Mandi Bahauddin District – A Complete Story of History, Civilization, and Development

Muzammal Hussain Cheema May 8, 2026 1 min read

ضلع منڈی بہاءالدین – تاریخ، تہذیب اور ترقی کی مکمل داستان

ضلع منڈی بہاءالدین پنجاب، پاکستان کے وسطی حصے میں واقع ایک تاریخی، زرعی اور ثقافتی اہمیت کا حامل خطہ ہے۔ یہ ضلع دو عظیم دریاؤں، دریائے جہلم اور دریائے چناب، کے درمیان آباد ہے، جس کی وجہ سے اس کی زمین نہایت زرخیز اور آب و ہوا معتدل سمجھی جاتی ہے۔ شمال میں دریائے جہلم تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر بہتا ہے جبکہ جنوب میں دریائے چناب تقریباً 39 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہی جغرافیائی خصوصیات اس ضلع کو صدیوں سے انسانی آبادی، زراعت اور تجارت کے لیے موزوں بناتی رہی ہیں۔

ضلع منڈی بہاءالدین تین تحصیلوں پر مشتمل ہے، جن میں تحصیل منڈی بہاءالدین، تحصیل پھالیہ اور تحصیل ملکوال شامل ہیں۔ ضلع کا کل رقبہ تقریباً 2673 مربع کلومیٹر ہے جبکہ یہ سطح سمندر سے تقریباً 220 میٹر بلند واقع ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پنجاب کے اہم اضلاع میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان کے بڑے شہری مراکز میں اس کا نمایاں مقام ہے۔

“منڈی بہاءالدین” نام دراصل دو الفاظ سے مل کر بنا ہے۔ “منڈی” سے مراد وہ بڑی اناج مارکیٹ ہے جو اس علاقے کی معاشی شناخت بنی، جبکہ “بہاءالدین” قریبی قدیم بستی “پنڈی بہاءالدین” سے لیا گیا، جو بعد ازاں جدید شہر کا حصہ بن گئی۔ یہ نام اس ضلع کی تجارتی اور تاریخی شناخت کو ایک ساتھ ظاہر کرتا ہے۔

اس خطے کی قدیم تاریخ 326 قبل مسیح تک جا پہنچتی ہے، جب یہاں سکندرِ اعظم اور راجہ پورس کے درمیان مشہور جنگِ ہائیڈیسپس لڑی گئی۔ تاریخی روایات کے مطابق یہ جنگ دریائے جہلم کے کنارے موجودہ مونگ کے مقام پر ہوئی، جو آج کے منڈی بہاءالدین شہر سے تقریباً آٹھ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ یونانی تاریخ دان دریائے جہلم کو “Hydaspes” کہتے تھے، اسی لیے یہ جنگ Battle of Hydaspes کے نام سے معروف ہوئی۔

اس جنگ میں اگرچہ سکندرِ اعظم نے فتح حاصل کی، لیکن راجہ پورس کی بہادری، مزاحمت اور جنگی حکمت عملی نے سکندر کو شدید متاثر کیا۔ مؤرخین کے مطابق یہی سکندر کی آخری بڑی جنگ ثابت ہوئی، کیونکہ اس کے بعد اس کی فوج نے مزید پیش قدمی سے انکار کر دیا تھا۔ جنگ کے بعد سکندر نے دو نئے شہر آباد کیے۔ پہلا شہر “نیکیا” تھا، جسے بعض ماہرین موجودہ مونگ کے مقام سے جوڑتے ہیں، جبکہ دوسرا شہر “بیوسیفیلا” تھا، جسے موجودہ پھالیہ کے علاقے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ “بیوسیفیلس” دراصل سکندر کے محبوب گھوڑے کا نام تھا، جو اسی جنگ کے دوران یا اس کے فوراً بعد مر گیا تھا۔

یہ جنگ برصغیر کی تاریخ میں اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں یونانی اثرات پنجاب اور شمالی ہندوستان میں داخل ہوئے۔ بعد کے ادوار میں یونانی طرزِ تعمیر، فنون، سیاست اور مذہبی فنون نے مقامی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے، جن میں یونانی بدھ فن اور انڈو-یونانی سلطنتیں نمایاں مثالیں ہیں۔

منڈی بہاءالدین کی تاریخ کا ایک اور اہم باب جنگِ چلیانوالہ ہے، جو 1849ء میں دوسری اینگلو-سکھ جنگ کے دوران لڑی گئی۔ یہ جنگ موجودہ چلیانوالہ کے مقام پر سکھ افواج اور برطانوی فوج کے درمیان ہوئی۔ اگرچہ اس جنگ میں دونوں فریقوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لیکن بالآخر پنجاب برطانوی راج کے زیرِ تسلط آ گیا۔ چلیانوالہ کی جنگ کو برطانوی فوج کی مشکل ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آج بھی اس علاقے میں انگریز فوجیوں کی قبریں اور یادگاریں موجود ہیں، جنہیں مقامی لوگ “گورا قبرستان” کے نام سے جانتے ہیں۔

اس خطے کی پہلی معروف انسانی بستی “پنڈی بہاءالدین” تھی، جو تقریباً 1506ء میں قائم ہوئی۔ روایت کے مطابق حضرت بہاءالدین نامی ایک صوفی بزرگ پنڈی شاہ جہانیان سے ہجرت کر کے یہاں آئے اور ایک چھوٹی بستی آباد کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بستی ترقی کرتی گئی اور بعد میں جدید شہر منڈی بہاءالدین کا حصہ بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس شہر کی شناخت میں روحانیت، دیہی ثقافت اور تاریخی ورثہ نمایاں نظر آتا ہے۔

برطانوی دور میں اس خطے کی ترقی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانوی حکومت نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں نہری کالونیاں آباد کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ زراعت کو فروغ دیا جا سکے اور شمالی علاقوں تک رسائی مضبوط بنائی جا سکے۔ اس وقت موجودہ منڈی بہاءالدین اور پھالیہ کا بڑا حصہ “گوندل بار” کہلاتا تھا، جو زیادہ تر بنجر زمینوں اور چراگاہوں پر مشتمل تھا۔

انگریز حکومت نے اس خطے کو زرعی لحاظ سے آباد کرنے کے لیے لوئر جہلم کینال کا عظیم منصوبہ شروع کیا، جو 1902ء میں مکمل ہوا۔ اس نہری نظام نے بنجر زمینوں کو سرسبز کھیتوں میں تبدیل کر دیا اور پورے خطے کی معاشی حالت بدل دی۔ بعد ازاں 1916ء میں پنڈی بہاءالدین ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا گیا، جو نارتھ ویسٹرن ریلوے کا حصہ تھا۔ اس ریلوے لائن کی اہمیت صرف تجارتی نہیں بلکہ دفاعی بھی تھی، کیونکہ برطانوی حکومت اسے شمالی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اہم سمجھتی تھی۔

برطانوی حکومت نے زمینوں کی منظم تقسیم کے لیے چک بندی کا نظام بھی متعارف کروایا۔ اس نظام کو سر میلکم ہیلی نے 51 چکوں کی بنیاد پر ترتیب دیا۔ ان زمینوں کو ان افراد میں تقسیم کیا گیا جنہوں نے برطانوی حکومت کی وفاداری یا خدمات انجام دی تھیں۔ انہی چکوں میں چک نمبر 51 کے مقام پر ایک بڑی اناج منڈی قائم کی گئی، جو جلد ہی پورے علاقے کی سب سے بڑی تجارتی منڈی بن گئی۔ یہی منڈی بعد میں “منڈی بہاءالدین” کے نام سے مشہور ہوئی۔

1920ء میں برطانوی حکومت نے اس بستی کو باضابطہ طور پر منڈی بہاءالدین کا درجہ دیا۔ 1923ء میں شہر کی ازسرِنو منصوبہ بندی کی گئی، جس کے تحت کشادہ اور سیدھی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ 1937ء میں شہر کو ٹاؤن کمیٹی جبکہ 1941ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ 1946ء تک شہر کے گرد نو دروازوں اور حفاظتی فصیل کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی، جو اس دور کی شہری منصوبہ بندی اور دفاعی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے میں بڑی آبادیاتی تبدیلیاں آئیں۔ ہندو اور سکھ خاندان بھارت منتقل ہو گئے جبکہ ہندوستان سے آنے والے مہاجر مسلمان یہاں آباد ہوئے۔ ان مہاجر خاندانوں نے مقامی معیشت، تجارت اور شہری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

1960ء میں منڈی بہاءالدین کو سب ڈویژن کا درجہ ملا، جبکہ 1963ء میں رسول بیراج اور رسول-قادرباد لنک کینال کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ یہ منصوبہ واپڈا کے تحت انجینئر ریاض الرحمٰن شریف کی نگرانی میں 1968ء میں مکمل ہوا۔ اس منصوبے نے زراعت، آبپاشی اور مقامی معیشت کو نئی زندگی دی۔ بالآخر یکم جولائی 1993ء کو اسے باضابطہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔

جغرافیائی اعتبار سے ضلع منڈی بہاءالدین شمال میں جہلم، جنوب میں گوجرانوالہ اور حافظ آباد، مشرق میں گجرات جبکہ مغرب میں سرگودھا سے ملحق ہے۔ یہ محلِ وقوع اسے وسطی پنجاب کے اہم تجارتی اور زرعی مراکز میں شامل کرتا ہے۔

ضلع کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر مشتمل ہے۔ گندم، چاول، گنا، مکئی، چارہ اور سبزیاں یہاں کی اہم فصلیں ہیں۔ خصوصاً چاول اور گنے کی پیداوار میں یہ ضلع پنجاب بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی چاول ملز، سبزی منڈی اور زرعی تجارت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی منڈی بہاءالدین نے نمایاں ترقی کی ہے۔ یہاں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، کالجز اور یونیورسٹی کیمپس قائم ہیں۔ علاقے کے لوگ تعلیم، کاروبار اور سرکاری ملازمتوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

ثقافتی طور پر یہ ضلع سادہ مگر بھرپور دیہی روایات کا حامل ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محنتی اور خاندانی اقدار کے پابند سمجھے جاتے ہیں۔ گوندل، وڑائچ، تارڑ، رنجھا، ساہی، مانگٹ اور اعوان یہاں کے اہم قبائل میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اس خطے کی سماجی اور سیاسی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

منڈی بہاءالدین نے کئی نمایاں شخصیات بھی پیدا کیں۔ جنرل (ر) پرویز مہدی قریشی، سابق سربراہ پاک فضائیہ، نذر محمد گوندل، نذیر افضل چن، معروف ادیب و سیاح مستنصر حسین تارڑ،مانک خان بوسال ، جہان خان بوسال ،  ناصر اقبال بوسال ، غلام حسین بوسال ، امداد اللہ بوسال، اختر عباس بوسال  اور نامور لوک گلوکار شوکت علی اسی خطے کی معروف شخصیات ہیں۔

آج کا منڈی بہاءالدین ایک ترقی یافتہ زرعی، تجارتی اور صنعتی ضلع بن چکا ہے۔ یہاں کی فرنیچر انڈسٹری، چاول ملز، سبزی منڈی اور پٹرولیم کاروبار پورے پنجاب میں معروف ہیں۔ اگرچہ شہری مسائل جیسے ٹریفک، تجاوزات اور صفائی کے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ضلع مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔

منڈی بہاءالدین دراصل ایک ایسا خطہ ہے جہاں تاریخ، تہذیب، زراعت اور جدید ترقی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ سکندرِ اعظم کی جنگوں سے لے کر برطانوی اصلاحات اور جدید پاکستان کی ترقی تک، اس ضلع نے ہر دور میں اپنی الگ شناخت برقرار رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منڈی بہاءالدین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ پنجاب کی تاریخی روح، زرخیزی اور ثقافتی ورثے کی ایک خوبصورت علامت سمجھا جاتا ہے۔

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *