خداکی لڑائی - فائنڈورا ادب

خداکی لڑائی

ڈاکٹر فاخرہ نورین

تخلیق کار

سامنے ریگزاروں کی ازلی اداسی ہے ویرانی ہے
اورزمینی زمانی شقی قلب مخلوق کی ایک بہتات ہے
آسماں بس قدیمی مگرحیرتی آنکھ میں اک معلق تجسس لیے سوچتاہے
یہ منظراسے کیادکھانے لگاہے
کہ میدان ہے
جس میں ہے اک جوانمرداوراہلِ خانہ
خواتین بچے، جواں سال بیٹا بھتیجے
ابھی عمرکی سیڑھیاں چڑھ رہے دونوں بھانجے
کوئی اوربھی ہے جو بچوں، خواتین کی اورجواں مرد کی آس ہے
یعنی عباس ہے
یہ مٹھی بھر افراد کی اک جماعت تولشکر نہیں ہے
اور افراد بھی کیا،
یہاں شش مہینے کابچہ ہے اور چند سالوں کی بیٹی
بھلاجنگ بچوں سے کب ہوسکی ہے
سو میدان ہے
سارالاشوں سے جوپٹ گیاہے
یہیں پر کٹے بازوؤں اورمشکِ سکینہ سے بہتاہواخون پانی ہواجارہاہے
جوانوں بزرگوں کے لاشے،
ہیں ریگِ رواں سےگھلے جوں بتاشے
خدااورفرشتے تماشائی ہیں
اورزمیں پر پئے فتح و امدادآنے سے انکاری ہیں
بس جواں مرد ہے
جسے وقت حیرت بھری آنکھ سے دیکھتاہے
کہ سب کچھ لٹاکربھی وہ ڈٹ گیاہے
اکیلاحسین اپناکنبہ کٹاکر خداکی لڑائی لڑے جارہاہے
یہی کربلاہے

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top