Rasool Engineering School — A historic center of technical education in Punjab

Muzammal Hussain Cheema May 8, 2026 1 min read

 رسول انجینئرنگ اسکول — پنجاب میں تکنیکی تعلیم کا تاریخی مرکز

گزٹیئر آف گجرات 1921 کے مطابق رسول انجینئرنگ اسکول برصغیر میں تکنیکی اور انجینئرنگ تعلیم کے ابتدائی اور اہم ترین اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ہندوستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک منفرد مقام رکھتا تھا۔ خاص طور پر نہری نظام، تعمیراتِ عامہ اور انجینئرنگ کے میدان میں اس ادارے نے بے شمار ماہرین تیار کیے، جنہوں نے بعد ازاں پنجاب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

رسول انجینئرنگ اسکول کی بنیاد دراصل 1873 میں پڑی، جب پنجاب یونیورسٹی کالج کے تحت سروے کلاسز شروع کی گئیں۔ اس دور میں برطانوی حکومت کو ایسے تربیت یافتہ افراد کی ضرورت تھی جو زمینوں کی پیمائش، نقشہ سازی اور تعمیراتی منصوبوں میں معاونت کر سکیں۔ انہی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ ابتدائی سروے کلاسز قائم کی گئیں۔ بعد ازاں 1885 میں ان کلاسز کو میو اسکول آف آرٹ منتقل کر دیا گیا، جہاں تکنیکی اور عملی تربیت کا سلسلہ جاری رہا۔

1902 سے 1906 کے دوران یہ احساس پیدا ہوا کہ پنجاب میں انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے ایک علیحدہ اور باقاعدہ ریاستی ادارے کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت اس اسکول کو یونیورسٹی کے نظام سے الگ کر کے ایک خودمختار ادارے کی حیثیت دینے کی تجویز سامنے آئی۔ بالآخر یکم جون 1906 کو رسول کے مقام پر اس ادارے کی بنیاد رکھ دی گئی۔

اس منصوبے میں پنجاب کے اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر سر لوئیس ڈین نے خصوصی دلچسپی لی۔ ان کا خیال تھا کہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے نہری نظام، سڑکوں، پلوں اور سرکاری تعمیراتی منصوبوں کے لیے مقامی سطح پر تربیت یافتہ انجینئرز اور اوورسیئرز تیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی وژن کے تحت رسول انجینئرنگ اسکول کو ایک عملی اور جدید تکنیکی ادارے کے طور پر ترقی دی گئی۔

اسکول کی عمارت اور تعلیمی اسکیم کی حتمی منظوری 1910 میں دی گئی جبکہ باقاعدہ کلاسز کا آغاز 26 اپریل 1912 کو ہوا۔ اس ادارے کے لیے رسول کے مقام کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح عملی مقصد موجود تھا۔ اس وقت اپر جہلم کینال کے ہیڈ ورکس کی تعمیر اسی علاقے میں جاری تھی، جس کی وجہ سے طلبہ کو انجینئرنگ کی عملی تربیت براہِ راست فراہم کرنا ممکن ہو گیا۔ طلبہ نہ صرف کتابی علم حاصل کرتے تھے بلکہ نہری نظام، تعمیراتی ڈھانچوں اور انجینئرنگ کے مختلف منصوبوں کا عملی مشاہدہ بھی کرتے تھے۔

یہی عملی ماحول رسول انجینئرنگ اسکول کو دوسرے تعلیمی اداروں سے ممتاز بناتا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد پنجاب کے نوجوانوں کو محکمہ تعمیراتِ عامہ یعنی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) کی ذیلی خدمات کے لیے تیار کرنا تھا۔ برطانوی حکومت پنجاب میں نہری نظام، سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارتوں اور ریلوے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی تھی، جس کے لیے تکنیکی ماہرین کی شدید ضرورت تھی۔ رسول انجینئرنگ اسکول اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔

اسکول میں دو بنیادی کورسز کروائے جاتے تھے۔ پہلا دو سالہ کورس سب اوورسیئرز کے لیے تھا، جنہیں تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی اور عملی انجینئرنگ کے کاموں کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ دوسرا تین سالہ کورس ڈرافٹس مین کے لیے مخصوص تھا، جس میں طلبہ کو نقشہ سازی، ڈیزائننگ اور تکنیکی ڈرائنگ کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں یہ مہارتیں انتہائی اہم سمجھی جاتی تھیں کیونکہ تمام سرکاری منصوبے ہاتھ سے تیار کردہ نقشوں اور ڈرائنگز پر مبنی ہوتے تھے۔

گزٹیئر کے مطابق مستقبل میں یہاں موٹر اور مکینیکل انجینئرنگ کی کلاسز شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت اس ادارے کو محض ایک محدود تکنیکی اسکول نہیں بلکہ مستقبل کے جدید انجینئرنگ مرکز کے طور پر دیکھ رہی تھی۔

رسول انجینئرنگ اسکول میں طلبہ کے لیے رہائشی سہولیات بھی موجود تھیں۔ اسکول کے بورڈنگ ہاؤس یا ہاسٹل میں تقریباً 100 طلبہ کے رہنے کی گنجائش تھی۔ اس دور میں جب دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے بڑے شہروں میں رہائش ایک بڑا مسئلہ تھی، ایسی سہولیات تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔

داخلہ سالانہ امتحان کی بنیاد پر دیا جاتا تھا، تاہم برطانوی حکومت نے زمیندار طبقے کے لیے خصوصی رعایت بھی رکھی ہوئی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری کے تحت 25 فیصد نشستیں زمیندار یا زرعی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے لیے مخصوص تھیں تاکہ دیہی علاقوں کے نوجوان بھی تکنیکی تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس پالیسی کا مقصد دیہی معاشرے کو جدید فنی تعلیم سے جوڑنا تھا۔

اسی طرح محکمہ تعمیراتِ عامہ میں مستقل ملازمتوں کی نصف نشستیں مسلمان طلبہ کے لیے مختص کی گئی تھیں تاکہ انہیں سرکاری خدمات میں بہتر نمائندگی حاصل ہو سکے۔ یہ اس دور کی ایک اہم انتظامی پالیسی تھی کیونکہ برطانوی حکومت مختلف طبقات کو سرکاری ملازمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

رسول انجینئرنگ اسکول نے پنجاب میں تکنیکی تعلیم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ خصوصاً نہری نظام کی تعمیر اور توسیع کے دور میں اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد نے عملی انجینئرنگ، سروے، نقشہ سازی اور تعمیرات کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس ادارے کی وجہ سے پنجاب میں مقامی سطح پر ایسے تکنیکی ماہرین دستیاب ہوئے جو نہری کالونیوں، ریلوے لائنوں، پلوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر میں شامل رہے۔

یہ ادارہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں تھا بلکہ برطانوی دور کی صنعتی اور زرعی ترقی کا اہم حصہ بھی تھا۔ پنجاب میں زرعی انقلاب، نہری آبپاشی اور تعمیراتی منصوبوں کے پیچھے جن اداروں نے خاموش مگر بنیادی کردار ادا کیا، رسول انجینئرنگ اسکول ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

آج بھی رسول کا یہ تاریخی ادارہ پنجاب میں فنی تعلیم کی قدیم روایت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گزٹیئر آف گجرات 1921 میں درج یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ تحصیل پھالیہ اور ضلع گجرات کا یہ علاقہ صرف زرعی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ تکنیکی اور تعلیمی میدان میں بھی برصغیر کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام کا حامل تھا۔

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *