یہ خاک ہے جو شفا کی تو کی نہیں تو نہیں

امان اللہ خان امان

امان اللہ خان امان

تخلیق کار

یہ خاک ہے جو شفا کی تو کی نہیں تو نہیں
اگر بہ امرِ خدا کی تو کی نہیں تو نہیں

وہ بے نیاز فقیری ادا بھی رکھتے ہیں
ہمارے حق میں دعا کی تو کی نہیں تو نہیں

مجھے نہیں ہے شکایت کوئی زمانے سے
کسی نے مجھ سے وفا کی تو کی نہیں تو نہیں

جدائیوں کا کوئی اجر تو نہیں ہوتا
نماز ہجر ادا کی تو کی نہیں تو نہیں

بہت ہے خلقِ خدا اُس کی کبریائی کو
خدا کی تُو نے ثناء کی تو کی نہیں تو نہیں

پڑی ہوئی ہے چٹائی پہ خلعت درویش
دعا کے ساتھ عطا کی تو کی نہیں تو نہیں

یہ دورِ عشرت و آسودگی ہے اس لیے بھی
حیا کا کیا ہے حیا کی تو کی نہیں تو نہیں

ہَمِیں کو کرنا ہے طے یہ مسافتِ درپیش
کسی نے سر پہ گھٹا کی تو کی نہیں تو نہیں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top