All Adab

غزلیں

پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی

غزلیں

اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے

غزلیں

صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

غزلیں

سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے

غزلیں

ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی

غزلیں

رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے

غزلیں

جیسے پردیس میں راتوں کو وطن کھینچتا ہے

غزلیں

حرف و خیال و تازگی شعری جمال اور شے

غزلیں

درد کا کہسار کھینچتا ہوں

غزلیں

گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