اور کیا کچھ جناب توڑیں گے - فائنڈورا ادب

اور کیا کچھ جناب توڑیں گے

زیب النساء واثق

تخلیق کار

اور کیا کچھ جناب توڑیں گے
یہ تو طے ہے کہ خواب توڑیں گے

آپ کانٹے قریب کر لیں گے
شاخ سے جب گلاب توڑیں گے

باغیوں میں نشہ بغاوت کا
بوتلوں میں شراب توڑیں گے

چھین کر خواب ننھی آنکھوں کے
گولیوں سے رباب توڑیں گے

خود سے نظریں چُرا رہے ہیں جو
آئنے بے حساب توڑیں گے

کب خبر تھی کہ گورے غارت گر
ایک دن پنج آب توڑیں گے

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top