Profile
بوہت (Bohat)
ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
تعارف
بوہت ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قدیم، تاریخی اور زرعی گاؤں ہے، جو منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 16 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ بستی آر کیو (RQ) لنک کینال کے قریب آباد ہے اور اپنی زرخیز زرعی زمین، دیہی ثقافت، مہمان نوازی، سماجی روایات اور باہمی تعاون کے باعث علاقے کے نمایاں دیہات میں شمار ہوتی ہے۔
موجودہ بوہت بنیادی طور پر ہردو بوہت اور رکھ بوہت پر مشتمل ہے، جبکہ ڈیرا کتھانہ بھی اسی علاقے کا حصہ ہے۔ گاؤں کی معاشی سرگرمیوں میں زراعت، مویشی پالنا، سرکاری و نجی ملازمتیں، پاک فوج میں خدمات اور بیرونِ ملک روزگار نمایاں ہیں۔
جغرافیائی محلِ وقوع
بوہت منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 16 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور آر کیو لنک کینال کے کنارے آباد ہے۔
گاؤں کی جغرافیائی حدود کے مطابق مشرق میں پنڈی لالہ، مغرب میں مانگٹ، شمال میں آدھی شریف اور چورنڈ جبکہ جنوب میں میکن واقع ہیں۔
بوہت کے گردونواح میں مانگٹ، آدھی شریف، چورنڈ، جیسک، قلعہ عطار سنگھ، پنڈی لالہ، پیر بُلہ، میکن، لیدھر اور دھول رانجھا سمیت متعدد دیہات آباد ہیں۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایات کے مطابق بوہت کا نام گوندل بار کے ایک معروف بزرگ بوہت کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ ان کی مہمان نوازی، انصاف پسندی اور سماجی خدمات کے باعث برطانوی دورِ حکومت میں انہیں وسیع زرعی اراضی الاٹ کی گئی، جس پر بعد ازاں موجودہ بستی بوہت آباد ہوئی۔
وقت کے ساتھ یہ آبادی پھیلتی اور ترقی کرتی گئی اور ہردو بوہت، رکھ بوہت اور ڈیرا کتھانہ پر مشتمل ایک اہم دیہی مرکز کی شکل اختیار کر گئی۔
ابتدائی دور میں بوہت کا اردگرد کے دیہات سے رابطہ زیادہ تر کچے راستوں کے ذریعے تھا۔ گاؤں کے بزرگوں نے اپنی زمینیں اور ذاتی وسائل پیش کرکے رابطہ سڑکوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جس سے بعد میں بوہت اور گردونواح کے درمیان آمدورفت بہتر ہوئی۔
آبادی
بوہت اور ہردو بوہت کی مجموعی آبادی تقریباً 10,500 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ گاؤں میں تقریباً 7,833 رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں۔ آبادی میں خواتین کی تعداد بھی نمایاں ہے۔
اہم برادریاں
بوہت میں گوندل، گجر، للہ، رانجھا، سید، ادھلانہ اور دیگر مقامی برادریاں آباد ہیں۔ مختلف برادریوں نے گاؤں کی سماجی، زرعی، مذہبی، سیاسی اور فلاحی زندگی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
ذرائع معاش
بوہت کے لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی ملازمتیں، پاک فوج میں خدمات، کاروبار اور بیرونِ ملک روزگار بھی مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم اہلِ گاؤں کی ایک بڑی تعداد فرانس، اسپین، اٹلی، یونان، برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عمان سمیت مختلف ممالک میں روزگار سے وابستہ ہے۔ بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر بھی مقامی معیشت اور فلاحی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تعلیم
بوہت میں تعلیم کے حوالے سے سرکاری اور نجی ادارے موجود ہیں اور شرحِ خواندگی میں وقت کے ساتھ بہتری آئی ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں میں گورنمنٹ ہائی اسکول برائے طالبات، گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول برائے طلبہ، گورنمنٹ پرائمری اسکول برائے طلبہ اور گورنمنٹ پرائمری اسکول برائے طالبات شامل ہیں۔
نجی شعبے میں برائٹ بیکن اسکول، النور اسکول، جناح پبلک ہائی اسکول، علامہ اقبال پبلک اسکول اور الفرقان پبلک ہائی اسکول تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مذہبی مقامات
بوہت میں تقریباً 15 مساجد موجود ہیں، جن میں 3 جامع مساجد شامل ہیں۔ گاؤں میں مذہبی سرگرمیاں بھی سماجی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
علاوہ ازیں پیر ملان کا مزار بھی گاؤں کے مذہبی و روحانی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
کھیل
بوہت میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی مختلف سرگرمیاں موجود ہیں۔ مقبول کھیلوں میں کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، کبڈی اور بیڈمنٹن شامل ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں میں صحت مند مقابلے، باہمی رابطے اور اجتماعی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔
طرزِ زندگی
بوہت کے لوگ عمومی طور پر سادگی، مہمان نوازی، باہمی احترام، تعاون اور سماجی ہم آہنگی کے لیے معروف ہیں۔ روایتی دیہی زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم، ملازمت، بیرونِ ملک روزگار اور جدید ذرائعِ مواصلات نے مقامی طرزِ زندگی میں بھی تبدیلی پیدا کی ہے۔
نوجوان نسل تعلیم، کھیل، سرکاری و نجی ملازمتوں، کاروبار اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
بوہت کی رابطہ سڑکیں اور ترقیاتی تاریخ
بوہت کی ترقی میں مقامی بزرگوں اور سماجی شخصیات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ بوہت–مانگٹ، بوہت–نویں لوک اور بوہت–آدھی رابطہ راستوں کے قیام میں متعدد مقامی افراد نے اپنی زمینیں، وسائل اور وقت صرف کیا۔
خصوصاً علی محمد ولد سالم، جلال خان ولد سالم، متعلی خان ولد سالم، علی محمد ولد محمد مولاداد، صالحوں خان ولد خان محمد مولاداد اور غلام رسول بووا نے بوہت–مانگٹ رابطہ سڑک کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اسی طرح غلام رسول نماجی نے بوہت–نویں لوک راستے کے لیے اہم خدمات انجام دیں، جبکہ بوہت–آدھی سڑک کے ابتدائی راستے کے قیام میں محمد صالحوں کمیر، غلام حیدر نماجی، محمد شیر نماجی، غلام رسول نماجی، چوہدری چنن، محمد خان گامے ماجھے، محمد خان اکیانہ اور محمد بخش گجر پٹواری کی کوششیں قابلِ ذکر ہیں۔
بعد ازاں مختلف ادوار میں ان رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے لیے مقامی افراد نے سرکاری اداروں سے رابطے کیے اور ذاتی و اجتماعی سطح پر کوششیں جاری رکھیں۔ 2012ء سے 2025ء کے دوران محمد نذیر ولد جلال خان سالم کی کوششوں سے بوہت–مانگٹ اور بوہت–آدھی سڑکوں کو کارپٹ روڈ میں تبدیل کروانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔
پنچایت اور سماجی روایات
بوہت میں کئی دہائیوں تک مقامی تنازعات اور اجتماعی معاملات کے حل میں روایتی پنچایت کا اہم کردار رہا۔ علی محمد ولد سالم اور حاجی صالحوں کمیر کو پنچایتی نظام میں دیانت داری، غیر جانب داری اور معاملہ فہمی کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل رہا۔
مقامی سطح پر باہمی مشاورت، اجتماعی فیصلوں اور تنازعات کے پرامن حل کی روایت نے گاؤں کی سماجی زندگی کو منظم رکھنے میں کردار ادا کیا۔
سیاسی و بلدیاتی تاریخ
بوہت کے لوگوں نے مختلف ادوار میں سیاسی اور بلدیاتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں علی محمد ولد سالم نے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ بعد کے ادوار میں مختلف مقامی شخصیات نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔
1985ء کے بعد ممتاز تارڑ رکن قومی اسمبلی اور غلام رسول ایڈووکیٹ پنڈی والا رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، جن سے مقامی سطح پر رابطوں کے ذریعے گاؤں کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں مدد ملی۔ ان منصوبوں میں گورنمنٹ مڈل اسکول کی منظوری، لڑکیوں کے اسکول کے لیے خصوصی گرانٹ اور وقف شدہ سڑکوں پر سولنگ جیسے کام شامل تھے۔
1998ء میں چوہدری سیون خان ولد علی محمد چیئرمین منتخب ہوئے۔ ان کے دور میں بوہت میں بجلی کی فراہمی کا منصوبہ مکمل ہونا گاؤں کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں عبدالمجید گجر اور دیگر مقامی شخصیات نے بھی بلدیاتی سطح پر خدمات انجام دیں۔
2001ء میں قیصر عباس نماجی یونین کونسل چورنڈ سے وائس چیئرمین منتخب ہوئے، جبکہ 2015ء کے آخری بلدیاتی انتخابات میں قیصر اقبال ولد عباس خوشی بھی یونین کونسل چورنڈ سے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔
نمایاں شخصیات
بوہت کی سماجی، سیاسی، تعلیمی، مذہبی اور ترقیاتی تاریخ میں متعدد شخصیات نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان میں بزرگ و سماجی شخصیات، سیاسی کارکنان، سرکاری افسران، اساتذہ، بیرونِ ملک مقیم افراد اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
نمایاں شخصیات (Notable Personalities)
بزرگ، سماجی اور سیاسی شخصیات
علی محمد سالم کا
محمد افضل مولا داد کا
محمد نذیر سالم کا (آدھی اور مانگٹ کی سڑک کی تعمیر میں نمایاں کردار)
محمد یار کمیر کا (نمبر دار)
حاجی اشرف للہ
محمد خان کیانہ
غلام رسول نماجی کا
چوہدری نذیر احمد بولا (سابق ناظم)
حاجی محمد اقبال گوندل
چوہدری نذر محمد گوندل (چنن کے)
چوہدری غلام رسول گوندل (مرحوم)
حاجی عباس احمد (نماجی کے)
چوہدری مشتاق احمد گوندل
سید بشیر حسین شاہ
عمر حیات گوندل
میاں رزاق احمد رانجھا (مرحوم)
قیصر عباس (سابق نائب ناظم)
چوہدری عارف گجر (سابق یو سی ممبر)
حاجی صالح گوندل (مرحوم)
عبدالمجید گجر (سابق چیئرمین)
محمد بخش پٹواری
مہدی ماسٹر خان گجر
نئی نسل کی نمایاں شخصیات
شاہد نذیر سالم کا
راؤف اقبال کمیر کا
فیاض احمد نماجی کا
امجد جاوید للہ
شاہد اقبال خوشی کا
نثار احمد وریام کا
عامر رحمان کمیر کا
جاوید اطلس سالم کا
محمد اصغر سالم کا
محمد نواز نماجی کا
جاوید اقبال سکندر کا
مختار احمد بابے شرف کا
صادق گجر
شاہد اقبال ہدرانہ
طاہر اقبال گوندل
اشرف اسلم گوندل
تصدق مشتاق گوندل
ارشد اللہ گوندل
قمر عباس گوندل
شاہد اقبال گوندل
یاسر نور بولا
فخر عباس فری
عمر نذیر بولا
تصور للہ
احیل یار گوندل
کنول مختار گوندل
ڈاکٹر مظہر
مدثر اقبال گوندل
شاہد عمر گوندل
تصور مشتاق گوندل (سعودی عرب)
رشید احمد ایڈووکیٹ (سردارے کرمے کے)
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور شخصیات
چوہدری تصور نذیر بولا — ایڈووکیٹ، سابق سول جج
مدثر اقبال گوندل — بی اے، پنجاب یونیورسٹی
سید نجف علی — ایف اے، ایف سی کالج
چوہدری نعیم منور گوندل — ایف اے
امجد اقبال للہ — ایڈووکیٹ
حافظ نوید — اسسٹنٹ سول انجینئر
عرفان علی — اسسٹنٹ سول انجینئر
وقار اسلم — بی ایس سی (UET)
یاسر الطاف — سول انجینئر
اوورسیز ویلفیئر فاؤنڈیشن بوہت
اوورسیز ویلفیئر فاؤنڈیشن بوہت کا قیام 2018ء میں عمل میں آیا۔ یہ ضلع منڈی بہاؤالدین کی پہلی منظم اوورسیز فلاحی تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم اہلِ گاؤں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے گاؤں کی ترقی، بنیادی سہولیات اور مستحق خاندانوں کی معاونت کو فروغ دینا ہے۔
تنظیم کے قیام اور اسے فعال بنانے میں شاہد نذیر ولد محمد نذیر سالم کا بنیادی کردار ہے، جبکہ دیگر اوورسیز اور مقامی افراد نے بھی اس مقصد کے لیے تعاون کیا۔
فاؤنڈیشن کی نمایاں خدمات میں قبرستان کی تعمیر و توسیع اور لائٹنگ، جدید جنازہ گاہ کی تعمیر، گلیوں کی پختگی، آدھی تا بوہت روڈ پر سٹریٹ لائٹس، پانچ واٹر فلٹریشن پلانٹس، دو عوامی پارکس، تقریباً 35 لاکھ روپے کی لاگت سے سیوریج نالے کی تعمیر اور جدید سہولیات سے مزین لاری اڈے کی تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشترکہ زکوٰۃ فنڈ کے ذریعے 14 مستحق خاندانوں کی باقاعدہ کفالت بھی کی جا رہی ہے۔
اوورسیز ویلفیئر فاؤنڈیشن بوہت بیرونِ ملک مقیم اہلِ گاؤں کی اجتماعی قوت، اتحاد اور خدمتِ خلق کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے گاؤں کی بنیادی سہولیات، سماجی بہبود اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بوہت ایک ایسا دیہی مرکز ہے جہاں قدیم روایات، زرعی معیشت، مذہبی و سماجی اقدار، تعلیم، سیاسی شعور، بیرونِ ملک روزگار اور اجتماعی فلاح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مقامی بزرگوں کی سماجی خدمات سے لے کر موجودہ نسل کی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور فلاحی سرگرمیوں تک، بوہت کی تاریخ اجتماعی کوششوں اور ترقی کے مسلسل سفر کی عکاسی کرتی ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






