پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی کیسے منزل کسی رہ گیر کا دکھ سمجھے گی کب سماعت
اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے کوئی تو ہو جو ترے بعد بھی سنبھالے مجھے میں مر رہا ہوں
صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے یعنی اس مانگ میں تارے کی جگہ خالی ہے نہر کے پار
سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے مرا یہ آخری سکہ نہ خرچ ہو جائے مجھے ہے شوق مرا
ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی غزل کچھ اور ہے کار ہنر سے آگے بھی یہ شعبدے کا
رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے ادھ کھلی ان کھڑکیوں پر جامنی پردے لگے خشک ہوتی بیل
جیسے پردیس میں راتوں کو وطن کھینچتا ہے یوں ترے دشت نوردوں کو چمن کھینچتا ہے کس کی آہیں یوں
حرف و خیال و تازگی شعری جمال اور شے گویا وہ حسن اور ہے اس کی سنبھال اور شے دیکھ
درد کا کہسار کھینچتا ہوں سانس کب ہے غبار کھینچتا ہوں عشق ہے ہی نہیں یہ تہمت ہے دل نہیں
گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ رفتگاں ششدر سبھی آئندگاں حیرت زدہ چوس لیتی ہے زمیں پانی جہاں ہوں









