Profile
رسول (Rasul)
رسول ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان کا ایک تاریخی اور اہم گاؤں ہے، جو دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے۔ یہ گاؤں اپنی تاریخی اہمیت، رسول بیراج، گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (GCT) رسول، پن بجلی گھر اور آبپاشی کے بڑے منصوبوں کی وجہ سے پورے خطے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
تاریخ
روایات کے مطابق گاؤں رسول کی بنیاد راجہ رام نے رکھی، جو راجہ موگا کے بھائی تھے۔ راجہ موگا نے قریبی تاریخی گاؤں مونگ کی بنیاد رکھی تھی، اسی وجہ سے قدیم زمانے سے رسول کو “مونگ رسول” بھی کہا جاتا ہے۔
برطانوی دور سے قبل اور سکھ سلطنت کے زمانے میں بھی رسول کو خاص اہمیت حاصل رہی۔ جنگِ چلیانوالہ (1849ء) کے دوران سکھ فوج کے سپہ سالار شیر سنگھ کا مرکزی کیمپ اسی مقام پر قائم تھا۔ گاؤں میں موجود ایک قدیم برگد کا درخت اس تاریخی واقعے کی یادگار سمجھا جاتا ہے، جہاں حکومتی یادگاری تختی بھی نصب ہے۔
گاؤں میں ایک قدیم مسجد کے آثار بھی موجود ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق اس مسجد کی تعمیر تقریباً 1000 ہجری میں ہوئی تھی، تاہم اس کے کتبے کو برطانوی دور میں ضلعی انتظامیہ نے محفوظ کرنے کے لیے منتقل کیا تھا۔
مقامی روایات کے مطابق اس علاقے کے باشندوں نے ایک بزرگ صوفی کی دعوتِ اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مغل دور میں یہاں تشریف لائے تھے۔
محل وقوع
رسول ضلع منڈی بہاؤالدین کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ گاؤں کے شمال میں دریائے جہلم جبکہ اطراف میں نہری نظام اور زرعی اراضی موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ زرعی اور آبی وسائل کے اعتبار سے اہم شمار ہوتا ہے۔
رسول بیراج
رسول کے مقام پر دریائے جہلم پر رسول بیراج واقع ہے، جس میں پرانا اور نیا بیراج شامل ہیں۔ یہ بیراج دریائے جہلم کے پانی کو رسول۔قادرآباد لنک کینال (RQ Link Canal) کی طرف منتقل کرتا ہے، جو دریائے ستلج کے آبی نظام سے منسلک ایک اہم منصوبہ ہے۔
1963ء میں انڈس بیسن آبپاشی منصوبے کے تحت رسول بیراج اور رسول۔قادرآباد لنک کینال کی تعمیر کا آغاز ہوا، جسے واپڈا نے مکمل کیا۔ منصوبہ 1968ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا اور اس کی نگرانی انجینئر ریاض الرحمٰن شریف نے بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر کی۔
رسول پاور ہاؤس
رسول پاور ہاؤس کا قیام 1952ء میں عمل میں آیا۔ اس کی ابتدائی پیداواری صلاحیت 22 میگاواٹ تھی جبکہ بعد ازاں اس سے تقریباً 14 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاتی رہی۔ یہ پاور ہاؤس خطے کے اہم پن بجلی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
تعلیم
رسول میں قائم گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (GCT) رسول پاکستان کے قدیم اور ممتاز تکنیکی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ادارے سے فارغ التحصیل ہزاروں انجینئرز اور ٹیکنالوجسٹ پاکستان اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
معیشت
مقامی معیشت کا انحصار زراعت، سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور واپڈا سے وابستہ سرگرمیوں پر ہے۔ نہری نظام کی بدولت علاقے کی زرعی زمین انتہائی زرخیز ہے۔
رسول کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے تاریخی، تعلیمی، آبی وسائل اور توانائی کے مراکز میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ جنگِ چلیانوالہ سے وابستہ تاریخی یادگاریں، رسول بیراج، پاور ہاؤس اور گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی اس گاؤں کی منفرد شناخت ہیں۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






