا۔ یونانی، سیتھین، اسلامی اور مغل ادوار کے سکوں کی موجودگی اس علاقے کی تاریخی گہرائی اور ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتی ہے۔
آج بھی مونگ، ہیلن اور رکھ باہووال جیسے مقامات تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ دریافتیں نہ صرف ماضی کی جھلک پیش کرتی ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ تحصیل پھالیہ صدیوں تک مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک اہم رابطہ مرکز رہی ہے۔
تحصیل پھالیہ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ان سکوں کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ یہ خاموش مگر مضبوط تاریخی شواہد ہیں جو اس خطے کے قدیم سیاسی، معاشی اور تہذیبی روابط کو آج بھی زندہ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply