Profile
بھیر ووال (Bherowal)
تعارف
بھیر ووال (Bherowal) ضلع منڈی بہاءالدین کی تحصیل پھالیہ کا ایک قدیم، تاریخی اور زرعی لحاظ سے اہم گاؤں ہے۔ یہ پھالیہ شہر سے تقریباً 36 کلومیٹر جبکہ منڈی بہاءالدین شہر سے تقریباً 58 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔ گاؤں پھالیہ-بھیر ووال روڈ پر آباد ہے اور اردگرد کے متعدد دیہات کے لیے تجارتی، تعلیمی اور سماجی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع
بھیر ووال کا محلِ وقوع تحصیل پھالیہ کے مغربی حصے میں ہے۔
فاصلہ:
- پھالیہ: 36 کلومیٹر
- منڈی بہاءالدین: 58 کلومیٹر
قریبی دیہات:
- شمال: موسیٰ کلاں، موسیٰ خورد
- شمال مشرق: چھوٹ کلاں، چھوٹ خورد، کھمب کلاں
- شمال مغرب: کوٹ ہست خان
- مشرق: حویلی مانک، گھڑھا، بستی مخدوم
- مغرب: ران
- جنوب مغرب: تھکر کلاں، میانہ تھکر، وریام، ٹاہلی اڈہ
مختصر تاریخ
روایات کے مطابق گاؤں کا نام ایک سکھ شخصیت بھیرو سنگھ کے نام پر رکھا گیا، جو اس علاقے کے اولین آبادکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ابتدائی دور میں گاؤں اپنی موجودہ جگہ پر آباد نہیں تھا بلکہ اس مقام پر واقع تھا جہاں آج مغربی قبرستان موجود ہے۔ موجودہ جنازہ گاہ کے مقام پر اس وقت مسجد قائم تھی۔
اٹھارہویں صدی کے آغاز میں تحصیل پھالیہ کے رانجھا خاندان سے ٹیکس کے تنازع پر گاؤں کو آگ لگا دی گئی، جس کے بعد بستی موجودہ مقام پر منتقل ہوئی۔
1857ء کے بعد برطانوی حکومت نے بھیر ووال کو “چرمیل” قرار دیا، یعنی ایسا گاؤں جس کی زمین کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ تمام رہائشیوں کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی تھی۔
تقسیم ہند 1947
1947ء کی تقسیم برصغیر کے دوران بھیر ووال میں بدقسمتی سے شدید فسادات رونما ہوئے جن میں متعدد سکھ اور ہندو خاندان متاثر ہوئے۔
اسی دوران بعض مقامی خاندانوں نے کئی سکھ خاندانوں کو پناہ بھی دی اور بعد ازاں محفوظ طریقے سے ہندوستان منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ واقعہ گاؤں کی تاریخ کا ایک اہم اور حساس باب سمجھا جاتا ہے۔
تاریخی مقامات
بھیر ووال میں کئی تاریخی مقامات موجود رہے جن میں شامل ہیں:
- قدیم دھرم شالہ (موجودہ مسجد المہاجرین کا مقام)
- سیواس (ہندوؤں کی شمشان گھاٹ)
- قدیم کنواں
- پرانی طرز تعمیر کی چند تاریخی عمارتیں
- شاہ چورا کا مزار
- شاہ مدار کا مزار
آبادی
بھیر ووال کی موجودہ آبادی تقریباً 12 ہزار افراد پر مشتمل ہے، جس کی اکثریت زراعت سے وابستہ ہے۔
اہم برادریاں
بھیر ووال میں مختلف برادریاں صدیوں سے آباد ہیں جن میں بھروانہ، ہرال، گوندل، سپرا، تارڑ، چڈھا، سنگری، مورالیہ، راجپوت، مڑھا، گوندڑیہ، کتھیہ، بریار، سندرانہ، آرائیں، رانجھا، ماچھی (کھوکھر)، لوہار (مغل)، موچی (گھورایہ)، دھبہ، مسلم شیخ، نائی اور میراثی (قریشی) شامل ہیں۔ تمام برادریاں باہمی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ رہتی ہیں۔
ذرائع معاش
گاؤں کی تقریباً 90 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے جبکہ باقی افراد ٹرانسپورٹ، تجارت، اینٹوں کے بھٹوں، نجی کاروبار، سرکاری ملازمتوں اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ سرکاری ملازمین کی تعداد نسبتاً کم ہے، تاہم نوجوان نسل مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔
اہم فصلیں
زرخیز زمین کی وجہ سے بھیر ووال میں گندم، چاول، گنا، مکئی، سبزیاں اور چارہ نمایاں فصلیں ہیں۔ زرعی معیشت گاؤں کی اقتصادی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
بازار اور تجارتی سرگرمیاں
گاؤں کے مرکز میں چار بڑے بازار موجود ہیں جو پورے گاؤں کو چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں:
- سبزی منڈی
- جنرل اسٹورز
- زرعی اشیاء کی دکانیں
- روزمرہ ضروریات کے کاروبار
گاؤں میں دو بڑے تالاب بھی موجود ہیں جو نکاسی آب کے نظام میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
صنعت
بھیر ووال میں دو اینٹوں کے بھٹے قائم ہیں جو تقریباً 1200 افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔
- محمد بخش ہرال کا بھٹہ
- اکبر خان پٹھان کا بھٹہ
ماضی میں یہاں دو آئس فیکٹریاں بھی قائم تھیں جو بعد ازاں بند ہوگئیں۔
تعلیمی ادارے
سرکاری ادارے
- گورنمنٹ ہائی سکول (طلبہ)
- گورنمنٹ پرائمری سکول (طلبہ)
- گورنمنٹ مڈل سکول (طالبات)
نجی تعلیمی ادارے
- پائلٹ پبلک ہائی سکول
- ملت اسلامیہ ہائی سکول
- پاکستان کیڈٹ ہائی سکول
- سرسید مڈل سکول
یہ ادارے گاؤں اور گردونواح کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
طبی سہولیات
گاؤں میں ایک سرکاری بنیادی مرکز صحت (Basic Health Unit) موجود ہے جو مقامی آبادی کو ابتدائی طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
مساجد و مدارس
بھیر ووال میں تقریباً 14 مساجد موجود ہیں جن میں 7 بڑی جامع مساجد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ گاؤں میں تین مدارس بھی قائم ہیں جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے۔
مزارات
گاؤں میں دو معروف مزارات واقع ہیں:
- مزار شاہ چورا
- مزار شاہ مدار
یہ مزارات علاقے کے مذہبی اور روحانی مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
نمایاں شخصیات
بھیر ووال کی نمایاں سماجی، تعلیمی اور انتظامی شخصیات میں درج ذیل نام شامل ہیں:
- مختار احمد بھروانہ (مرحوم)
- یار محمد سپرا (مرحوم)
- جہان خان سندرانہ (مرحوم)
- علی محمد ہرال (مرحوم)
- شان علی نمبردار
- امان اللہ بھروانہ
- حامد مختار بھروانہ
- محمد بخش کتھیہ
- محمد بخش ہرال
- خوشی محمد چڈھا
- رانا لیاقت
- رانا نثار
- رانا ستار
- کرم علی ماچھی
- ڈاکٹر فتح محمد کتھیہ (MBBS)
- مہر مختار ہرال (SHO اسلام آباد)
کھیل
بھیر ووال کے نوجوان کرکٹ، والی بال، کبڈی، فٹبال، کشتی اور دیگر روایتی کھیلوں میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف مقامی و بین الاضلاعی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
بھیر ووال اپنی تاریخی اہمیت، زرعی خوشحالی، تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، فعال بازاروں، سماجی ہم آہنگی اور محنتی عوام کی وجہ سے تحصیل پھالیہ کے نمایاں دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ گاؤں اپنی قدیم تاریخ، مضبوط دیہی روایات اور ترقی پسند سوچ کے باعث ضلع منڈی بہاءالدین کی اہم بستیوں میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






