یگانگی و خرد کے علوم میں گھرے لوگ - فائنڈورا ادب

یگانگی و خرد کے علوم میں گھرے لوگ

مزمل حسین چیمہ

تخلیق کار

یگانگی و خرد کے علوم میں گھرے لوگ
ہم ایسے لوگ مزملؔ ہجوم میں گھرے لوگ

ہوائے شہر نے ایسا مزاج بدلا ہے
کہیں پناہ نہ پائیں سموم میں گھرے لوگ

فلک کی سمت تکیں اور راستے بھولیں
یہ چند لوگ نگاہِ نجوم میں گھرے لوگ

کہاں سے لائیں وہ بے ساختہ ہنسی لب پر
تکلفاتِ جہان و رسوم میں گھرے لوگ

تلاشِ رزق نے چھینا ہے جن کا چین و سکوں
یہ صرف مال و متاع و رقوم میں گھرے لوگ

انہیں خواص کی محفل میں کون پوچھے گا
ہمیشہ رہتے ہیں یہ جو عموم میں گھرے لوگ

گلوئے خشک سے اترے گا کیا عذاب کا گھونٹ
ستم کی آگ کے پیڑِ زقوم میں گھرے لوگ

نشاطِ زیست کی ان کو رمق نہیں ملتی
یہ روز و شب کے مسلسل ہموم میں گھرے لوگ

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top