اگرچہ وقت میسر نہیں ہے راتوں میں

تسلیم اکرام

تسلیم اکرام

تخلیق کار

اگرچہ وقت میسر نہیں ہے راتوں میں
تمھاری یاد خلل ڈالتی ہے کاموں میں

میں ناچتی ہوں تری یاد کی پہن زنجیر
کہ تیری یاد اذیت نہیں ہے پاؤں میں

شکستہ حال مجھے دیکھ کر مری ماں نے
سسکتے گالوں پہ بوسہ دیا تھا راہوں میں

نکال کر دلِ کم بخت سے تری تصویر
میں جشنِ عشق مناؤں گی چاند راتوں میں

کوئی کہیں سے پُکارے تو مَیں بھی پہچانوں
ہمارا کون ہے ان پر خطر خلاؤں میں

یہاں پہ کوئی بھی ہم سر نہیں رہا تسلیمؔ
اکیلی گھوم رہی ہوں میں سرد راتوں میں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top