منڈی بہاؤالدین کا مشہور لمبا خاندان: سردار گورمکھ سنگھ لمبا آف کھیوا کی تاریخ
سردار گورمکھ سنگھ لمبا: مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بااعتماد جرنیل
پنجاب کی تاریخ میں منڈی بہاؤالدین کے تاریخی گاؤں کھیوا سے تعلق رکھنے والا لمبا خاندان اپنی عسکری خدمات، وفاداری اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس خاندان کے بانی سردار گورمکھ سنگھ لمبا تھے، جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے قابلِ اعتماد جرنیلوں اور درباری امراء میں شمار ہوتے تھے۔ سکھ سلطنت کے قیام اور اس کی توسیع میں ان کی خدمات کو تاریخی حوالوں میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، جبکہ ضلع گجرات، پھالیہ، روہتاس اور منڈی بہاؤالدین کے متعدد علاقوں میں انہیں وسیع جاگیریں بھی عطا کی گئیں۔
ابتدائی زندگی
سردار گورمکھ سنگھ کا تعلق منڈی بہاؤالدین کے قدیم گاؤں کھیوا سے تھا۔ ان کے والد پردھان سنگھ پیشے کے اعتبار سے دکاندار تھے اور دریائے جہلم کے کنارے آباد علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ روایت کے مطابق جب سکرچکیہ مثل کے سربراہ سردار مہان سنگھ پنڈ دادن خان کی مہم سے واپس لوٹ رہے تھے تو گورمکھ سنگھ کے چچا باستا رام، جو خود بھی سکرچکیہ فوج میں خدمات انجام دیتے تھے، نے کم عمر گورمکھ سنگھ کو مہان سنگھ کے سامنے پیش کیا۔ ان کی ذہانت، حاضر دماغی اور غیر معمولی جرات سے متاثر ہو کر مہان سنگھ انہیں اپنے ساتھ لے گئے، جہاں سے ان کی عسکری زندگی کا آغاز ہوا۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کے رفیق
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ابتدائی زندگی میں گورمکھ سنگھ کو ان کا ہم عمر ساتھی مقرر کیا گیا۔ دونوں ایک ساتھ پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ ان کے درمیان اعتماد اور وفاداری کا ایسا رشتہ قائم ہوا جو پوری زندگی برقرار رہا۔ جب رنجیت سنگھ نے پنجاب میں اپنی حکومت قائم کی تو گورمکھ سنگھ کو نہ صرف اہم فوجی ذمہ داریاں سونپیں بلکہ متعدد جاگیریں اور اعزازات بھی عطا کیے۔ 1799ء میں لاہور کی فتح کے وقت وہ مہاراجہ کے ہمراہ تھے اور بعد ازاں انہیں سکرچکیہ سلطنت کے فوجی خزانے کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
جنگی خدمات
سردار گورمکھ سنگھ نے سکھ سلطنت کی تقریباً تمام بڑی فوجی مہمات میں حصہ لیا۔ انہوں نے قصور، جھنگ، سیالکوٹ، گورکھوں کے خلاف 1809ء کی مہم، 1810ء میں ملتان کے محاصرے، ساہیوال اور خوشاب کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 1813ء میں اٹک کی تاریخی جنگ کے دوران انہوں نے ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے افغان افواج کے خلاف کامیاب کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کابل کے وزیر کی پیش قدمی روکی گئی۔ اس کے علاوہ کشمیر اور شمال مغربی سرحد کے کئی اہم معرکوں میں بھی وہ سکھ فوج کے نمایاں سپہ سالاروں میں شامل رہے۔
پندرہ مرتبہ زخمی ہونے والے جرنیل
گورمکھ سنگھ کی جنگی زندگی مسلسل خطرات سے بھرپور رہی۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ مجموعی طور پر پندرہ مرتبہ میدانِ جنگ میں زخمی ہوئے۔ ان میں آٹھ مرتبہ گولیاں لگیں، تین مرتبہ تلوار کے وار آئے، تین مرتبہ نیزے لگے اور ایک مرتبہ تیر کا زخم برداشت کیا۔ ان قربانیوں نے انہیں سکھ سلطنت کے بہادر ترین فوجی رہنماؤں میں شامل کر دیا۔
جاگیریں اور اعزازات
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد جاگیریں عطا کیں۔ لاہور کی فتح سے قبل انہیں پنڈی لالہ، تحصیل پھالیہ اور شادی وال کی جاگیریں دی گئیں، جبکہ بعد ازاں ڈنگہ اور روہتاس کی اہم جاگیریں بھی ان کے سپرد کی گئیں۔ 1807ء میں قصور کی مہم کے دوران مرادہ کا قلعہ فتح کرنے اور شدید زخمی ہونے کے باوجود میدان نہ چھوڑنے پر انہیں مزید بیاسی ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی گئی۔ بعد میں سردار نور چمیاری والا کی وفات کے بعد ان کی فوج اور جاگیر کا بڑا حصہ بھی گورمکھ سنگھ کے حوالے کر دیا گیا۔ ایک وقت ایسا آیا جب ان کی جاگیروں سے سالانہ آمدنی تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جو اس دور میں غیر معمولی حیثیت رکھتی تھی۔
ڈوگرہ راجاؤں سے اختلافات
سردار گورمکھ سنگھ کی زندگی کا ایک اہم پہلو جموں کے ڈوگرہ حکمرانوں، خصوصاً راجہ گلاب سنگھ اور راجہ دھیان سنگھ کے ساتھ سیاسی اختلافات تھے۔ ان تنازعات کے باعث وقتاً فوقتاً ان کی کئی جاگیریں ضبط کی گئیں۔ 1832ء میں بنوں کی مہم کے دوران انہوں نے شکست کے باوجود دشمن سے توپ واپس حاصل کر کے اپنی بہادری کا ایک اور ثبوت دیا، مگر سیاسی مخالفت ختم نہ ہو سکی۔ 1836ء میں روہتاس کی جاگیر بھی ان سے واپس لے لی گئی۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفاداری کا اعتراف
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنی وفات سے قبل گورمکھ سنگھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور اپنے جانشین مہاراجہ کھڑک سنگھ کو ہدایت دی کہ ان کی جاگیریں بحال کی جائیں کیونکہ انہوں نے پوری زندگی ریاست کی بے لوث خدمت کی ہے۔ تاہم سیاسی حالات کے باعث وہ اپنی تمام سابقہ جاگیریں دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ بعد ازاں مہاراجہ شیر سنگھ نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں مزید جاگیریں عطا کیں، اور برطانوی دور کے آغاز تک ان کے پاس سالانہ چھتیس ہزار چھ سو روپے آمدنی کی جاگیر موجود تھی۔
برطانوی دور اور لمبا خاندان
1847ء میں سردار گورمکھ سنگھ کو سردار بر سنگھ مکیریاں کے ساتھ رانی جنداں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انہوں نے وفاداری سے نبھایا۔ 1850ء میں برطانوی حکومت نے ان کی ذاتی جاگیریں بحال کر دیں اور ان کے خاندان کے لیے موروثی جاگیر کا بھی انتظام کیا۔ بعد میں سردار اتار سنگھ اور ان کی اولاد ضلع گجرات اور ضلع شاہ پور میں بڑی جاگیروں کے مالک رہے۔ پنڈی لالہ، قلعہ سردار اتار سنگھ، چک بساوا، دوبرجی، کوٹ ستار اور نوشہرہ سمیت متعدد علاقے اس خاندان کے زیرِ انتظام رہے۔
لمبا خاندان کی سماجی حیثیت
سردار اتار سنگھ کے بعد ان کے بیٹے سردار ہری سنگھ اور سردار گیان سنگھ نے خاندانی جاگیروں کی نگرانی سنبھالی۔ سردار ہری سنگھ ضلع گجرات کے ممتاز زمینداروں اور معزز شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ نائب تحصیلدار بھی رہے، بعد ازاں ڈسٹرکٹ بورڈ گجرات کے رکن بنے اور مقامی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی رہائش تحصیل پھالیہ کے قریب واقع قلعہ سردار اتار سنگھ میں تھی، جو آج بھی اس خاندان کی تاریخی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
لمبا خاندان کی تاریخ پنجاب کی عسکری، سیاسی اور سماجی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ سردار گورمکھ سنگھ لمبا نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں جس وفاداری، بہادری اور انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، اس کے باعث انہیں سکھ سلطنت کے ممتاز جرنیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی خدمات اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ منڈی بہاؤالدین، ضلع گجرات، پھالیہ اور روہتاس سمیت وسیع علاقے میں کئی دہائیوں تک برقرار رہا، جس کی جھلک آج بھی پنجاب کی مقامی تاریخ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
Leave a Reply