Profile
مس حنا ارشد تارڑ
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کی سینئر افسر اور ڈپٹی کمشنر خانیوال
مس حنا ارشد تارڑ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کی ایک باصلاحیت، فرض شناس اور قابلِ احترام افسر ہیں، جو اس وقت ڈپٹی کمشنر خانیوال کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ ضلع منڈی بہاؤالدین، خصوصاً تحصیل پھالیہ کے لیے باعثِ فخر شخصیت ہیں اور انہیں ضلع منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
مس حنا ارشد تارڑ کا تعلق گاؤں ساہن پال، تحصیل پھالیہ، ضلع منڈی بہاؤالدین سے ہے، جبکہ ان کا سسرال سیرے شریف میں ہے۔
ان کے والد مرحوم محمد ارشد تارڑ گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری (بعد ازاں ہائر سیکنڈری) سکول پھالیہ کے ریٹائرڈ پرنسپل تھے، جنہیں علاقے میں ایک بہترین معلم، منتظم اور باکردار شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا خاندان تعلیم، دیانت اور عوامی خدمت کی روشن روایت کا حامل ہے۔
تعلیم
مس حنا ارشد تارڑ نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد:
- کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن مکمل کی۔
- بعد ازاں ماسٹرز (MS) میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔
- دورانِ تعلیم ہی پہلی کوشش میں CSS 2013 کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔
- 42ویں کامن ٹریننگ پروگرام (42nd CTP) میں شمولیت اختیار کی۔
- بعد ازاں برطانیہ سے Chevening Scholarship کے تحت اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔
سرکاری خدمات
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے مختلف اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں:
- ڈپٹی سیکرٹری (اسٹیبلشمنٹ)، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD)
- ایڈیشنل سیکرٹری، محکمہ صحت و بہبودِ آبادی، حکومتِ پنجاب
- ڈپٹی کمشنر خانیوال
شامل ہیں۔
انتظامی خصوصیات
محترمہ حنا ارشد تارڑ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں:
- شفاف طرزِ حکمرانی
- میرٹ کی بالادستی
- مؤثر انتظامی اصلاحات
- عوامی خدمت
- قانون کی عملداری
- خواتین کی قیادت کے فروغ
جیسے اصولوں پر کاربند سمجھی جاتی ہیں۔
خاندانی اعزاز
ان کا خاندان علمی اور انتظامی میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی چھوٹی بہن بھی مقابلے کا امتحان کامیابی سے پاس کر کے اسسٹنٹ کمشنر منتخب ہو چکی ہیں، جو اس خاندان کی تعلیمی روایت کا مظہر ہے۔
اعزاز
مس حنا ارشد تارڑ کو ضلع منڈی بہاؤالدین کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جو ضلع بھر خصوصاً خواتین کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت، قابلیت اور عزم کے ذریعے قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی نوجوان نسل، خصوصاً طالبات کے لیے علم، محنت، دیانت اور عوامی خدمت کا ایک روشن نمونہ ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






