ایک منظرجہاں
چارخانے کی لنگی پہ کھدرکاچٹے کبوترساکرتا،
بٹن سونے کے
اورطلائی کڑھائی بھرے کھسے والازمیں دار
شیشم کے نیچے گھنی خواب آور ہواؤں میں کچھ
جاگتااورکچھ اونگھتا
فرشی حقے کی نے منہ میں ڈالے
علاقے کے کمی کمینوں میں موسم کی فصلیں لٹاتاہوا
اپنے گن گان سنتاہوا
اورشکرانے کے گیت گاتاہواہوتاتھا
صرف قصے کہانی میں ہی رہ گیا
سارےکمی کمیں،
ڈنکیوں اورویزوں کی برکت سے یورپ کے باسی ہوئے
( اورتو زعم سے بھرچکا، سوچتاہے
کہ پیسہ تے بہوں اے مگرجووی ہووے
ایہہ پچھو تے موچی، مراثی ہوئے )
کچھ خلیجی ممالک کے مزدور جواپنے آبائی پیشے کی محدوداجرت کو
اب درہموں اورریالوں کی صورت بدلنے لگے ہیں
ٹویڈ اورسویڈ اور ایمبوزڈ شرٹیں پہن ،زین کی پینٹ پہنے گلاسزلگائے
کبھی لوٹتے ہیں توکتنے ہی سینوں میں، آنکھوں میں
اورکچھ زبانوں پہ انگارجلتے ہیں
حقہ جسے ملبرو، بینسن اینڈہیجز، ڈن ہل کی فلٹرکی پنی نے ٹھنڈاکیا
کون دہکاسکےگا؟
وہ ٹاہلی جسے ڈائی بیک اورفنگس نے یوں ناتواں کردیاہے
کہ اب ٹاہلی تھلے کوئی بیٹھدااوربٹھیندانئیں اے
کوئی پیاردی گل کریندانئیں اے
سووہ چارخانہ، وہ لنگی وہ کرتا پراناہوا
چارخانے کی لنگی قدامت نہیں جانگلی پن کااظہاربن کر
فقط بھداڑانے کاسامان ہے
( اورجواب تلک یہ نہ سمجھاوہ نادان ہے)
دیکھ کھدرجسے ہینڈلوموں پہ ایک ایک دھاگے کے
معیارکودیکھتے ،
پیارسے بننے والے جلاہے کوتو پاولی اورڈرپوک کہہ کہہ کے ہنستاتھا
اب سکہ رائج الوقت نئیں
بخت کی دھوپ چھاؤں کی اٹکھیلیاں دیکھ اورجان لے اب ترابخت نئیں
بخت کاقافلہ مدتوں سے روانہ ہوا
جس زمانے کی تقویم میں آج تک قیدہو
اس زمانے کوبیتے زمانہ ہوا