Profile
سوہاوہ بولانی
تعارف
سوہاوہ بولانی ضلع منڈی بہاؤالدین کے قدیم ترین اور اہم دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قصبہ منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر پھالیہ روڈ پر واقع ہے اور سوہاوہ کی تاریخی بستی کے تین بڑے حصوں یعنی سوہاوہ بولانی، سوہاوہ جملانی اور سوہاوہ دلوآنہ میں سے ایک ہے۔ سوہاوہ نہ صرف ضلع منڈی بہاؤالدین کی بڑی آبادیوں میں شامل ہے بلکہ تاریخی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔
سوہاوہ بنیادی طور پر گوندل راجپوتوں کی قدیم آبادی ہے، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر جٹ، گجر، مہاجر اور مختلف برادریاں بھی یہاں آباد ہوتی گئیں۔ آج سوہاوہ ایک ترقی یافتہ قصبے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ضلع کے اہم انتظامی و تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایات کے مطابق سوہاوہ کی بنیاد گوندل قبیلے کے بزرگ سید خان گوندل نے رکھی۔ سید خان کے چھ بیٹے تھے جن کی نسلوں نے بعد ازاں مختلف مواضعات اور بستیاں آباد کیں۔
سوہاوہ بولانی کا نام سید خان کے دوسرے بڑے بیٹے بہلول خان گوندل کے نام سے منسوب ہے۔ بہلول کی اولاد بعد میں اس علاقے کی سب سے بڑی اور بااثر آبادی بن گئی، جس کی وجہ سے اس موضع کا نام سوہاوہ بولانی پڑا۔
تاریخی روایات کے مطابق سوہاوہ اور اس کے گردونواح کا علاقہ صدیوں سے گوندل قبیلے کا مرکز رہا ہے۔ مغل دور، سکھ دور اور بعد ازاں برطانوی دور حکومت میں بھی یہاں کے زمیندار اور سردار علاقائی سطح پر اثر و رسوخ رکھتے تھے۔
بہلول خان گوندل اور ان کی اولاد
بہلول خان گوندل کے تین بیٹے تھے:
- حاجی
- باکھو
- مہر (مہرو)
حاجی کی اولاد
حاجی کی اولاد کئی بڑی شاخوں میں تقسیم ہوئی جن میں:
- شمس کے
- کمے کے
- لہنے کے
- بابے
نمایاں ہیں۔
حاجی کی نسل صرف سوہاوہ بولانی تک محدود نہیں رہی بلکہ:
- پپلی آلا کھوہ
- ڈیرہ حاجی جلال
- معافی آلا کھوہ
اور دیگر دیہات میں بھی آباد ہوئی۔
حاجی کی اولاد کا ایک بڑا حصہ دریانی ٹبی پر آباد ہے۔
باکھو کی اولاد
باکھو کی نسل باکھوآنہ کے نام سے مشہور ہے۔
ان کی اکثریت مختلف ڈیرہ جات اور زرعی علاقوں میں آباد ہے اور زراعت سے وابستہ رہی ہے۔
مہر (مہرو) کی اولاد
مہر کی نسل مہروانہ کہلاتی ہے۔
ان کی آبادیاں:
- ڈیرہ مہروانہ
- برج گھنیاں
- ضلع جہلم کے بعض علاقے
میں بھی موجود ہیں۔
سیاسی اثر و رسوخ
بہلول کی اولاد خصوصاً کمے کے خاندان کو تقریباً ایک صدی سے زائد عرصے تک سیاسی اور انتظامی برتری حاصل رہی۔
سکھ دور حکومت سے لے کر قیام پاکستان تک:
واسو۔سوہاوہ ذیلداری
اسی خاندان کے پاس رہی۔
اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے:
چوہدری منظور احمد ولد چوہدری سردار خان
1970ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن (MPA) منتخب ہوئے۔
احمد خان گوندل کی اولاد
سید خان کے ایک اور بیٹے احمد خان تھے۔
روایات کے مطابق احمد خان انتہائی شریف النفس، عبادت گزار اور نیک سیرت شخصیت تھے۔
احمد کی اولاد دو بڑی شاخوں میں تقسیم ہوئی:
پہلی شاخ
- سربندی
- گاجی
دوسری شاخ (احمدانہ)
احمدانہ برادری مزید دو حصوں میں تقسیم ہوئی:
- لکھن اور مکھن
- راجہ اور محکم
مقامی بزرگوں کے مطابق:
“احمد کے گھر محکم پیدا ہوا تو احمد کا بھی نام بنا”
احمد کی اولاد آج بھی:
- سوہاوہ گاؤں
- پھالیہ روڈ
- مل روڈ
اور ملحقہ علاقوں میں آباد ہے۔
بنگسانہ برادری
سوہاوہ بولانی میں بنگسانہ برادری بھی آباد ہے جو تاریخی طور پر اسی پتی اور سماجی ڈھانچے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔
رقبہ
حد بست نمبر 47 کے مطابق:
سوہاوہ بولانی کا کل رقبہ تقریباً 3673 ایکڑ ہے۔
یہ علاقہ مکمل طور پر زرعی اہمیت رکھتا ہے اور پنجاب کے زرخیز ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
جغرافیائی محل وقوع
سوہاوہ بولانی منڈی بہاؤالدین شہر کے قریب واقع ہے۔
قریبی علاقے:
| سمت | علاقہ |
|---|---|
| مشرق | واسو |
| مغرب | 3 چک |
| شمال مشرق | منڈی بہاؤالدین |
| جنوب | جھولانہ |
آبادی اور برادریاں
سوہاوہ بولانی میں سب سے بڑی برادری:
- گوندل
ہے۔
دیگر برادریوں میں:
- گجر
- مہاجر جٹ
- ارائیں
- کھوہار
- دیگر پیشہ ور طبقات
شامل ہیں۔
تعلیم
تعلیمی اعتبار سے سوہاوہ بولانی ضلع کے ترقی یافتہ دیہات میں شمار ہوتا ہے۔
گورنمنٹ ہائی سکول سوہاوہ
یہ ادارہ برطانوی دور میں:
1874ء
میں پرائمری سکول کے طور پر قائم ہوا۔
بعد ازاں:
1984ء
میں اسے ہائی سکول کا درجہ دیا گیا۔
یہ سکول ضلع بھر میں:
- کبڈی
- کرکٹ
کے مقابلوں میں متعدد چیمپئن شپ جیت چکا ہے۔
نجی تعلیمی ادارے
- لسانی ماڈل ہائی سکول
- دیگر پرائیویٹ سکولز
بھی علاقے میں تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تعلیم کی شرح گزشتہ چند دہائیوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے۔
معیشت
سوہاوہ بولانی کی معیشت کی بنیاد درج ذیل شعبوں پر ہے:
زراعت
اہم فصلیں:
- گندم
- چاول
بیرون ملک مقیم افراد
ہزاروں افراد:
- اٹلی
- اسپین
- فرانس
- برطانیہ
- جرمنی
- خلیجی ممالک
میں مقیم ہیں۔
ان کی طرف سے بھیجا جانے والا زرمبادلہ مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نمایاں شخصیات
سیاسی و سماجی شخصیات
چوہدری سردار خان زیلدار
قیام پاکستان کے بعد سوہاوہ کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
علاقے میں فلاحی خدمات اور سماجی اثر و رسوخ کے باعث انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
سکندر حیات گوندل
دو مرتبہ چیئرمین یونین کونسل سوہاوہ بولانی منتخب ہوئے۔
مقامی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ظہور احمد گوندل ایڈووکیٹ
معروف قانون دان اور چیئرمین یونین کونسل سوہاوہ بولانی رہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیات
محمد اکرم اشرف گوندل
ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، حکومت پنجاب
محمد امین
سول سروس میں نمایاں خدمات۔
شمشیر احمد گوندل
انتظامی شعبوں میں نمایاں مقام۔
کیپٹن شکیل احمد
فوجی خدمات کے حوالے سے معروف شخصیت۔
کھیل
سوہاوہ بولانی کھیلوں خصوصاً دیہی کھیلوں کے حوالے سے مشہور ہے۔
نمایاں کھیل:
- کبڈی (انتہائی مقبول)
- کرکٹ
- والی بال
علاقے کے نوجوان ضلعی اور بین الاضلاعی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
ثقافت اور طرزِ زندگی
سوہاوہ بولانی کے لوگ:
- مہمان نواز
- غیرت مند
- محنتی
- روایات پسند
تصور کیے جاتے ہیں۔
اگرچہ جدید تعلیم اور شہری اثرات بڑھ رہے ہیں، لیکن دیہی ثقافت، پنچایتی روایات، خاندانی نظام اور سماجی یکجہتی آج بھی نمایاں ہے۔
سوہاوہ بولانی ضلع منڈی بہاؤالدین کی ایک تاریخی، زرعی اور سیاسی اہمیت کی حامل بستی ہے جس کی بنیاد گوندل قبیلے کے بزرگ بہلول خان کی نسل نے رکھی۔ صدیوں پر محیط تاریخ، وسیع زرعی رقبہ، بااثر خاندان، قدیم تعلیمی ادارے، بیرون ملک مقیم کمیونٹی اور مضبوط سماجی روایات اسے ضلع کی ممتاز آبادیوں میں شامل کرتی ہیں۔ یہ بستی آج بھی اپنی تاریخی شناخت، زراعتی خوشحالی اور سماجی اثر و رسوخ کے باعث چج دوآب کے اہم مراکز میں شمار ہوتی ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






