پانچویں پیڑھی کے جنگجو
کب تلک اس ریاست کو پہناؤ گے بیانیے کا کفن؟
تم شہادت کے پردے سے قاتل کے دستانے بننے میں کتنے مگن ہو
یہی مشغلہ کتنی نسلوں سے ہے
کیوں نہیں تھک رہے؟
کب تلک حادثاتی شہادت کی تقریبِ ایوارڈ کے منتظم اور محرک رہو گے
ہماری زبانیں تروپے لگا کر ہمارے ہی تالو سے چپکا کے، ہونٹوں پہ بخیے لگا کر ،
یہ ملبوس بے داد، لوگوں کی خاطر
سیے جاؤ گے
کس ڈھٹائی سے تم ناپتے ہو ہمارے کفن کے لئے
(بعض اوقات تو ناپتے بھی نہیں )کورالٹھا
مگر یادرکھو
کسی دن یہ دیکھو گے تم
سارے مظلوم، شہداء، اٹھائے گئےسارے ،گم شد سبھی
اپنی آنکھوں پہ باندھی گئی پٹیاں کھولیں گے
اور رسی بٹیں گے،
تمہارے لئے، بیانیے کے لئے