تعارف
محمد علی جناح، جن کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی تھا، 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے اور 11 ستمبر 1948ء کو کراچی ہی میں وفات پا گئے۔ وہ وکیل، سیاستدان اور قیامِ پاکستان کی تحریک کے مرکزی رہنما تھے۔
جناح 1913ء سے 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے اور اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ پاکستان میں انہیں قائدِ اعظم اور بابائے قوم کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی
جناح کے والد کا نام جناح بھائی پونجا اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔ ان کا خاندان گجراتی خوجا پس منظر رکھتا تھا اور ان کے والد تجارت سے وابستہ تھے۔
جناح اپنے بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں، جن میں فاطمہ جناح بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام اور کرسچن مشنری سوسائٹی ہائی اسکول سمیت مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد جامعہ بمبئی سے منسلک ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
انگلستان میں تعلیم
1892ء میں جناح برطانیہ گئے جہاں انہوں نے گراہم شپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں اپرنٹس شپ اختیار کی۔ بعد ازاں انہوں نے قانونی تعلیم کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لیا۔
اسی دور میں انہوں نے اپنا نام مختصر کر کے محمد علی جناح رکھا۔ وہ برطانوی جمہوری نظام، لبرل ازم اور آئینی سیاست سے گہرے متاثر ہوئے، جبکہ دادا بھائی نوروجی اور سر فیروز شاہ مہتہ جیسے رہنماؤں نے بھی ان کی ابتدائی سیاسی سوچ کو جلا بخشی۔
1895ء میں وہ بار ایٹ لاء مکمل کر کے بیرسٹر بنے اور ہندوستان واپس لوٹے۔ ابتدا میں کچھ عرصہ کراچی میں رہے اور پھر مستقل طور پر بمبئی منتقل ہو گئے۔
وکالت
جناح نے تقریباً 20 سال کی عمر میں بمبئی ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا۔ ابتدائی سال صبر آزما رہے، تاہم جلد ہی اپنی نپی تلی قانونی گرفت اور استدلال کی بدولت نمایاں مقام حاصل کیا۔
1900ء میں انہیں بمبئی کے پریزیڈنسی مجسٹریٹ کا عارضی منصب ملا۔ عمدہ کارکردگی پر مستقل تقرری کی پیشکش بھی ہوئی، مگر انہوں نے سرکاری ملازمت کے بجائے آزادانہ قانونی پریکٹس کو ترجیح دی۔
1905ء میں بال گنگا دھر تلک نے ایک اہم مقدمے میں جناح کی قانونی خدمات حاصل کیں، جبکہ 1907ء کے کاکس بنام بمبئی کارپوریشن کیس میں ان کے قانونی دلائل نے انہیں ہندوستان کے صفِ اول کے بیرسٹرز میں لا کھڑا کیا۔
سیاسی زندگی کا آغاز
جناح نے 1904ء میں بمبئی کے سالانہ اجلاس کے ذریعے انڈین نیشنل کانگریس میں دلچسپی لی اور باقاعدہ طور پر 1906ء میں شمولیت اختیار کی۔
سیاست کے ابتدائی مرحلے میں وہ ہندو مسلم اتحاد اور آئینی اصلاحات کے زبردست علمبردار تھے۔ وہ عوامی ہیجان کے بجائے پارلیمانی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر خود اختیاری کے حصول پر یقین رکھتے تھے۔
وہ امپیریل لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے وقف علی الاولاد ایکٹ اور کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین میں کلیدی اصلاحاتی کردار ادا کیا۔
میثاقِ لکھنؤ اور ہندو مسلم اتحاد
1916ء میں جناح نے کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے مابین تاریخی میثاقِ لکھنؤ طے کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس معاہدے کے تحت کانگریس نے پہلی بار مسلمانوں کے جداگانہ طریقہ انتخاب کو باقاعدہ تسلیم کیا۔
