منظور احمد گوندل
بانی بیکن سائنس اسکول، ماہر معاشیات و سابق بینکر
منظور احمد گوندل بوسال، منڈی بہاؤالدین کی ایک ممتاز تعلیمی و کاروباری شخصیت، ماہر معاشیات اور بیکن سائنس اسکول کے بانی ہیں۔ وہ اپنی معاشی بصیرت، تدریسی خدمات اور ضلع میں معیاری تعلیمی نظام کی فراہمی کے حوالے سے ایک معتبر نام مانے جاتے ہیں۔ اس وقت وہ منڈی بہاؤالدین میں مقیم ہیں اور بیکن سائنس اسکول کے ذریعے نئی نسل کی علمی و عملی آبیاری میں مصروف عمل ہیں۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
منظور احمد گوندل کی پیدائش بوسال سکھا ضلع منڈی بہاءالدین میں ہوئی۔ ان کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں محنت، دیانتداری اور خدمتِ خلق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں ایک نظم و ضبط اور مقصدیت نمایاں نظر آتی ہے۔
تعلیمی سفر (تعلیمی اسناد)
ان کا تعلیمی سفر علمی پختگی اور متنوع تجربات کا مجموعہ ہے:
میٹرک: گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، بوسل۔
ایف ایس سی: گورنمنٹ ڈگری کالج، منڈی بہاؤالدین۔
بی اے: گورنمنٹ کالج، سرگودھا۔
ایم اے (معاشیات): بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔
پیشہ ورانہ تجربہ و خدمات
منظور احمد گوندل کا پیشہ ورانہ کیریئر تدریس اور بینکاری کے سنگم پر محیط ہے:
تدریس: انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور استاد خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے معاشیات کے پیچیدہ نظریات کو سادہ اور عملی انداز میں طلبہ تک منتقل کیا۔
بینکاری: وہ پانچ سال تک “خوشحالی بینک“ منڈی بہاؤالدین سے وابستہ رہے۔ اس تجربے نے انہیں معاشی حقائق کو قریب سے سمجھنے اور انتظامی امور میں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
تعلیمی مشن: بیکن سائنس اسکول کا قیام
4 مارچ 2013ء کو انہوں نے منڈی بہاؤالدین میں بیکن سائنس اسکول کی بنیاد رکھی۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگریوں کے حصول کا نام نہیں بلکہ یہ کردار سازی اور نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کا ایک مقدس مشن ہے۔
نمایاں کامیابیاں اور نتائج
ان کی زیرِ قیادت بیکن سائنس اسکول نے مختصر عرصے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں:
بورڈ پوزیشن: سال 2021ء کے میٹرک امتحانات میں اسکول کے طالب علم نے ضلع بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے ادارے کا نام روشن کیا۔
تسلسل: گزشتہ کئی برسوں سے میٹرک کے نتائج سو فیصد (100%) کے قریب رہے ہیں۔
عالمی رسائی: اسکول کے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف پاکستان کے بہترین میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں زیرِ تعلیم ہیں بلکہ متعدد طلبہ بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





