Battle of Chillianwala – Mandi Bahauddin

Muzammal Hussain Cheema October 23, 2025 1 min read
تاریخ کا خونی موڑ، بہادری اور قربانی کی لازوال داستان
جنگ چلیانوالہ (Battle of Chillianwala) منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے علاقے چلیانوالہ میں 13 جنوری 1849ء کو لڑی گئی — یہ جنگ دوسری اینگلو سکھ وار (Second Anglo-Sikh War) کی سب سے خوفناک اور خونریز لڑائیوں میں سے ایک تھی۔
یہ معرکہ سکھ فوج اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہوا، جس میں دونوں جانب سے شدید جانی نقصان ہوا اور جنگ کے اختتام پر دونوں فوجوں نے اپنی فتح کا دعویٰ کیا۔
یہ جنگ نہ صرف برطانوی فوجی عزت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی بلکہ اس نے برصغیر میں انگریزوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر بھی عارضی روک لگا دی۔
📜 تاریخی پس منظر:
1848 میں دوسری اینگلو سکھ جنگ کی شروعات ملتان بغاوت سے ہوئی، جب دیوان مولراج نے برطانوی عملداری کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔
اسی دوران شیر سنگھ اٹاری والا اور ان کے والد چتر سنگھ اٹاری والا نے بھی انگریزوں کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا۔
انگریز کمشنر فریڈرک کری نے بغاوت دبانے کے لیے فوجیں روانہ کیں، لیکن جلد ہی حالات ان کے قابو سے باہر ہو گئے۔
دوسری جانب، لارڈ ڈلہوزی اور جنرل سر ہیو گاف (Sir Hugh Gough) نے پنجاب میں ایک بڑی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تاکہ سکھ مزاحمت کو ختم کیا جا سکے۔
⚔️ جنگ چلیانوالہ کا آغاز:
13 جنوری 1849 کو برطانوی فوج جب رسول (منڈی بہاؤالدین) کے قریب پہنچی تو اسے شیر سنگھ کی فوج کا سامنا ہوا۔
دونوں افواج نے چلیانوالہ گاؤں کے قریب محاذ سنبھالا۔
شیر سنگھ کی فوج میں اندازاً 23,000 سے 30,000 سپاہی اور 60 توپیں شامل تھیں، جبکہ برطانوی فوج میں تقریباً 20,000 سپاہی اور 66 توپیں موجود تھیں۔
ابتدائی گولہ باری کے بعد جنرل گاف نے بغیر تیاری کے حملے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں برطانوی بریگیڈز گھنے جنگلوں میں بکھر گئیں۔
24ویں فٹ رجمنٹ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، اور ان کے تقریباً آدھے سپاہی مارے گئے۔
💥 نتیجہ اور اثرات:
اس جنگ میں برطانوی فوج کے 2,512 سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے، جن میں تقریباً 1,000 برطانوی اور باقی ہندوستانی سپاہی تھے۔
سکھوں کے تقریباً 4,000 جوان شہید ہوئے۔
جنگ کے بعد دونوں افواج اپنی اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں۔
انگریزوں نے وقتی طور پر پیچھے ہٹ کر خود کو محفوظ کیا جبکہ سکھ فوج نے بھی خوراک کی قلت کے باعث شمال کی جانب پسپائی اختیار کی۔
اس جنگ نے انگریزوں کے “ناقابلِ شکست” ہونے کے تاثر کو شدید نقصان پہنچایا، اور اسے برطانوی تاریخ کی شرمناک ترین فوجی ناکامیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
🕊️ یادگار اور تاریخی اہمیت:
چلیانوالہ کے مقام پر ایک یادگار (Obelisk Monument) آج بھی قائم ہے، جس پر برطانوی افسران اور سپاہیوں کے نام کندہ ہیں۔
یہ یادگار آج بھی اس جنگ کی شدت، بہادری اور قربانی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
چلیانوالہ کی جنگ کو بعد میں 1857 کی جنگِ آزادی کے پس منظر میں ایک اہم محرک سمجھا گیا، کیونکہ اس نے ہندوستانیوں میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا کیا۔
چلیانوالہ، تحصیل پھالیہ، ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
🏷️ تاریخی اہم نکات:
لڑی گئی: 13 جنوری 1849ء
مقام: چلیانوالہ (منڈی بہاؤالدین)
فریقین: برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی بمقابلہ سکھ سلطنت
نتیجہ: دونوں فریقین کا دعویٰ فتح
برطانوی سپاہیوں کی ہلاکت: 2,512
سکھوں کی ہلاکت: 4,000 کے قریب
Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *