اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی
تُو جس کی فرقت میں ہو چلی ہے ادھوری آدھی ، او ہجرزادی
یہ وصل تیرا نصیب کب ہے ، یہ قرب تجھ کو نہ راس ہوگا
کہ اٹھ کھڑا ہو گا شہر میں پھر کوئی فسادی ، او ہجرزادی
ابھی تو پیروں سے دکھ کے پچھلے سفر کے چھالے نہیں گئے تھے
یہ کس نے تجھ کو نئ مسافت کی پھر دعا دی ، او ہجرزادی
جو آگ اندر سے مارتی تھی تو ہجراں ہجراں پکارتی تھی
تری حمایت نے دیکھ ، میری زباں جلا دی ، او ہجرزادی
تو فیض ، ناصر ،فراز ، محسِن کی اس وراثت کی تنہا وارث
تو دکھ کی اس سلطنت کی اکلوتی شاہزادی ، او ہجرزادی
فرح گوندل







Leave a Reply