میٹھی گولیوں کا شہنشاہ
(ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی داستان، جو مریض سے زیادہ بیماری کو صبر سکھاتا ہے)
دنیا میں دو طرح کے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مریض کو دیکھ کر بیماری پہچان لیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو بیماری کو دیکھ کر مریض پہچان لیتے ہیں۔ لیکن ہومیوپیتھک ڈاکٹر ایک تیسری ہی مخلوق ہے۔ وہ مریض کو دیکھ کر پہلے اس کی طبیعت، پھر اس کی عادات، اس کے سسرال، بچپن، پسندیدہ رنگ، خواب، موسم، پسندیدہ پھل، اور آخر میں اگر وقت بچ جائے تو بیماری بھی پوچھ لیتا ہے۔
ہمارے جاننے والے ایک ایسے ہی ڈاکٹر صاحب ہوا کرتے تھے جن کا کلینک دیکھ کر پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا تھا کہ یہ دواخانہ کم اور شیشیوں کا عجائب گھر زیادہ ہے۔ دیواروں پر لکڑی کی الماریاں تھیں جن میں ہزاروں ننھی ننھی شیشیاں یوں سجی تھیں جیسے فوج کی پریڈ ہو رہی ہو۔ ہر شیشی پر ایسا نام لکھا تھا جسے پڑھنے کے بعد لاطینی زبان بھی استعفیٰ دے دے۔
کلینک میں داخل ہوتے ہی دو خوشبوئیں استقبال کرتیں۔ ایک اسپرٹ کی اور دوسری امید کی۔ اسپرٹ شیشیوں سے آتی تھی اور امید ڈاکٹر صاحب کی مسکراہٹ سے۔
ڈاکٹر صاحب کا ایمان تھا کہ دنیا میں کوئی بیماری لاعلاج نہیں، صرف مریض جلد باز ہیں۔ وہ فرمایا کرتے:
“ہومیوپیتھی میں علاج آہستہ ضرور ہوتا ہے، لیکن اتنا آہستہ کہ بعض اوقات بیماری بھی بور ہو کر خود ہی چلی جاتی ہے۔”
ایک مرتبہ میں نے پوچھا:
“ڈاکٹر صاحب! بخار کتنے دن میں اتر جاتا ہے؟”
فرمانے لگے:
“اگر دوا نہ لو تو سات دن میں، اور اگر ہماری دوا لو تو پورے ایک ہفتے میں۔”
یہ جواب سن کر مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ سائنس اور فلسفے کے درمیان ایک شیشی کا فاصلہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں مریض کم اور عقیدت مند زیادہ آتے تھے۔ ہر مریض کے پاس ایک ایسی کہانی ضرور ہوتی جس میں کسی بڑے اسپتال نے جواب دے دیا تھا، پھر ڈاکٹر صاحب نے تین میٹھی گولیاں دیں اور مریض اگلے دن چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا۔
ہمارے معاشرے میں کامیاب ہومیوپیتھک ڈاکٹر وہ نہیں جس کی دوا اچھی ہو، بلکہ وہ ہے جس کے مریض دوسروں کو پکڑ پکڑ کر اپنے علاج کی داستان سنائیں۔ ایسے مریض تبلیغی جماعت کے کارکنوں سے بھی زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔ آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ “سر میں درد ہے”، جواب آئے گا:
“آپ نے فلاں ڈاکٹر کو نہیں دکھایا؟ میرے ماموں کے پھپھو کی بیٹی کی ہمسائی کے دیور کے گھٹنے میں درد تھا، آج وہ سیڑھیاں دو دو کر کے چڑھتے ہیں۔”
اس دلیل کا بیماری سے اتنا ہی تعلق ہوتا ہے جتنا بجلی کے بل کا چاند گرہن سے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا اصل ہتھیار دوا نہیں، اعتماد ہوتا ہے۔ وہ نبض بھی ایسے پکڑتا ہے جیسے ملک کا بجٹ بنا رہا ہو۔ مریض کی آنکھوں میں یوں دیکھتا ہے جیسے ایکسرے مشین اس کی پلکوں کے پیچھے نصب ہو۔ پھر آہستہ سے پوچھتا ہے:
“رات دو بجے کے بعد طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے یا پہلے؟”
مریض حیران رہ جاتا ہے۔ جسے یہ بھی یاد نہیں ہوتا کہ رات دو بجے وہ جاگ رہا تھا یا سو رہا تھا، وہ فوراً سوچنے لگتا ہے کہ شاید یہی اصل بیماری ہے۔
ہومیوپیتھی میں سوالات کی ایک الگ دنیا ہے۔
“آپ کو گرمی زیادہ لگتی ہے یا سردی؟”
“اداسی شام کو ہوتی ہے یا صبح؟”
“نمک پسند ہے یا مٹھائی؟”
“غصہ اندر رکھتے ہیں یا باہر نکالتے ہیں؟”
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ علاج نہیں، شادی کے لیے رشتہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایک نوجوان آیا اور بولا:
“ڈاکٹر صاحب! مجھے کھانسی ہے۔”
ڈاکٹر صاحب نے پوچھا:
“آپ کو خواب کیسے آتے ہیں؟”
وہ بولا:
“جناب! خواب تو اچھے آتے ہیں، نیند نہیں آتی۔”
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا:
“اصل بیماری یہی ہے۔”
مریض مطمئن ہو گیا، حالانکہ وہ آیا کھانسی کے لیے تھا اورنیند کی دوا لے کرجا رہا تھا۔
ہومیوپیتھی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دوا جتنی کم ہوتی ہے، یقین اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ شیشی چھوٹی، گولی ننھی، خوراک مختصر، مگر امید اتنی بڑی کہ بعض مریض دوا لینے سے پہلے ہی صحت مند محسوس کرنے لگتے ہیں۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ بعض اوقات انسان دوا سے نہیں، امید سے بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک بزرگ روزانہ آتے تھے۔ بیماری کوئی خاص نہ تھی، تنہائی زیادہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب ہر بار ایک نئی شیشی پکڑا دیتے اور فرماتے:
“یہ بہت طاقتور دوا ہے۔”
بزرگ خوشی خوشی چلے جاتے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہر شیشی میں تقریباً ایک ہی قسم کی میٹھی گولیاں تھیں، فرق صرف نمبر کا تھا۔
میں نے پوچھا:
“ڈاکٹر صاحب! یہ کیا راز ہے؟”
وہ مسکرائے اور بولے:
“بیٹا! بعض مریضوں کو دوا نہیں، توجہ چاہیے ہوتی ہے۔ اگر میں انہیں پانچ منٹ محبت سے سن لوں تو آدھی بیماری وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ باقی آدھی یہ میٹھی گولیاں سنبھال لیتی ہیں۔”
اس دن پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید ہر کلینک میں دوا سے زیادہ انسانیت کی ضرورت ہوتی ہے۔








Leave a Reply