ہر درد کو ہنسی میں بدلنے کی عمر ہے

ہر درد کو ہنسی میں بدلنے کی عمر ہے
اُس کم سنی کے پھولنے پھلنے کی عمر ہے

اک تو مزاجِ یار بھی برہم ہے ان دنوں
اُس پر کچھ اپنے بخت کے ڈھلنے کی عمر ہے

وہ ہے ہوائے تیز بڑی بے لگام ہے
اور ہم چراغِ شوق ہیں جلنے کی عمر ہے

بہکے رہو کہ بیس تلک خوف شے نہیں
واعظ یہ عمر گرنے سنبھلنے کی عمر ہے

نپٹا تمام کام کہ ہونے لگی ہے شام
رختِ سفر سمیٹ لے چلنے کی عمر ہے

آزاد حسین آزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *