کیوں زمانے کو قیامت میں نہ ڈھالے جائیں

مہوش لاشاری

مہوش لاشاری

تخلیق کار

کیوں زمانے کو قیامت میں نہ ڈھالے جائیں
کب تلک شعر پہ غصے کو نکالے جائیں

میں بھی الہام سے مانگوں گی کوئی مصرعہ تر
سننے والوں کے بھی کچھ ذوق اجالے جائیں

اپنے سائے سے بچانے کے لیے بہتر ہے
ہم کسی روز تجھے خود سے چرا لے جائیں

خواب، احساس، ندامت یہ کسک اور خلوص
گریہ زاری کا یہ سامان اٹھا لے جائیں

میری تضحیک سہولت کی روادار نہیں
اب مروت میں یہاں سانپ نہ پالے جائیں

خود فریبی کی سزا اوروں میں بانٹی جائے
خواب اب آنکھ کے پانی میں ابالے جائیں

بے مروت ہوں مگر رشتوں کا دکھ جانتی ہوں
میری خواہش ہے کہ احباب سنبھالے جائیں

بارشیں آئیں گی احسان چکانے والی
چشمِ افلاک میں کچھ اشک تو ڈالے جائیں

یہ تعلق بھی کسی خیمہِ امکان میں ہے
کب تلک ہاتھ طنابوں کو سنبھالے جائیں

پھر مجھے کال بھی کر سکتے ہو اور میسج بھی
دل کے جب غار سے مقدار کے جالے جائیں

میں نے شکوے کا سہارا نہیں لینا مہوؔش
آپ جب تک بھی میری بات کو ٹالے جائیں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top