پروفیسر محمد اسحق انجم بوسال
ماہرِ تعلیم، محقق، سماجی کارکن اور سول انجینئرنگ کے ممتاز استاد
📍 تاریخ پیدائش: 30 مارچ 1964
📍 آبائی گاؤں: بوسال، ضلع منڈی بہاؤالدین
📍 خاندان: راجپوت چوہان خاندان
پروفیسر محمد اسحق انجم بوسال ضلع منڈی بہاؤالدین کی ان باوقار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تدریس، سماجی خدمت اور فنی مہارت کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ ایک ماہرِ تعلیم، سول انجینئرنگ کے ممتاز استاد، محقق، سماجی کارکن اور نہایت خوش اخلاق انسان ہیں۔
آپ کی شخصیت سادگی، دیانت، انسان دوستی اور خلوص کا حسین امتزاج ہے۔ ادب، تاریخ، تصوف، روحانیت اور سیاحت سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور نوجوان نسل کی تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
آپ کے دادا محترم چوہدری عبدالغفور تقسیمِ ہند 1947ء کے دوران بھارتی پنجاب کے ضلع کرنال سے ہجرت کر کے بوسال میں آباد ہوئے۔ وہ محکمہ ریلوے میں بطور فٹ کانسٹیبل خدمات انجام دیتے رہے اور ملکوال سے ریٹائر ہوئے۔ پاکستان میں خدمات کے اعتراف میں انہیں “تمغۂ پاکستان” سے بھی نوازا گیا۔
انہوں نے سماجی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مہاجرین کی “موتی مسجد” کے لیے زمین عطیہ کی جبکہ “دارا مہاجرین” کی تعمیر میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کے والد محترم بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، دیانتدار اور سماجی شخصیت تھے۔ انہوں نے پانڈووال سے میٹرک سائنس کیا اور آڑھت کے کامیاب کاروبار سے وابستہ رہے۔ وہ مختلف سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں متحرک رہے اور رانا ریاست علی بوسال کی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے خزانچی بھی رہے۔
تعلیمی سفر
پروفیسر محمد اسحق انجم بوسال نے ابتدائی تعلیم بوسال سے حاصل کی۔
* مڈل تک تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول بوسال سے حاصل کی اور پوری کلاس میں اسکالرشپ حاصل کی۔
* میٹرک گورنمنٹ پائلٹ سکول پھالیہ سے نمایاں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا اور وہاں بھی اسکالرشپ حاصل کی۔
* بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ کالج رسول سے سول ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کی۔
بچپن میں کچھ عرصہ دریائے سندھ کے کنارے واقع تاریخی شہر کلورکوٹ، ضلع بھکر میں بھی رہے جہاں دینی و ابتدائی تعلیم حاصل کی اور تحصیل بھکر میں بطور ٹاپر نمایاں مقام حاصل کیا۔
پیشہ ورانہ خدمات
پروفیسر محمد اسحق انجم بوسال نے اپنی عملی زندگی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے گزاری۔
محکمہ صحت اور تعلیم
* محکمہ صحت کے EPI / پولیو پروگرام میں بطور ویکسینیٹر خدمات انجام دیں۔
* محمد خان جونیجو کے دور میں “نئی روشنی سکول” میں بطور ٹیچر تدریسی خدمات سرانجام دیں۔
* وفاقی محکمہ لٹریسی اینڈ ماس ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد میں بطور ٹیچر خدمات انجام دیں۔
سول انجینئرنگ اور کنسٹرکشن
* تقریباً آٹھ سال تک مختلف سرکاری اداروں میں بطور سول انجینئرنگ کنٹریکٹر کام کیا۔
* پرائیویٹ کنسٹرکشن کمپنیوں اور تعلیمی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔
* دبئی میں بطور سائٹ انچارج خدمات انجام دیں۔
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول / یونیورسٹی آف رسول
2006ء میں دبئی سے واپسی کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول (موجودہ یونیورسٹی آف رسول) میں بطور لیکچرار سول انجینئرنگ خدمات کا آغاز کیا۔
تقریباً 15 سال تک TEVTA اور بعد ازاں یونیورسٹی آف رسول میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اور 30 مارچ 2024ء کو ریٹائر ہوئے۔
اپنی ملازمت کے دوران:
* ادارے کی ترقیاتی، فنی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔
* مختلف کمیٹیوں میں بطور کنوینئر اور ممبر خدمات سرانجام دیں۔
* طلبہ کے ساتھ مل کر متعدد سول ورک، کنکریٹ روڈ اور پراجیکٹ کلاسز کی نگرانی کی۔
* ادارے کو خوبصورت اور جدید بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
* مختلف پروفیشنل کورسز اور ٹریننگز اعلیٰ اعزاز کے ساتھ مکمل کیں۔
شخصیت اور دلچسپیاں
پروفیسر محمد اسحق انجم بوسال نہایت سادہ مزاج، خوش اخلاق، ملنسار اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں۔
انہیں:
* مطالعہ
* ادب اور تاریخ
* تصوف و روحانیت
* سیروسیاحت
* نوجوانوں کی تربیت
سے خصوصی دلچسپی ہے۔
انہوں نے پاکستان کے مختلف خوبصورت علاقوں کی سیاحت کی جن میں:
کالاش، سوات، وادی کالام، اوشو، بحرین، سیدو شریف، وائٹ پیلس، کاغان، ناران، بابوسر ٹاپ، جھیل لولوسر اور شمالی علاقہ جات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دو مرتبہ ایران کی زیارات اور تاریخی مقامات مثلاً نیشاپور، عمر خیام کے مزار اور شاہِ ایران کے محلات کی سیاحت بھی کی۔
سماجی خدمات
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ گاؤں بوسال کی فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ نوجوانوں کی فلاح اور سماجی ترقی کے لیے قائم کی گئی این جی او کے بانی اراکین اور تھنکرز میں شامل رہے۔
وہ ہمیشہ نوجوان نسل کو محنت، اخلاق، علم اور کردار کی اہمیت کا درس دیتے ہیں۔
پروفیسر محمد اسحق انجم بوسال کی زندگی محنت، دیانت، علم دوستی اور خدمتِ انسانیت کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے تدریس کو صرف پیشہ نہیں بلکہ قوم سازی کا ذریعہ سمجھا۔
ان کی شخصیت ضلع منڈی بہاؤالدین خصوصاً بوسال کے نوجوانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





