Profile
ہیلاں (Helan)
تعارف
ہیلاں (Helan) ضلع منڈی بہاؤالدین، تحصیل پھالیہ کا ایک قدیم، تاریخی، زرعی اور تجارتی اعتبار سے اہم قصبہ اور یونین کونسل ہے۔ یہ چج دوآب (دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان) کے زرخیز میدانوں میں واقع ہے اور اپنی قدیم تاریخ، تاریخی آثار، تعلیمی اداروں، زرعی پیداوار، تجارتی سرگرمیوں اور سماجی اہمیت کی وجہ سے علاقے میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔
ہیلاں صدیوں سے علم، تجارت، زراعت اور ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں قدیم تاریخی عمارت ہنجیرا (مقبرہ شیخ علی بن حسن بن عرب)، قدیم بازار، نہری نظام، زرخیز اراضی اور مختلف برادریوں کی مشترکہ آبادی اس کی منفرد شناخت ہیں۔ یہ قصبہ تحصیل پھالیہ کی اہم یونین کونسل بھی ہے اور اس کے زیر انتظام متعدد دیہات شامل ہیں۔
بنیادی معلومات
| عنوان | تفصیل |
|---|---|
| نام | ہیلاں (Helan) |
| ملک | پاکستان |
| صوبہ | پنجاب |
| ضلع | منڈی بہاؤالدین |
| تحصیل | پھالیہ |
| انتظامی حیثیت | یونین کونسل |
| زبان | پنجابی، اردو |
| بنیادی ذریعہ معاش | زراعت، تجارت، کاروبار، سرکاری ملازمت، بیرون ملک روزگار |
محل وقوع
ہیلاں ضلع منڈی بہاؤالدین کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔
یہ قصبہ:
- منڈی بہاؤالدین سے تقریباً 20 کلومیٹر
- پھالیہ سے تقریباً 8 کلومیٹر
- ڈنگہ سے تقریباً 20 کلومیٹر
- مانو چک سے تقریباً 4 کلومیٹر
کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ مقام جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان چج دوآب میں واقع ہے۔
قرب و جوار کے علاقے
مشرق
- کوٹ غلام رسول
- آدو سکھالی
شمال
- مکھناوالی
- ڈھنگراں والی
جنوب
- سرلی کلاں
- مانو چک
جنوب مغرب
- کوٹ رحم شاہ
یہ تمام بستیاں ہیلاں کے ساتھ معاشی، تجارتی اور سماجی روابط رکھتی ہیں۔
نہری نظام
ہیلاں کی زرخیزی میں دو بڑی نہروں کا بنیادی کردار ہے۔
پھالیہ برانچ کینال (چھوٹی نہر)
یہ نہر قصبے کے مشرقی حصے سے گزرتی ہے اور مقامی طور پر “چھوٹی نہر” کہلاتی ہے۔
آر کیو لنک (بڑی نہر)
یہ بڑی نہر قصبے کے شمال مشرق سے گزرتی ہے اور ہزاروں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتی ہے۔
یہ دونوں نہریں نہ صرف زراعت بلکہ علاقے کے قدرتی حسن میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
وجہ تسمیہ
ہیلاں کے نام کے بارے میں دو روایات مشہور ہیں۔
پہلی روایت
بعض پرانی تحریروں میں اس قصبے کو سکندر اعظم کے دور سے جوڑا گیا ہے، تاہم اس روایت کی مضبوط تاریخی شہادت موجود نہیں۔
دوسری اور زیادہ معروف روایت
مقامی روایات اور تاریخی حوالوں کے مطابق اس علاقے کا نام راجا ہیل کے نام پر رکھا گیا، جو اس علاقے کا مقامی حکمران تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ “ہیل” سے “ہیلاں” نام رائج ہوگیا۔
یہ روایت مقامی طور پر زیادہ معروف اور قابل قبول سمجھی جاتی ہے۔
تاریخی پس منظر
ہیلاں ضلع منڈی بہاؤالدین کی قدیم ترین آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔
مقامی روایات کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ سو سال قبل عرب سپہ سالار شیخ علی بن حسن بن عرب اپنی فوج کے ساتھ اس علاقے میں آئے۔
اس وقت یہاں راجا ہیل کی حکومت تھی۔
دونوں افواج کے درمیان شدید جنگ ہوئی جس میں ہزاروں سپاہی مارے گئے جبکہ شیخ علی بن حسن بھی شہید ہوگئے۔
بعد ازاں ان کی تدفین اسی مقام پر کی گئی جہاں آج ان کا تاریخی مقبرہ موجود ہے۔
یہ مقبرہ علاقے کی تاریخی شناخت بن چکا ہے۔
ہنجیرا (مقبرہ شیخ علی بن حسن)
ہیلاں کا سب سے اہم تاریخی ورثہ “ہنجیرا” ہے۔
یہ تقریباً چار سو سال سے زیادہ قدیم مغلیہ طرز تعمیر کی یادگار ہے۔
اس عمارت کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں۔
- آٹھ کونوں پر مشتمل تعمیر
- تقریباً ساڑھے آٹھ فٹ موٹی دیواریں
- چار بلند محرابی دروازے
- چونے، اینٹوں کے سفوف اور ریت سے تعمیر
- سیمنٹ اور سریا استعمال نہیں ہوا
- اندرونی سیڑھیاں
- اوپر علامتی قبر
- نیچے اصل قبر
- اردگرد قدیم قبرستان
- قدیم بارہ دری کے آثار
مقامی لوگوں کے مطابق مقبرے کے نیچے سرنگ موجود ہے، تاہم ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ اصل تدفینی حصہ ہے۔
یہ تاریخی عمارت محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں شامل ہے لیکن مزید مرمت اور تحفظ کی ضرورت ہے۔
قبل از تقسیم ہند
1947ء سے قبل ہیلاں میں مسلمان، ہندو اور سکھ آباد تھے۔
ہندو برادری زیادہ تر تجارت سے وابستہ تھی جبکہ مسلمان زراعت اور کاروبار کرتے تھے۔
قصبے میں ابتدائی تعلیمی ادارے تقسیم سے پہلے بھی موجود تھے۔
اس زمانے میں ہیلاں سے مانو چک، پھالیہ اور ڈنگہ تک کچی سڑکیں موجود تھیں۔
ذرائع آمدورفت میں تانگہ اور سائیکل استعمال ہوتے تھے۔
بعد از تقسیم
قیام پاکستان کے بعد ہندو اور سکھ خاندان بھارت منتقل ہوگئے جبکہ مسلمان مہاجرین یہاں آکر آباد ہوئے۔
1950ء میں مقامی شخصیات کی کوششوں سے اسلامیہ ہائی سکول قائم ہوا جس نے پورے علاقے میں تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
یونین کونسل
ہیلاں ایک اہم یونین کونسل ہے۔
اس کے زیر انتظام متعدد دیہات شامل ہیں جن میں:
- ہیلاں
- چرن والا
- برجی
- کوٹلی قاضی
- قتلی
- ڈھنگراں والی
- بھنڈر خورد
- رجویا
- سیدا چک
- ہیگر
شامل ہیں۔
آبادی
ہیلاں ایک بڑی آبادی پر مشتمل قصبہ ہے۔
مقامی اندازوں کے مطابق اس کی آبادی کئی ہزار افراد پر مشتمل ہے اور مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
محلے
ہیلاں مختلف محلوں پر مشتمل ہے۔
اہم محلے:
- آرائیاں محلہ
- قاضی محلہ
- رانا محلہ
- قصائی محلہ
- پیراں محلہ
- کھوکھر محلہ
- شیخ محلہ
- مرزا محلہ
- گالو محلہ
- اسلام آباد محلہ
اہم برادریاں
ہیلاں میں مختلف برادریاں آباد ہیں۔
ان میں نمایاں ہیں۔
- آرائیں
- قاضی (ہاشمی)
- علوی قصائی
- کھوکھر
- رانا
- منہاس
- سید
- مرزا
- مغل
- شیخ
- بٹ
- چوہان
- باجوہ
- پٹھان
- جٹ
- مچھی
- پراچہ
- گالو
یہ تمام برادریاں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتی ہیں۔
معیشت
ہیلاں کی معیشت متنوع ہے۔
اہم ذرائع آمدن:
- زراعت
- سبزی منڈیاں
- کاروبار
- سرکاری ملازمت
- فوج
- نجی ادارے
- بیرون ملک روزگار
کئی خاندان یورپ، برطانیہ، خلیجی ممالک اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔
زراعت
ہیلاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے۔
اہم فصلیں:
- گندم
- چاول
- گنا
- کپاس
- مکئی
- جوار
- مختلف سبزیاں
پھل
- آم
- امرود
- تربوز
- خربوزہ
- جامن
- کیلا
تعلیم
ہیلاں کو تحصیل پھالیہ کا تعلیمی مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔
یہاں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اہم ادارے:
- گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول
- گورنمنٹ گرلز ہائی سکول
- گورنمنٹ پرائمری سکول
- گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول
- غزالی سکول
- دارارقم سکول
- دی برائٹ فیوچر کالج
- مختلف مدارس اور اکیڈمیاں
مذہبی مراکز
قصبے میں متعدد مساجد، مدارس اور ایک امام بارگاہ موجود ہے۔
جامع مساجد، اہل سنت، اہل حدیث اور شیعہ مکتب فکر کی عبادت گاہیں مذہبی ہم آہنگی کی علامت ہیں۔
بازار
ہیلاں کا مرکزی بازار تحصیل پھالیہ کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
یہاں:
- جنرل سٹور
- زرعی سامان
- میڈیکل سٹور
- کپڑے
- ہارڈویئر
- الیکٹرانکس
- سبزی منڈی
موجود ہیں۔
صحت
قصبے میں متعدد نجی کلینک اور میڈیکل سٹور موجود ہیں جبکہ ایک نجی ہسپتال بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔
عوام ایک جدید سرکاری ہسپتال کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کھیل
ہیلاں میں کھیلوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
مشہور کھیل:
- کرکٹ
- کبڈی
- فٹ بال
- والی بال
- گھڑ سواری
- کشتی
- تیراکی
ثقافت
ہیلاں کی ثقافت خالص پنجابی روایات کی عکاس ہے۔
یہاں:
- مہمان نوازی
- میلاد
- مذہبی اجتماعات
- پنجابی روایات
- ڈیرے
- گھڑ سواری
- زرعی تہوار
نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
اہم مسائل
- سرکاری کالج کی کمی
- جدید سرکاری ہسپتال کی عدم موجودگی
- بعض علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل
- سوئی گیس کی عدم فراہمی
- پارک اور تفریحی مقامات کی کمی
- تاریخی مقبرہ ہنجیرا کی مناسب بحالی نہ ہونا
ہیلاں ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک تاریخی، زرعی، تعلیمی اور تجارتی مرکز ہے۔ اس کی پہچان قدیم تاریخی عمارت ہنجیرا، زرخیز زرعی زمینیں، نہری نظام، فعال بازار، تعلیمی ادارے، مذہبی ہم آہنگی اور مہمان نواز عوام ہیں۔ مناسب ترقیاتی منصوبوں، تاریخی ورثے کے تحفظ، جدید طبی سہولیات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام سے ہیلاں مستقبل میں ضلع منڈی بہاؤالدین کے نمایاں تاریخی و ثقافتی مراکز میں مزید اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






