کبھی شغال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے
کہیں غزال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے
ترے جمال کو غزلوں میں ڈَھال دیتی ہُوں
مگر جَلال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے
ہر اِک خیال کو ہم شعر کر نہیں سکتے
کِسی خیال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے
ہماری چَال پہ نُکتہ اُٹھائے جب دُنیا
تب اِس کی چَال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے
ہمیں اُچھالنا پڑتا ہے پہلے نام کوئی
پِھر اُس اُچھال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے
صحافی چاہتے ہیں بات ہو پرندوں کی
اور اُن کو جال پہ مَضمُون لِکھنا پڑتا ہے