اسی عرصے میں وہ مسز اینی بیسنٹ کی آل انڈیا ہوم رول لیگ کے بمبئی چیپٹر کے صدر بھی رہے اور ہندوستان کو تاجِ برطانیہ کے تحت آئینی خودمختاری دلانے کی جدوجہد تیز کی۔ ان خدمات کے اعتراف میں سروجنی نائیڈو نے انہیں “ہندو مسلم اتحاد کا سفیر“ قرار دیا۔
کانگریس سے علیحدگی
1920ء کے ناگپور اجلاس میں مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ اور سول نافرمانی کے اسلوب پر جناح نے کڑے تحفظات ظاہر کیے۔ جناح کا مؤقف تھا کہ بغیر آئینی تربیت کے عوام کو سڑکوں پر لانا ملک میں قانون کی بالادستی اور نظم و ضبط کو نقصان پہنچائے گا۔
طریقۂ کار کے بنیادی اختلافات کے بعد انہوں نے کانگریس اور ہوم رول لیگ سے باضابطہ استعفیٰ دے دیا، اور اپنی توجہ مکمل طور پر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر مرکوز کر دی۔
چودہ نکات
1928ء کی نہرو رپورٹ میں جداگانہ انتخاب اور مسلمانوں کے آئینی تحفظات کو یکسر مسترد کیے جانے کے بعد، جناح نے مارچ 1929ء میں دہلی اجلاس کے دوران اپنے تاریخی چودہ نکات پیش کیے۔
ان نکات کا بنیادی مقصد ہندوستان کے مجوزہ وفاقی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری، اقلیتوں کے تناسب کی پاسداری اور مرکزی مقننہ میں مسلمانوں کی ایک تہائی نمائندگی کو آئینی تحفظ فراہم کرنا تھا۔
لندن میں قیام
1930ء سے 1934ء کے دوران برصغیر کی سیاست میں ہندو مسلم عدم اتفاق سے دلبرداشتہ ہو کر جناح لندن میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے پریوی کونسل میں اپنی قانونی پریکٹس جاری رکھی۔
وہ لندن میں منعقدہ پہلی دو گول میز کانفرنسوں میں شریک رہے، تاہم اس دوران برصغیر میں ان کی عملی سیاست کا تسلسل وقتی طور پر منقطع رہا۔ 1931ء میں ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ہمراہ لندن پہنچیں اور گھریلو و ذاتی انتظام کی ذمہ داری سنبھالی۔
مسلم لیگ کی تنظیمِ نو
علامہ محمد اقبال اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے اصرار پر جناح 1934ء میں مستقل طور پر ہندوستان لوٹے اور مسلم لیگ کے تاحیات صدر منتخب ہوئے۔
1937ء کے صوبائی انتخابات میں پارٹی کی کمزور کارکردگی کے بعد جناح نے تنظیم کو نچلی سطح پر ازسرنو منظم کیا۔ رکنیت سازی کو عوام کے لیے آسان بنایا، فیس گھٹا کر دو آنے کی اور ورکنگ کمیٹی کو متحرک کر کے مسلم لیگ کو خواص کی بیٹھک سے نکال کر عوامی تحریک بنا دیا۔
اقبال اور جناح
1936ء اور 1937ء کے دوران علامہ محمد اقبال اور جناح کے مابین ہونے والی مسلسل خط و کتابت نے جناح کی سیاسی حکمتِ عملی اور فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اقبال نے برصغیر کے شمال مغربی اور شمال مشرقی خطوں میں مسلمانوں کی جداگانہ قومیت اور خودمختار ریاستوں کی ضرورت پر زور دیا، جسے آگے چل کر جناح نے ایک منظم سیاسی منشور اور آئینی مطالبے کی شکل میں ڈھال دیا۔
قراردادِ لاہور
ستمبر 1939ء میں دوسری جنگِ عظیم کے آغاز پر کانگریسی وزارتوں نے استعفیٰ دے دیا، جس کے جواب میں مسلم لیگ نے یومِ نجات منایا اور مسلمانوں کے مطالبات کو کھل کر سامنے لانے کی راہ ہموار ہوئی۔
23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے دوران تاریخی قرارداد منظور ہوئی، جسے بعد میں “قراردادِ پاکستان“ کہا گیا۔
اس قرارداد میں دو ٹوک مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے جغرافیائی طور پر متصل مسلم اکثریتی خطوں کو خودمختار اور خود مختار ریاستوں کے طور پر یکجا کیا جائے اور اقلیتوں کے تمام حقوق کو قانونی تحفظ دیا جائے۔
