Profile
رتووال (Rattowal)
رتووال ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان کا ایک بڑا دیہی گاؤں ہے۔ یہ ضلعی ہیڈکوارٹر منڈی بہاؤالدین سے تقریباً 18 کلومیٹر کے فاصلے پر جبکہ کدھیر پل سے تقریباً 4 کلومیٹر دور واقع ہے۔ گاؤں کی مجموعی زرعی اراضی تقریباً 80 مربع (تقریباً 2,000 ایکڑ) پر مشتمل ہے، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ روایتی دیہی ڈیروں میں رہائش پذیر ہے۔
تاریخ
مقامی روایات کے مطابق گاؤں کا نام رتووال ایک شخصیت “رتہ” کے نام پر رکھا گیا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ “کٹہ” کے بھائی اور “مکہ” کے بیٹے تھے۔ روایت کے مطابق رنجھا برادری نے وقت گزرنے کے ساتھ اس علاقے میں نمایاں آبادکاری کی۔
تقسیمِ ہند 1947ء سے قبل گاؤں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد آباد تھے، جن میں سکھ، ہندو اور دیگر برادریاں شامل تھیں۔ تقسیم کے بعد غیر مسلم آبادی بھارت منتقل ہو گئی جبکہ بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان خاندان یہاں آباد ہوئے۔
محل وقوع
رتووال کے گردونواح میں مکیوال، کٹووال، مدھیری، ڈھول، کدھیر، بھکھی چک نمبر 38 اور منگت سمیت متعدد دیہات واقع ہیں۔
آبادی
گاؤں کی آبادی تقریباً 8,000 نفوس پر مشتمل ہے۔ اکثریتی آبادی مسلمان ہے جبکہ ایک محدود تعداد میں مسیحی خاندان بھی آباد ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق مسلمانوں میں تقریباً 60 فیصد اہل سنت اور 40 فیصد اہل تشیع سے تعلق رکھتے ہیں۔ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباً 2,000 ہے۔
برادریاں
گاؤں میں رنجھا، گوندل، تارڑ، وڑائچ، مغل، بھٹی، قریشی، شیخ، کشمیری، آرائیں، پٹھان، فقیر، لوہار، موچی، نائی، مچھی، قصبی، مہاجر اور دیگر برادریاں آباد ہیں۔ اہم خاندانی شاخوں میں اگر کے، ناصر کے، جلال کے، دولے کے، میکن، تیلی، سید اور راجے کے خاندان شامل ہیں۔
معیشت
گاؤں کی معیشت کا بنیادی انحصار زراعت پر ہے۔ اس کے علاوہ متعدد افراد سرکاری ملازمتوں، تدریس، پاک فوج، صنعتی اداروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فرانس، اسپین، یونان، اٹلی، سعودی عرب، کویت، عمان، امریکہ، کینیڈا اور جرمنی سمیت مختلف ممالک میں روزگار حاصل کر چکی ہے۔
تعلیم
رتووال میں تعلیمی سہولیات کے طور پر دو سرکاری پرائمری سکول برائے طلبہ، ایک پرائمری سکول برائے طالبات اور ہائی سکول سطح کے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ مقامی شرح خواندگی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
صحت
گاؤں میں سرکاری ہسپتال موجود نہیں، تاہم بنیادی طبی سہولیات کے لیے تین نجی کلینک خدمات فراہم کرتے ہیں۔
مذہبی و سماجی ادارے
گاؤں میں پانچ مساجد، ایک امام بارگاہ، دو قبرستان اور دو معروف مزارات موجود ہیں، جن میں گنڈی والا اور شیخ راجن کے مزارات شامل ہیں۔ مختلف مذہبی و سماجی تنظیمیں بھی مقامی سطح پر سرگرم عمل ہیں۔
مواصلات
گاؤں گجرات۔منڈی بہاؤالدین روڈ سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی آبادی بسوں، کاروں، رکشوں، پک اپ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے آمدورفت کرتی ہے۔ ایک نہر بھی گاؤں کے قریب سے گزرتی ہے، جو زرعی آبپاشی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نمایاں شخصیات
- نذر علی شاہ
- مولوی ریاض حسین شاہ
- ماسٹر نذیر
- امتیاز (سب انسپکٹر)
- ارشد راجے
- اقبال (لمبر دار)
- چوہدری سکندر حیات
- قیصر ایڈووکیٹ
اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیات
- شاہد عمران (ایم اے انگلش)
- ماسٹر شریف (ایم اے انگلش)
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






