Profile
سندہ (Sanda)
سندہ (Sanda) ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال کا ایک قدیم، تاریخی اور زرعی لحاظ سے خوشحال گاؤں ہے۔ یہ ضلع کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے اور منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 55 کلومیٹر جبکہ میانہ گوندل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ گاؤں اپنی زرخیز زرعی زمین، مذہبی و تعلیمی ماحول، سماجی فلاحی سرگرمیوں اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی بڑی تعداد کی وجہ سے علاقے میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع
سندہ تحصیل ملکوال کے مغربی زرعی خطے میں واقع ہے۔
اس تک دو اہم راستوں سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
- منڈی بہاؤالدین → گوجرہ → بار موسیٰ → میانہ گوندل → سندہ
- ہیڈ فقیریاں → میانہ گوندل → سندہ
گاؤں کے قریب لوئر جہلم نہر بہتی ہے جبکہ ہیڈ فقیریاں اور سلام انٹرچینج (موٹروے M-2) نسبتاً قریب واقع ہیں، جس سے لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔
رقبہ
گاؤں کا کل رقبہ تقریباً 3000 ایکڑ زرعی اراضی پر مشتمل ہے۔
یہ پورا علاقہ انتہائی زرخیز ہے اور نہری آبپاشی کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویلوں کے ذریعے بھی سیراب کیا جاتا ہے۔
تاریخ
سندہ کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی بہت پہلے کی ہے۔
مقامی روایات کے مطابق اس گاؤں کا تعلق بزرگ بابا حبیب فقیر سے جوڑا جاتا ہے، جو ایک نہایت بزرگ اور صاحبِ کرامت ولی اللہ سمجھے جاتے ہیں اور انہیں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے روحانی سلسلے سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔
ابتدائی زمانے میں آبادی موجودہ گاؤں سے جنوب کی طرف ایک بلند مقام پر آباد تھی جہاں آج بھی قدیم مسجد اور ایک قدیمی کنواں موجود ہے، جو اس پرانی آبادی کے آثار تصور کیے جاتے ہیں۔
بعد ازاں مختلف وجوہات کی بنا پر آبادی موجودہ مقام پر منتقل ہوگئی۔
تقسیم ہند 1947ء
1947ء میں تقسیم ہند کے وقت گاؤں میں چند ہندو اور سکھ خاندان بھی آباد تھے۔
تقسیم کے دوران برصغیر میں ہونے والے فسادات کے اثرات یہاں بھی پہنچے اور مقامی سطح پر جانی و مالی نقصان کے واقعات پیش آئے۔
بعد ازاں ہندو اور سکھ خاندان یہاں سے ہجرت کر گئے اور ان کی جائیدادیں حکومتی قوانین کے مطابق مہاجرین کی آبادکاری کے لیے استعمال ہوئیں۔
آبادی
گاؤں کی موجودہ آبادی تقریباً پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
تمام آبادی مسلمان ہے جن میں اکثریت اہلِ سنت کی ہے جبکہ ایک شیعہ خاندان بھی یہاں آباد ہے۔
محلے
سندہ چار بڑے محلوں پر مشتمل ہے۔
- گوندل اُتلا محلہ
- گوندل زیرین محلہ
- پیپلز کالونی
- میرا محلہ
اس کے علاوہ شیخ کالونی بھی گاؤں کا حصہ ہے۔
اہم برادریاں
گاؤں کی سب سے بڑی برادری گوندل ہے۔
اس کے علاوہ درج ذیل برادریاں بھی آباد ہیں۔
- جسپال
- مہر
- سیال
- منانہ
- منگت
- خچھی
- جویہ
- تتری
- میانے
- گورائے
- جلپانے
- شیخ
- دیگر پیشہ ور برادریاں
معیشت
سندہ کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر قائم ہے۔
اہم ذرائع آمدن:
- زراعت
- باغبانی
- کنو (کینو) کی برآمد
- سرکاری ملازمتیں
- پاک فوج
- تدریس
- بیرون ملک روزگار
- صحت کا شعبہ
یورپ، سعودی عرب، کویت، ناروے، امریکہ، فرانس، اسپین، یونان، دبئی اور جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک میں گاؤں کے افراد مقیم ہیں۔
زرعی پیداوار
گاؤں کی اہم فصلیں:
- گندم
- چاول
- مکئی
- گنا
- آلو
- جو
- چنا
- مٹر
- مختلف سبزیاں
باغات
سندہ میں مختلف پھلوں کے باغات بھی موجود ہیں۔
خصوصاً:
- کینو
- موسمی
- امرود
- لیموں
یہ باغات مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کینو پروسیسنگ فیکٹری
سندہ میں کینو پروسیسنگ فیکٹری بھی قائم ہے جہاں کینو کی گریڈنگ، پیکنگ اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔
یہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے زرعی شعبے کی ایک اہم تجارتی سرگرمی شمار ہوتی ہے۔
تعلیم
گاؤں میں شرح خواندگی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔
تقریباً 85 فیصد بچے اسکول جاتے ہیں۔
تعلیمی ادارے:
- گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول
- گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول
- غزالی ماڈل اسکول
- خیر النساء ماڈل اسکول
دینی تعلیم
گاؤں میں دینی تعلیم کے دو بڑے ادارے موجود ہیں۔
- مدرسہ ضیاء الاسلام
- دارالعلوم نقشبندیہ جلالیہ رضویہ
یہ ادارے حفظ قرآن، درس نظامی اور بنیادی دینی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
صحت
سندہ میں بنیادی صحت مرکز (BHU) موجود ہے جہاں ڈاکٹر، میڈیکل ٹیکنیشن، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عملہ خدمات انجام دیتا ہے۔
مذہبی مقامات
گاؤں میں چھ مساجد موجود ہیں جن میں دو جامع مساجد شامل ہیں۔
اہم مذہبی مقامات:
- جامع مسجد نقشبندیہ رضویہ
- جامع مسجد اشرفیہ
- مدنی مسجد
- میانی مسجد
- پکی مسجد
- شمالی مسجد
مزارات
گاؤں میں دو معروف مزارات ہیں۔
شاہ دے جھنڈ
یہ مزار مقامی عقیدت کا مرکز ہے جہاں ہر جمعرات زائرین حاضری دیتے ہیں۔
حضرت دوست محمد فقیرؒ
حضرت دوست محمد فقیرؒ اس علاقے کی ایک معروف روحانی شخصیت تھے۔
ہر سال ان کے مزار پر عرس منعقد ہوتا ہے جس میں دور دراز سے عقیدت مند شریک ہوتے ہیں۔
نمایاں شخصیات
سندہ نے مختلف شعبوں میں متعدد نمایاں شخصیات پیدا کیں۔
ان میں خصوصاً:
- چوہدری سعید احمد ایڈووکیٹ (سابق ناظم یونین کونسل، سابق صدر بار)
- پروفیسر شبیر احمد گوندل
- ڈاکٹر محمد احسن گوندل
- ڈاکٹر منیر احمد
- شاہزاد احمد گوندل (CSS، کسٹمز)
- زاہد محمود گوندل (CSS، DSP)
- محمد یوسف گوندل (موٹروے پولیس)
- پروفیسر سکندر حیات گوندل
- کیپٹن محمد عمیر
- ڈاکٹر احسان الٰہی
- ڈاکٹر خالد محمود گوندل
- SHO محمد بخش گوندل
- متعدد ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، وکلاء اور سرکاری افسران
سماجی فلاح
سندہ کی ایک فعال سوشل ویلفیئر کمیٹی کئی برسوں سے کام کر رہی ہے۔
کمیٹی کی خدمات میں شامل ہیں:
- گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس
- نکاسی آب
- ہنگامی امداد
- فلاحی منصوبے
- اجتماعی ترقیاتی کام
ثقافت
سندہ روایتی پنجابی دیہی ثقافت کا امین ہے۔
مقامی روایات میں شامل ہیں:
- ڈیرے داری
- مہمان نوازی
- پنچایت
- اجتماعی مشاورت
- حقہ کلچر
- باہمی تعاون
کھیل
گاؤں میں درج ذیل کھیل مقبول ہیں۔
- کرکٹ
- کبڈی
- فٹ بال
- والی بال
- گلی ڈنڈا
- بنٹے
بازار
سندہ ایک چھوٹا تجارتی مرکز بھی ہے۔
یہاں موجود ہیں:
- کریانہ اسٹورز
- سبزی و فروٹ شاپس
- ہوٹل
- کپڑے کی دکانیں
- جوتوں کی دکانیں
- الیکٹرک اسٹورز
- مٹھائی کی دکانیں
مسائل
اگرچہ سندہ ترقی یافتہ دیہات میں شمار ہوتا ہے، تاہم چند بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔
- سڑکوں کی مرمت
- ہائی و مڈل اسکول کا فقدان
- نکاسی آب کا بہتر نظام
- بارشوں میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ
- مچھروں کی افزائش
- مزید طبی سہولیات کی ضرورت
سندہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے ان تاریخی دیہات میں شامل ہے جنہوں نے زراعت، تعلیم، مذہبی خدمات، سماجی فلاح، بیرون ملک روزگار اور قومی خدمات کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس کی زرخیز زمین، قدیم روحانی ورثہ، مضبوط سماجی ڈھانچہ، فعال فلاحی سرگرمیاں اور تعلیم یافتہ افراد اسے تحصیل ملکوال کے ممتاز اور ترقی یافتہ دیہات میں شمار کرتے ہیں۔ اگر بنیادی انفراسٹرکچر، تعلیمی اداروں اور نکاسی آب کے نظام میں مزید بہتری لائی جائے تو سندہ مستقبل میں اس خطے کا ایک مثالی دیہی ماڈل بن سکتا ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