تحریکِ پاکستان
1940ء سے 1947ء تک جناح نے برصغیر کے طول و عرض میں مسلم قومیت کے تشخص کو ایک بھرپور عوامی تحریک بنا دیا۔
1942ء میں کرپس مشن کی ناکامی کے بعد جب کانگریس نے “ہندوستان چھوڑ دو“ تحریک شروع کی، تو جناح نے برطانوی حکومت کو “تقسیم کرو اور رخصت ہو جاؤ” (Divide and Quit) کا واضح نعرہ دیا۔
1944ء کے گاندھی جناح مذاکرات کے دوران جناح نے دو قومی نظریے پر غیر متزلزل مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسلمان صرف ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر اعتبار سے ایک الگ قوم ہیں۔
1945-46ء کے انتخابات
1945ء کے مرکزی اور 1946ء کے صوبائی انتخابات نے مسلم لیگ کی عوامی مقبولیت پر آخری مہر ثبت کر دی۔
مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی تمام تر 30 مسلم نشستیں بھاری اکثریت سے جیتیں اور صوبائی سطح پر 87 فیصد کے قریب مسلم حلقوں میں فتح حاصل کی، جس نے کانگریس کے اس دعوے کی نفی کر دی کہ وہ تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔
کیبنٹ مشن پلان
1946ء میں برطانوی حکومت نے تین وزراء پر مشتمل کیبنٹ مشن دہلی بھیجا، جس نے ہندوستان کو تین جغرافیائی گروپوں (A, B, C) میں تقسیم کر کے ایک ڈھیلا ڈھالا وفاق تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔
جناح اور مسلم لیگ نے گروپنگ اسکیم کی ضمانت پر اس پلان کو مشروط قبول کیا، لیکن جواہر لعل نہرو کی پریس کانفرنس اور کانگریس کی تشریحی قلابازیوں کے بعد مسلم لیگ نے منظوری واپس لیتے ہوئے 16 اگست 1946ء کو “راست اقدام” (Direct Action Day) منانے کا اعلان کیا۔
قیامِ پاکستان
جون 1947ء میں آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیمِ ہند کا منصوبہ پیش کیا، جس کے نتیجے میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے ساتھ ساتھ آزاد پاکستان کے قیام کی منظوری طے پائی۔
7 اگست 1947ء کو جناح نئی دہلی سے کراچی پہنچے۔ 11 اگست کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ریاست کے تمام شہریوں کے لیے بلا تفریق مذہب و عقیدہ مساوی حقوق اور مکمل مذہبی آزادی کا اعلان کیا۔
14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر نقشے پر ابھرا اور محمد علی جناح نے بحیثیت پہلے گورنر جنرل حلف اٹھایا۔
گورنر جنرل پاکستان
آزادی کے ابتدائی ایام نومولود ریاست کے لیے شدید بحران اور کٹھن آزمائشوں کا دور تھے۔ سرحد کے دونوں طرف برپا ہونے والے فسادات اور تاریخ کی سب سے بڑی جبری ہجرت کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر افراد کی بحالی جناح کی اولین ترجیح بنی۔
انفراسٹرکچر، اثاثہ جات کی عدم منتقلی اور مالی وسائل کی قلت کے باوجود انہوں نے سرکاری مشینری کو منظم کیا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بنیاد رکھی اور افواجِ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو سنبھالا دیا۔
کشمیر اور دیگر ریاستیں
قیامِ پاکستان کے بعد شاہی ریاستوں کے الحاق کا سنگین تنازع پیدا ہوا۔ جوناگڑھ اور مناوادر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو بھارت نے زبردستی عسکری کارروائی کے ذریعے ختم کر دیا، جبکہ حیدرآباد دکن پر بھی پولیس ایکشن کیا۔
ریاست جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کے باوجود راجہ ہری سنگھ کے متنازع اقدام پر تنازع کھڑا ہوا، جس کے نتیجے میں 1947–48ء کی پہلی پاک بھارت جنگ چھڑ گئی اور کشمیر کا تنازع اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے تک پہنچ گیا۔
پاکستان کے مستقبل کے بارے میں جناح کا تصور
فروری 1948ء میں امریکی عوام سے اپنے ریڈیو خطاب میں قائدِ اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئین عوام کی منتخب جمہوری اسمبلی بنائے گی اور یہ جمہوری بنیادوں پر ہوگا جس کی روح اسلام کے مساوات، انصاف اور انسانی وقار کے اصولوں پر استوار ہوگی۔
مارچ 1948ء میں ڈھاکہ کے جلسے میں انہوں نے جغرافیائی و ثقافتی انتشار سے بچاؤ کی خاطر اردو کو پاکستان کی رابطہ اور قومی زبان قرار دیا، جس پر بعد ازاں مشرقی پاکستان کی سطح پر گہرے لسانی و سیاسی اختلافات نے جنم لیا۔
بیماری
جناح طویل عرصے سے تپِ دق (ٹی بی) اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن تحریکِ آزادی کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر انہوں نے اس کا راز زندگی بھر عوام اور سیاسی حریفوں سے پوشیدہ رکھا۔
1948ء کے وسط میں شدید تنظیمی و ریاستی مشقت کی وجہ سے ان کی طبیعت تیزی سے بگڑی، جس کے بعد وہ معالجین کے مشورے پر کوئٹہ اور زیارت ریذیڈنسی میں مقیم رہے۔ وہاں ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش کی زیرِ نگرانی ان کا مسلسل علاج چلتا رہا۔
وفات
ستمبر 1948ء کے اوائل میں قائدِ اعظم کو شدید نمونیا نے آن گھیرا جس کے باعث انہیں ہنگامی بنیادوں پر 11 ستمبر کو ماری پور ایئرپورٹ کراچی لایا گیا۔
کراچی ایئرپورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس منتقلی کے دوران بدقسمتی سے ان کی ایمبولینس راستے میں خراب ہو گئی اور دوسری گاڑی کی آمد تک حبس میں طویل انتظار کرنا پڑا۔ اسی روز، 11 ستمبر 1948ء کو رات 10:20 بجے بابائے قوم داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
تدفین
قائدِ اعظم محمد علی جناح کو 12 ستمبر 1948ء کو کراچی میں ریاستی اعزاز کے ساتھ لاکھوں اشکبار آنکھوں کے سامنے سپردِ خاک کیا گیا، اور دنیا بھر میں سرکاری سوگ منایا گیا۔
بعد ازاں ان کی آخری آرام گاہ پر سفید سنگِ مرمر سے “مزارِ قائد“ تعمیر کیا گیا، جو آج پاکستان کی پہچان اور قومی یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔
بعد از وفات
جناح کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے “مادرِ ملت“ کے روپ میں ان کی فکری و جمہوری میراث کا پرچم تھامے رکھا، اور 1965ء کے صدارتی انتخابات میں متحدہ حزبِ اختلاف کی طرف سے فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف تاریخی جمہوری معرکہ لڑا۔
پاکستان کے قومی و سیاسی منظرنامے میں قائدِ اعظم کی تقاریر، 11 اگست کا صدارتی خطبہ، اور آئینی و جمہوری اصول آج بھی ملک کے فکری و ریاستی سمت کے تعین کے لیے بنیادی رہنما اصول شمار کیے جاتے ہیں۔
حوالہ جات
-
بولیتھو، ہیکٹر (1954ء)، جناح: کریئیٹر آف پاکستان، جان مرے، لندن۔
-
وولپرٹ، اسٹینلے (1984ء)، جناح آف پاکستان، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس۔
-
جلال، عائشہ (1985ء)، دی سول اسپوکزمین: جناح، دی مسلم لیگ اینڈ دی ڈیمانڈ فار پاکستان، کیمبرج یونیورسٹی پریس۔
-
احمد، اکبر ایس (1997ء)، جناح، پاکستان اینڈ اسلامک آئیڈنٹیٹی: دی سرچ فار صلاح الدین، روٹلیج۔
-
الٰہی بخش، کرنل (1978ء)، ود دی قائد: آخری ایام کی داستان، فیروز سنز، لاہور۔
-
رضوی، ڈاکٹر حسن عسکری (2000ء)، دی ملٹری اینڈ پولیٹکس ان پاکستان، سنگِ میل پبلیکیشنز، لاہور۔





