ہم آسماں کے سفر پر تھے رات بھر دونوں

نیلم ملک

نیلم ملک

تخلیق کار

ہم آسماں کے سفر پر تھے رات بھر دونوں
ہُوئی سَحَر تو ملے اپنے اپنے گھر دونوں

خُدا سے آپ کو، خُود سے ملا دیا ہے مُجھے
کہ چاہتے تھے ہم اس ہجر سے مَفَر دونوں

نہ عشق ہی کا ٹھکانہ نہ کوئی وحشت کا
سو میرے دل میں بنائیں گے اپنا گھر دونوں

ہے میری ذات کا زنداں عجب طلسم کدہ
کہ ایک جیسے ہیں دِیوار اور دَر دونوں

جو دیکھ لیں ہمیں دیرینہ آشنا تو کہیں
کہ پُرشِکوہ محل ہو گئے کھنڈر دونوں

زمیں سے بُھول کے رَستہ فلک پہ آ پہنچے
سو کہکشاؤں میں ٹھہریں گے تا سَحَر دونوں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top