ڈاکٹر فاخرہ نورین، خندہ ہائے زن

ڈاکٹر فاخرہ نورین، خندہ ہائے زن
ڈاکٹر رؤف پاریکھ فرماتے ہیں کہ کسی بھی زبان میں اعلی درجے کا مزاح اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک اس زبان کے بولنے والے اپنے ماحول کی خصوصیات اور تضادات اور اپنے سماج کے بارے اتنا شعور اور آگہی حاصل نہ کر لیں کہ اس کی کمزوریوں اور ناہمواریوں سے محظوظ ہوسکیں. نیز وہ زبان بھی مختلف احساسات و تاثرات، طنز، رمز، تحریف، اشارے کنائے، ایہام لفظوں کے معمولی ہیر پھیر سے مفہوم میں تبدیلی اور خندہ آور شے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اعلی درجے کا مزاح کوئی بےمعنی، ہنسی، یا محض دل لگی نہیں، یہ گہرے سماجی شعور، رچے ہوئے ذوق، تہذیب، دانش، زبان پر عبور، اعلی ذہنی و فکری، تنقیدی صلاحیتوں، تجزیے، تفکر، اور تفلسف کا نتیجہ ہوتا ہے بالفاظ دیگر اچھا مزاح بڑی سنجیدہ چیز ہے
رؤف پاریکھ کی بیان کردہ خوبیوں بھرا مزاح اگر کتابی شکل میں آپ کے سامنے آجائے تو کھل اٹھیں گے، ان کے بیان کردہ سارے لوازمات اضافی ذائقے اور چاشنی کے ساتھ ڈاکٹر فاخرہ نورین کی خندہ ہائے زن کی شکل میں میرے سامنے رکھے ہیں. خندہ ہائے زن کے مکمل مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فاخرہ نورین اردو مزاح نگار خواتین میں ایک عمدہ اضافہ ہیں اس سے پہلے بھی اردو ادب میں انجم انصار، بشری رحمان، شفیقہ فرحت، نیلوفر اقبال، سائرہ غلام نبی اور رفعت ہمایوں وغیرہ نے عمدہ مزاح لکھا ہے بلکہ انجم انصار نے تو ایشیا کی پہلی خاتون مزاح نگار ہونے کا دعوٰی بھی کر رکھا ہے، دعوی تو پاکستان کی سب ہیروئنز بھی نمبر ون ہونے کا کرتی ہیں مگر اصل چیز کام ہےاور کام کے لحاظ سے کون کامیاب ہوا اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے ناں کہ نقاد یا لکھاری بزعم خود
مزاح لکھنے کے لیے بندے میں کچھ خامیوں کا ہونا بھی ضروری ہے جیسے معاشرتی رویوں کا گہرا شعور، تہذیب، اقدارو رسومات کا مطالعہ ان کی توجیہہ اور پھر اس پر عمدہ نباض کے طور پر تبصرہ کرنے کی صلاحیت اور یہ سب بیماریاں فاخرہ میں بدرجہ اتم موجود ہیں وہ جیسے نازک، الہڑ، شوخ و چنچل نظر آتی ہیں دراصل وہ ایسی ہیں نہیں وہ بہت باریک بیں، زیرک اور سرتاپا شرارت ہیں، ان کے اندر ایک کھرانٹ، گھاگھ اور خبیث( ان اے سینس) مرد چھپا ہوا ہے جس کی نظر ہر ٹیڑھی شے کی طرف لپکتی ہے وہ ہر اک شے کو اپنی نظر سے ہی الگ ڈھب میں دیکھنے کی عادی ہے. وہ ان عورتوں میں سے ہے جو دنیا فتح کرنے بغیر چپل پہنے نکل پڑتی ہیں، معاشرتی رویوں کا گہرا ادراک، مشاہدہ اور بات کرنے کا حوصلہ ان کے مضامین کو جہاں مزاحیہ بناتا ہے وہیں ایک پردرد کاٹ بھی پیدا کرتا ہے ان کا طنز دو آتشہ ہے جس سے بسا اوقات روح کانپ اٹھتی ہے
ان کی تحاریر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انھیں پڑھ کر بندہ قہقہہ نہیں لگاتا ہے بلکہ دھیما دھیما مسکراتا اور پھر مسکراتا چلا جاتا ہے
مثلاً یہ دیکھیے
ہمارے ذاتی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ توند صرف حاملہ عورتوں پر اچھی لگتی ہے. کسی پیداواری صلاحیت کے بغیر توند صرف پانچ طرح کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے. کاہل عورت، عیاش مرد، پولیس، رشوت خور سرکاری ملازم اور بے عمل مذہبی رہنما، ہم عورت تھے مگر کاہل تھے نہ حامل
آپ ان کا الفاظ کا چناؤ دیکھیں اور مذکورہ مخلوقات کی امیجینیشن کریں، میرے خیال میں ان الفاظ سے بہتر لفظ لانا ممکن نہیں تھا، پھر اداروں، مذہب اور معاشرے کا مشاہدہ دیکھیے.. ہماری نگاہ کے سامنے تمام بے عمل رہنما گھوم جاتے ہیں..
ایک اور جگہ کہتی ہیں
دراصل زچہ کے تیمار دار کی حیثیت گالف کے کھلاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے اس کیڈی کی سی ہے جو گالفر کی تمام اسٹکس اور سامان کا بوجھ اٹھائے خوار ہوتا رہتا ہے مگر کسی کریڈٹ کا حقدار نہیں ٹہرتا ہے
ایک جگہ کیا لطیف نکتہ بیان کرتی ہیںعورتوں میں حسِ مزاح کے عنقا ہونے کی سب سے بدیہی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بیوی نہیں ہوتی
اور اسی طرح کے اور بہت سارے پرلطف جملے..
فاخرہ نے کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے
پہلا حصہ انگشت بدنداں ہے جس میں ان کے عام مشاہدے کے معاشرتی موضوعات پر فکاہیہ مضامین ہیں جن میں چربی، قینچی، وردی وغیرہ ہیں چربی پر لکھا جانے والا مضمون بہت خاصے کی چیز ہے اس مضمون میں انھوں نے معاشرتی برائیوں کو مزاح کا رنگ دیکر عام قاری تک پہنچایا ہے یہ مضمون بھی ان کے مشاہدے کا عمدہ نچوڑ ہے
کتاب کا دوسرا حصہ، اپنی دم پر پاؤں ہے جو ان کے ذاتی مشاہدات و تجربات پر مشتمل ہے.. کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کوئی اس وقت تک اچھا مزاح تخلیق نہیں کر سکتا جب تک اس میں خود پر ہنسنے کی خوبی موجود نہ ہو
آخری حصہ میں موجودہ ادبی ماحول پر لکھے جانے والے چلبلے مضامین ہیں جن میں شاعرات سازی کی شکل میں ہمارے موجودہ ادبی نظام پر سخت چوٹ کی گئی ہے. شاعرات سازی جیسا مضمون لکھنے کے لیے بہت حوصلہ چاہیئے، کہ ایسا کرنا دراصل گند میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے مگر انھوں نے کمال حوصلے سے نہ صرف ادب کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا بلکہ اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کا بھی عمدگی سے احاطہ کیا بعض جملوں کی کاٹ ناقابل بیان ہےشاعر کے دماغ اور پبلک ٹوائلٹ میں فرق ہوتا ہے اس طرح کے اور بہت سارے طنزیہ جملوں سے کتاب بھری پڑی ہے
کتاب میں سعود عثمانی اور صلاح الدین درویش کی آراء بھی موجود ہے جنھوں نے نہایت خوبصورتی سے فاخرہ کی خوبیاں بیان کی ہیں مجھے بھی یہ شرف حاصل ہے کہ میرا تعلق بھی فاخرہ کے منڈی بہاؤ الدین سے ہے، فاخرہ کا کھلا ڈھلا مزاج، بے ساختگی و برجستگی، بے پناہ ہنسی، پنگا بازی، ملنساری اور خاص طور پر انا پرستی منڈی والوں کے مزاج کا خاصہ ہے پہلے تو وہ کسی کو چھیڑتے نہیں مگر جب کوئی ان کی دم پر پاؤں رکھے تو نانکے یاد کروا کر ہی چھوڑتے ہیں
المختصر فاخرہ نے اپنی کتاب سے اردو مزاح میں ایک عمدہ اضافہ کیا ہے مگر یہ منزل نہیں ہے یہ ان کا پہلا قدم ہے اور اسے پہلا قدم ہی تصور کیا جائے گو کہ انکا یہ قدم لگ بھگ چھلانگ کے موافق ہے ابھی ان کی ابتدا ہے ادب لمبی ریس ہے اگر وہ اپنے سفر کو اسی لگن، محنت اور جانفشانی سے جاری رکھیں گی تو وہ دن دور نہیں جب وہ اردو ادب میں خواتین مزاح نگاروں کا پہلا حوالہ ہونگی
آزاد حسین آزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *