قادرآباد (Qadirabad)
تعارف
قادرآباد ضلع منڈی بہاؤالدین، تحصیل پھالیہ کا ایک قدیم اور تاریخی قصبہ/گاؤں ہے جو دریائے چناب کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ تاریخی، زرعی اور سماجی اعتبار سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور اپنی ثقافتی ہم آہنگی، مہمان نوازی اور دینی روایات کے لیے جانا جاتا ہے۔
محلِ وقوع
قادرآباد دریائے چناب کے جنوب میں تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قریبی شہر پھالیہ (20 کلومیٹر)، منڈی بہاؤالدین (40 کلومیٹر) اور گجرات (70 کلومیٹر) ہیں۔ قریبی ریلوے اسٹیشن منڈی بہاؤالدین ہے جبکہ قریبی بین الاقوامی ہوائی اڈے لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور اسلام آباد میں واقع ہیں۔
تاریخ
قادرآباد کا نام مرزا قادر خان کے نام سے منسوب ہے۔ ان اور ان کے بھائی مرزا سکندر خان کے مزارات آج بھی یہاں موجود ہیں۔ مغل بادشاہ اکبر کے دور (1556–1605) میں شہر کے گرد فصیل تعمیر کی گئی جس کے تین دروازے تھے، جن میں مشہور اکبری دروازہ شامل ہے۔
برطانوی دور میں قادرآباد کو دیگر شہروں سے ملانے کے لیے سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور 1862 میں پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا۔ اسی دور میں نہری نظام بھی متعارف کروایا گیا۔ ایک قدیم عمارت/مقبرہ جسے مقامی طور پر مُکبرا کہا جاتا ہے، مغلیہ دور کی یادگار ہے اور قحط (قَہَط) کے زمانے میں عوام کے لیے خوراک کی تقسیم کے مقصد سے استعمال ہوتی تھی۔
1947 کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے آنے والے مہاجرین (بالخصوص امبالہ، کرنال، ہوشیارپور، کھوڈ وغیرہ) یہاں آباد ہوئے جبکہ ہندو اور سکھ خاندان ہندوستان منتقل ہو گئے۔
آبادی
2017 کی مردم شماری کے مطابق قادرآباد کی آبادی 91,821 نفوس پر مشتمل ہے۔
قومیں اور برادریاں
اہم برادریوں میں درج ذیل شامل ہیں:
گجر
آرائیں
مغل / مرزا
بھٹی
کھوکھر
مسلم شیخ
شادی بیاہ میں برادری اور آبائی علاقوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
مذہبی صورتحال
قادرآباد کی آبادی مکمل طور پر مسلمان ہے۔ اکثریت سنی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ دیوبندی اور شیعہ مسلمان بھی آباد ہیں۔ باہمی احترام اور مذہبی ہم آہنگی اس بستی کی نمایاں خصوصیت ہے۔ یہاں ایک درجن سے زائد مساجد ہیں۔ قاضی مسجد قادرآباد کی قدیم ترین مسجد ہے، اور قاضی خاندان نے تقریباً 1700ء سے دینی تعلیم میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
معیشت اور پیشے
اہم ذریعہ معاش:
زراعت: 50٪
کاروبار: 30٪
سرکاری و نجی ملازمتیں: 20٪
اہم فصلیں:
گندم
چاول
گنا
تربوز، خربوزہ
یہ علاقہ سبزیوں، آم، کینو، آلو اور تمباکو کی کاشت کے لیے بھی موزوں ہے۔ مویشی پالنا (بھینس، گائے) عام ہے۔ زیادہ تر کاشتکار 8 ایکڑ سے کم زمین کے مالک ہیں۔
تعلیم
قادرآباد میں تعلیمی سہولیات تیزی سے بہتر ہو رہی ہیں۔
سرکاری ادارے:
گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول (بوائز)
گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول
گورنمنٹ کالج برائے خواتین
نجی اسکول:
غزالی اسکول
کامران ماڈل اسکول
مصطفوی اسکول
صحت
گورنمنٹ رورل ہیلتھ سینٹر
10 تا 20 نجی میڈیکل اسٹورز
ثقافت اور طرزِ زندگی
قادرآباد کا کلچر دیہی اور شہری امتزاج پر مشتمل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور جدید طرزِ زندگی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ دریائے چناب اور اس کے کنارے موجود جنگل عوام کی تفریح کا اہم ذریعہ ہیں، خاص طور پر مذہبی اور ثقافتی مواقع پر۔
تاریخی مزارات
بابا قادر پیر
سید مردان شاہؒ
بابا اعتبار سائیںؒ
بابا شاہ سکندرؒ
سماجی و فلاحی تنظیمیں
شاہین ویلفیئر سوسائٹی
آلِ محمد فاؤنڈیشن
ایثار فاؤنڈیشن
نمایاں شخصیات
سماجی و سیاسی شخصیات:
رانا محمد گلزار (سابق MNA)
چوہدری جمیل احمد گوجر (سابق ناظم)
بیرسٹر گل نواز گوجر (ایڈووکیٹ)
عاقب نذیر کاسانہ (صحافی و سماجی کارکن)
تعلیمی و پیشہ ورانہ شخصیات:
ڈاکٹر سعید ریاض (MBBS)
ڈاکٹر عثمان نصیر (MBBS)
ڈاکٹر محمد عالم (چائلڈ اسپیشلسٹ)
شاہزاد اسلم نوید (پرنسپل سافٹ ویئر انجینئر، امریکہ)
کمانڈر محمد حنیف (پاکستان نیوی)
فخرِ قادرآباد
قادرآباد کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد ملک و بیرونِ ملک خدمات انجام دے رہے ہیں، جو اس بستی کے لیے باعثِ فخر ہیں اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.




