Skip to content

Home

About Us

Advertisement

Contact Us

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • Pinterest
  • WhatsApp
  • RSS Feed
  • TikTok
نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری منڈی بہاءالدین

  • صفحہ اؤل
  • اسلامی مضامین
  • شاعری
  • مضامین
  • افسانہ
  • طنزومزاح
  • کالم
Search
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا، حاجت روا اور شفا دینے والا نہیں

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا، حاجت روا اور شفا دینے والا نہیں

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا، حاجت روا اور شفا دینے والا نہیں

قرآنِ مجید کا سب سے بنیادی اور مرکزی پیغام توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، اس کی ضروریات کو پورا فرمایا، اسے زندگی عطا کی، رزق دیا، صحت دی اور پھر اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید بار بار انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی نفع پہنچانے والا ہے، وہی نقصان دور کرن
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے لیے بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔” (الانعام: 17) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ مصیبت کو دور کرنے کا اختیار صرف اسی کے پاس ہے۔ دنیا کی تمام طاقتیں جمع ہو جائیں، تمام وسائل میسر آ جائیں، اگر اللہ تعالیٰ کسی آزمائش کو باقی رکھنا چاہے تو کوئی اسے ختم نہیں کر سکتا، اور اگر اللہ تعالیٰ کسی مصیبت کو دور کرنے کا فیصلہ فرما لے تو کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔
قرآنِ مجید انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور پوچھتا ہے: “بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف کو دور کر دیتا ہے؟” (النمل: 62) یہ سوال درحقیقت اعلانِ توحید ہے۔ جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے، جب دنیا کے سہارے ختم ہو جاتے ہیں، جب تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں، تب اس کا دل خود بخود اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی فطرت کی گواہی ہے کہ اصل مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
قرآنِ مجید بار بار بتاتا ہے کہ دعا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔” (غافر: 60) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو براہِ راست اپنی طرف بلایا ہے۔ اس نے یہ نہیں فرمایا کہ کسی اور کے ذریعے پکارو بلکہ فرمایا کہ مجھے پکارو، میں قبول کروں گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں دعا کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: “اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔” (البقرہ: 186) اس آیت میں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور بندے کے درمیان کسی واسطے کا ذکر نہیں فرمایا۔ دوسرے مقامات پر انبیاء علیہم السلام سے متعلق سوالات کے جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ “کہہ دیجیے“، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے براہِ راست فرمایا کہ میں قریب ہوں۔ یہ قربت اس بات کا اعلان ہے کہ بندہ براہِ راست اپنے رب سے تعلق قائم کرے۔
قرآنِ مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان نقل کیا گیا ہے: “اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔” (الشعراء: 80) غور کیجیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کی نسبت اپنی طرف کی لیکن شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوا، علاج اور طبیب سب اسباب ہیں لیکن شفا کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر وہ شفا دینا چاہے تو معمولی سبب سے بھی شفا مل جاتی ہے اور اگر نہ چاہے تو بڑے سے بڑا علاج بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے رزق کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔ فرمایا: “بے شک اللہ ہی رزق دینے والا، بڑی قوت والا اور مضبوط ہے۔” (الذاریات: 58) انسان اپنی محنت کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، کھیتی باڑی کرتا ہے یا ملازمت کرتا ہے لیکن رزق کا خالق اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی لیے مومن کا دل اسباب سے زیادہ رب الاسباب پر بھروسہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔” (ہود: 6) جب ہر جاندار کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے تو حاجات پوری کرنے والا بھی وہی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
قرآنِ مجید نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا: “کہہ دیجیے کہ میں اپنے لیے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔” (الاعراف: 188) اگر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ﷺ اپنے ذاتی اختیار سے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دیگر تمام مخلوق بدرجہ اولیٰ اس اختیار سے محروم ہے۔ اس آیت کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ حقیقی قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا: “کہہ دیجیے کہ میں تمہارے لیے نقصان اور بھلائی کا اختیار نہیں رکھتا۔” (الجن: 21) یہ آیت بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نفع و نقصان کا اصل مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
قرآنِ مجید تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم سے یہی کہا: “اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“ یہی پیغام حضرت نوح علیہ السلام نے دیا، یہی حضرت ہود علیہ السلام نے دیا، یہی حضرت صالح علیہ السلام نے دیا اور یہی حضرت شعیب علیہ السلام نے دیا۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز توحید تھا، اور توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنی امید، خوف، دعا اور توکل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرے۔
حضرت یونس علیہ السلام جب سمندر میں مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے اور تمام ظاہری اسباب ختم ہو گئے تو انہوں نے کسی مخلوق کو نہیں پکارا بلکہ کہا: “تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔” (الانبیاء: 87) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور ہم اسی طرح مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔” (الانبیاء: 88) یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
قرآنِ مجید فرماتا ہے: “مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔” (الجن: 18) اسی طرح فرمایا: “اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔” (القصص: 88) یہ آیات واضح طور پر بندے کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ دعا، فریاد، استغاثہ اور حاجت طلبی کا اصل مستحق صرف وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور جو اس کی ہر ضرورت کو جانتا ہے۔
مومن کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر پوری دنیا اس کے خلاف ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہو تو کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر پوری دنیا اس کی مدد کرنا چاہے لیکن اللہ تعالیٰ مدد نہ فرمائے تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید فرماتا ہے: “اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔” (المائدہ: 23) اور فرمایا: “جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔” (الطلاق: 3)
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تمام مشکلات کا حل، تمام حاجات کی تکمیل، تمام بیماریوں کی شفا اور تمام پریشانیوں کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے قرآنِ مجید مومن کو سکھاتا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اسی سے مانگے، اسی سے امید رکھے، اسی پر بھروسہ کرے اور اسی کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔ یہی تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت تھی، یہی قرآنِ مجید کا پیغام ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مشکل کشا ہے، وہی حاجت روا ہے، وہی شفا دینے والا ہے، وہی نفع و نقصان کا مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے تمام خزانے ہیں۔ مومن کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کو پکارے اور یقین رکھے کہ “کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟” (الزمر: 36) یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی ہے، وہی اس کا مددگار ہے، وہی اس کا محافظ ہے اور وہی اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا ہے۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Featured Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Search

Author Details

مزمل حسین چیمہ

بوسال سکھا

  • X
  • Instagram
  • TikTok
  • Facebook

Follow Us on

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • VK
  • Pinterest
  • Last.fm
  • TikTok
  • Telegram
  • WhatsApp
  • RSS Feed

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)

Archives

  • July 2026 (33)
  • June 2026 (34)
  • May 2026 (14)
  • April 2026 (1)

Tags

آزاد حسین آزاد (1) آغر ندیم سحر (1) امرتا پریتم (4) اکرم جاذب (9) دائم اقبال دائم (1) سید حسنین محسن (1) شعیب الحسن بوسال (1) عقیل عباس (13) فرح گوندل (2) محبوب زاہد (1) مزمل حسین چیمہ (26) مستنصر حسین تارڑ (13) مظہر اقبال گوندل (1) ندیم اکرم ورک (1) نعیم رضا بھٹی (2) ڈاکٹر فاخرہ نورین (1) یسریٰ وصال (1)

About Us

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری پر “نگارشاتِ منڈی بہاءالدین” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے؛ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم جہاں منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، لکھاری، کالم نگار، محققین اور اہلِ قلم کی تخلیقات کو ایک باوقار اور مستقل جگہ فراہم کی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم نئی اور سینئر دونوں نسلوں کے تخلیق کاروں کے لیے یکساں طور پر وقف ہے، تاکہ ان کی علمی و ادبی خدمات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔

اگر آپ کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے اور آپ شاعری، افسانہ، مضمون، کالم، تحقیق یا کسی بھی ادبی صنف میں تخلیق کرتے ہیں، تو ہم آپ کو اس ادبی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Latest Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)
  • Instagram
  • Facebook
  • LinkedIn
  • X
  • VK
  • TikTok

Proudly Powered by Findora Directory | Managed by: Muzammal Hussain Cheema (Busal)

Scroll to Top