گلاب ہے کہ وہ خوشبو مثال ہے ، کیا ہے
حقیقتوں سے جڑا اک خیال ہے ، کیا ہے
یہ شاعری مرے وجدان کی ہے سرگوشی
کہ اس کے حسنِ نظر کا کمال ہے ، کیا ہے!
جو رت بدلتے ہی سیلاب اترنے لگ جائے
یہ پیارہے کہ لہو میں ابال ہے ، کیا ہے
اب اس کے حق میں تراشی نہیں گئی ہے دلیل
حسین عہدِ طلب پر زوال ہے ، کیا ہے
لهو رلاتی رہی مصلحت گزاری مجھے
مزاجِ یار میں جو اعتدال ہے ، کیا ہے
بدل بدل کے وہ نشتر ، ہنر دکھاتا رہا
میں کچھ سمجھ نہ سکا اندمال ہے ، کیا ہے
وہ امن کوش کہاں زخم یوں لگا سکتا
خود اپنے وار سے ہی دل نڈھال ہے ، کیا ہے
تصورات میں کھوئے ہوئے نہیں سمجھے
جمالِ عکس کہ عکسِ جمال ہے ، کیا ہے
اکرم جاذؔب