خفگیاں ہو کے بھی آزردگیاں ہوتی نہیں

خفگیاں ہو کے بھی آزردگیاں ہوتی نہیں
وصل کے لمحوں میں خوابیدگیاں ہوتی نہیں

آنکھ سے آنکھ ملاتے ہی نہیں تم جاناں
عشق میں ایسی بھی سنجیدگیاں ہوتی نہیں

اُسے چھوتے بھی ہو اور دعوے عبادت کے بھی
ارے ایسے تو میاں، بندگیاں ہوتی نہیں

پھر کہ دل کو جلانا پڑے ہے میرے دوست
جب چراغوں سے کہیں روشنیاں ہوتی نہیں

ایک ہوتی ہے، فقط ایک ہوا کرتی ہے
عشق میں پیارے کئی زندگیاں ہوتی نہیں

ایک پیچیدگی ہے ، وہ کسی اور کا تو نہیں
چاہنے میں کئی پیچیدگیاں ہوتی نہیں

مزمل حسین چیمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *