اقتدار جاوید
اردو و پنجابی شاعر | کالم نگار | بیوروکریٹ (بینکر)
قلمی نام: اقتدار جاوید
تاریخ پیدائش: 1 نومبر 1959
آبائی قصبہ: بادشاہ پور، ضلع منڈی بہاؤالدین
📌 تعارف
اقتدار جاوید ضلع منڈی بہاؤالدین کے تاریخی قصبے بادشاہ پور سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ایک مایہ ناز، منفرد اور کثیر الجہت اردو و پنجابی شاعر، کالم نگار اور بیوروکریٹ (بینکر) ہیں۔ وہ جدید اردو نظم اور غزل دونوں اصناف میں یکساں مہارت اور آفاقی شعور کی وجہ سے ادبی حلقوں میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
👤 خاندانی پس منظر
اقتدار جاوید کا تعلق ایک علمی، ادبی اور صوفیانہ گھرانے سے ہے۔
والد گرامی: سراج قادری – پنجابی زبان کے انتہائی معروف صوفی شاعر اور مذہبی شخصیت تھے۔ اقتدار جاوید نے اپنے والد سے شدید ادبی اور روحانی لگاؤ رکھا۔ انہوں نے پلاک کے تعاون سے اپنے والد کی 20 کے قریب کتب کو مرتب کر کے “کلیاتِ سراج قادری” کے نام سے شائع کروایا۔
🎓 تعلیمی و علمی سفر
ابتدائی تعلیم: مقامی سطح پر حاصل کی
ایم اے (M.A): پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی
فارسی کورس: ادب اور زبان پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور (GCU) سے فارسی زبان کا خصوصی کورس کیا
🏦 پیشہ ورانہ زندگی
بینکاری (بیوروکریسی):
اقتدار جاوید نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز شعبہ بینکنگ سے کیا۔ وہ طویل عرصے تک بینک کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔
صحافت اور کالم نگاری:
پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ صحافت سے بھی جڑے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے روزنامہ 92 نیوز میں باقاعدگی سے کالم لکھ رہے ہیں، جہاں ان کے کالموں کو سیاسی، سماجی اور ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
✨ شعری و ادبی خصوصیات
اقتدار جاوید کی شاعری عام روایتی شاعری سے ہٹ کر ہے۔ ان کی نظموں اور غزلوں میں نمایاں پہلو:
اساطیری اور دیومالائی علامتیں – انسانی ذات اور کائناتی وسعتوں کو جوڑنے کے لیے دیومالائی اور مقامی علامتوں کا خوبصورت استعمال
باپ اور بیٹے کا رشتہ – اپنے اسلاف، بالخصوص اپنے والد سے جڑے رہنے اور ماضی کو حال سے منسلک کرنے کا فلسفہ
مقبول غزلیں – صوفیانہ رنگ کے ساتھ ساتھ جدید انسان کے باطنی کرب اور خوف کی عکاسی
مشہور شعر:
دل کے کعبے کو گرا دیتا ہے ڈرتا بھی نہیں
کون ہے حجاج بن یوسف جو مرتا بھی نہیں
📚 تصانیف اور شعری مجموعے
اردو کتب (نظم و غزل):
ناموجود (غزل اور نظم کا مجموعہ)
میں سانس توڑتا ہوا (نظمیں)
متن در متن موت (نظمیں)
ایک اور دنیا (نظمیں) – اس کتاب کا دیباچہ معروف نقاد ناصر عباس نیر نے لکھا ہے
عین سر پہ ستارہ (نظمیں)
لہو لال گھڑی
سخن نشانی عشق کی
پنجابی کتب:
پیو دی وار (پنجابی صنف “وار” میں لکھی گئی کتاب)
چار چفیرے – اس کتاب میں پنجابی زبان کی طویل ترین غزل شامل ہے
نیں چندل دے کاچھلے
اقتدار جاوید کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک بھر کے بڑے ادبی میلوں اور سیمینارز میں مدعو کیا جاتا ہے۔ وہ منڈی بہاؤالدین کی مٹی کا ایک معتبر ادبی حوالہ ہیں۔ ایک بینکر، کالم نگار، اردو اور پنجابی کے کامیاب شاعر – ان کی شخصیت کئی جہتوں کی حامل ہے، اور وہ جدید اردو شاعری میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





