تحصیل پھالیہ (موجودہ ضلع منڈی بہاءالدین) میں سکھ دور اور برطانوی دور کے ذیلداری نظام کا تقابلی جائزہ
گزٹیئر آف گجرات 1921 کے مطابق تحصیل پھالیہ اور ضلع گجرات میں ذیلداری نظام وقت کے ساتھ نمایاں تبدیلیوں سے گزرا۔ سکھ دور میں یہ نظام زیادہ تر قبائلی اثر و رسوخ، روایتی طاقت اور مقامی وفاداریوں پر مبنی تھا، جبکہ برطانوی دور میں اسے باقاعدہ انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنا کر زیادہ منظم، تحریری اور سرکاری شکل دے دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ دور اور برطانوی دور کے ذیلداری نظام میں حدود، تعداد، کردار، مراعات اور تقرری کے اصولوں کے حوالے سے واضح فرق نظر آتا ہے۔
سکھ دور میں ذیلوں کی حدود زیادہ تر روایتی اور غیر رسمی نوعیت کی تھیں۔ ان کی باقاعدہ نقشہ سازی یا حد بندی نہیں کی گئی تھی، بلکہ یہ علاقوں میں موجود قبائلی اثر و رسوخ کی بنیاد پر قائم تھیں۔ جس قبیلے یا خاندان کا جس علاقے پر زیادہ اثر ہوتا، وہی اس ذیل کی اصل طاقت سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں ریاستی انتظامیہ جدید طرز پر منظم نہیں تھی، اس لیے جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ اہمیت قبائلی طاقت اور وفاداری کو حاصل تھی۔ نتیجتاً بعض اوقات ذیلوں کی حدود واضح نہیں ہوتی تھیں اور مختلف قبائل کے درمیان اثر و رسوخ کی بنیاد پر تبدیلیاں آتی رہتی تھیں۔
برطانوی دور میں صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ انگریز حکومت نے ذیلوں کی حدود کو دوبارہ ترتیب دیا اور ان کی باقاعدہ نقشہ سازی کی گئی۔ اس کا مقصد انتظامی امور کو آسان بنانا، محصولات کی درست وصولی کو یقینی بنانا اور پولیس و ریونیو کے نظام کو مؤثر بنانا تھا۔ 1916 میں اپر جہلم کینال کے قیام اور نہری نظام کی توسیع کے بعد ان حدود پر مزید نظر ثانی کی گئی تاکہ ذیلیں نہری آبپاشی، ریونیو سرکلز اور انتظامی تقسیم کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ اس طرح پہلی مرتبہ ذیلوں کو ایک مکمل سرکاری اور جغرافیائی شناخت دی گئی۔
ذیلوں کی تعداد میں بھی دونوں ادوار کے درمیان واضح فرق موجود تھا۔ سکھ دور میں پورے ضلع گجرات میں صرف 46 ذیلیں موجود تھیں، جبکہ تحصیل پھالیہ میں صرف پانچ بڑی ذیلیں شامل تھیں، جن میں ہیلن، پھالیہ، جوکالیاں، پبریاں والی اور وسو سوہاوہ نمایاں تھیں۔ اس محدود تعداد کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت انتظامی ڈھانچہ نسبتاً سادہ تھا اور زیادہ تر اختیارات چند بڑے قبائلی سرداروں کے ہاتھ میں تھے۔
برطانوی دور میں ذیلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ 1920 تک صرف تحصیل پھالیہ میں ذیلوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو چکی تھی، جبکہ پورے ضلع گجرات میں یہ تعداد 52 تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں تحصیل گجرات اور کھاریاں میں 16،16 جبکہ پھالیہ میں 20 ذیلیں شامل تھیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ برطانوی حکومت انتظامی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا چاہتی تھی۔ چھوٹی اور زیادہ منظم ذیلیں بنانے سے ریونیو کی وصولی، پولیسنگ اور حکومتی نگرانی زیادہ مؤثر ہو گئی۔
ذیلدار کے کردار اور حیثیت میں بھی دونوں ادوار کے درمیان بنیادی فرق موجود تھا۔ سکھ دور میں ذیلدار، جنہیں اکثر “چوہدری” کہا جاتا تھا، مکمل طور پر سرکاری ملازم نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کی حیثیت نصف سرکاری اہلکار اور نصف قبائلی نمائندے کی ہوتی تھی۔ وہ مقامی قبائل کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کے نمائندے بھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کا کام صرف محصولات جمع کرنا نہیں تھا بلکہ وہ درباروں میں شرکت کرتے، حکمرانوں کے وفادار رہتے اور حکومت اور کسانوں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس دور میں ذیلدار کی اصل طاقت اس کے قبائلی اثر و رسوخ اور ذاتی تعلقات پر منحصر ہوتی تھی۔
برطانوی دور میں ذیلدار کا کردار زیادہ رسمی اور انتظامی نوعیت اختیار کر گیا۔ اب وہ باقاعدہ مقامی انتظامیہ کا حصہ بن چکے تھے اور پولیس، کلکٹر اور ریونیو حکام کے اہم معاون سمجھے جاتے تھے۔ ان کا بنیادی کام امن و امان قائم رکھنے، حکومتی احکامات پر عمل کروانے اور محصولات کی وصولی کو یقینی بنانا تھا۔ اس طرح ذیلدار قبائلی نمائندے سے زیادہ ایک سرکاری عہدیدار کی حیثیت اختیار کر گئے۔
معاوضے اور مراعات کے نظام میں بھی نمایاں تبدیلی آئی۔ سکھ دور میں بااثر قبائلی سرداروں کو وفادار رکھنے کے لیے انہیں جاگیریں یا انعامی زمینیں دی جاتی تھیں۔ بعض اوقات انہیں ان کی ذیل کے محصولات کا ٹھیکہ بھی دے دیا جاتا تھا، جس سے وہ براہِ راست مالی فائدہ حاصل کرتے تھے۔ یہ نظام زیادہ تر ذاتی وفاداری اور سیاسی تعلقات پر مبنی تھا۔
برطانوی حکومت نے اس نظام کو زیادہ منظم اور تحریری شکل دی۔ ابتدا میں ذیلداروں کو محصولات کا ایک فیصد بطور معاوضہ دیا جاتا تھا، لیکن بعد میں 1916 میں ایک گریڈڈ سسٹم متعارف کروایا گیا۔ اس نظام کے تحت ذیلداروں کو ان کی کارکردگی، ذیل کی اہمیت اور انتظامی ذمہ داریوں کے مطابق سالانہ 350، 275 یا 200 روپے نقد الاؤنس دیا جانے لگا۔ اس تبدیلی نے ذیلداری نظام کو ایک باقاعدہ سرکاری ملازمت کی شکل دے دی، جہاں مراعات ذاتی تعلقات کے بجائے انتظامی معیار کے مطابق دی جانے لگیں۔
تقرری کے اصول بھی دونوں ادوار میں مختلف تھے۔ سکھ دور میں ذیلدار کا عہدہ مکمل طور پر قبائلی طاقت، اثر و رسوخ اور مقامی برتری پر منحصر تھا۔ جس خاندان یا قبیلے کی طاقت زیادہ ہوتی، وہی ذیلداری حاصل کر لیتا تھا۔ اس میں حکومت کی باقاعدہ جانچ پڑتال یا اہلیت کا کوئی واضح معیار موجود نہیں تھا۔
برطانوی حکومت نے اس تصور کو تبدیل کیا اور واضح کیا کہ ذیلدار کا عہدہ مکمل طور پر موروثی نہیں ہوگا۔ اگرچہ خاندان کی سابقہ خدمات اور روایتی حیثیت کو اہمیت دی جاتی تھی، لیکن اصل ترجیح امیدوار کی قابلیت، انتظامی صلاحیت اور حکومت کے ساتھ تعاون کو دی جاتی تھی۔ اس طرح برطانوی دور میں ذیلداری نظام قبائلی طاقت سے نکل کر ایک نیم سرکاری انتظامی ادارے میں تبدیل ہو گیا۔
تحصیل پھالیہ کی تاریخ میں یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کس طرح پنجاب کا روایتی قبائلی نظام وقت کے ساتھ جدید نوآبادیاتی انتظامیہ کے تحت بدلتا گیا۔ سکھ دور میں ذیلدار ایک قبائلی سردار اور مقامی نمائندہ تھا، جبکہ برطانوی دور میں وہ ریاستی مشینری کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ یہی تبدیلی اس پورے خطے کے سماجی، سیاسی اور انتظامی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

Leave a Reply