تو کیا میں حاجات کہہ سناؤں؟ دیا جلاؤں؟
میں حضرتِ خضر کو بلاؤں ؟ دیا جلاؤں؟
میں چپ کی چادر سے اپنے ظاہر کا دکھ چھپاؤں
تو اندروں حشر اک اٹھاؤں ، دیا جلاؤں؟
تو حوصلہ دے تو آسماں کو زمیں پہ لاؤں؟
تو ساتھ دے تو قدم بڑھاؤں ، دیا جلاؤں؟
میں تیرے لہجے کے تیر سہہ کے بھی مسکراؤں
میں تیری باتوں سے حظ اٹھاؤں دیا جلاؤں؟
وہ جھکنے والوں کی بات سنتا ہے آزماؤں؟
تو اسکی چوکھٹ پہ سر جھکاؤں دیا جلاؤں؟
یہ روشنیائی بھی میری مٹی میں ہے ، دکھاؤں؟
میں اپنی ایڑی پہ گھوم جاوں دیا جلاؤں؟
فرح گوندل